صدر پاکستان کے کون سے اختیارات ملک کو مفلوج بنا سکتے ہیں؟

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے قریبی ساتھی دندان ساز عارف علوی نے بلا شبہ صدر مملکت کے عہدے کو اتنا ہی نقصان پہنچایا ہے جتنا غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری نے پہنچایا تھا۔ انہوں نے حکومت کو کام کرنے سے روکنے اور ملک کے نظام کو مفلوج بنانے کے لئے ہر آئینی حربہ استعمال کیا ہے. پاکستان کی سیاست میں ایک دفعہ پھر یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ صدر مملکت کے پاس اب بھی جو اختیارات ہیں وہ ملک کے سیاسی نظام اور پارلیمان کی طاقت کو کمزور کر سکتے ہیں۔ اس لیے اگر ملک میں پارلیمانی نظام کو چلانا ہے تو صدر کے باقی اختیارات کو بھی ختم کرنا ہوگا. ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار مزمل سہروردی نے اپنی ایک تحریر میں کیا ہے .وہ لکھتے ہیں کہ آج لوگوں کو یہ تو یاد ہوگیا ہے کہ صدر مملکت ایک بل کو کتنے دن روک سکتے ہیںاور پھر واپس بھیج سکتے ہیں۔ بل پھر سے آجائے تو مزید کتنے دن تک روک سکتے ہیں۔ کسی کو یہ یاد نہیں کہ صدر کیا مثبت کام کر سکتا ہے۔ لیکن صدر عارف علوی نے سب کو یہ یاد کروا دیا ہے کہ صدر کون کون سا منفی کام کر سکتا ہے. یقینا اب پاپولر سیاسی جماعتوں کی یہ سوچ ہو گی کہ صدر کے ان منفی اختیارات کو کیسے ختم کیا جائے۔ کیا یہ سوال اہم نہیں کہ کیا صدر عارف علوی نے تحریک انصاف کی حکومت میں کبھی کسی قانون پر کوئی اعتراض کیا تھا؟ کیا کبھی کسی تعیناتی کو ایک دن کے لیے بھی روکا تھا؟ کیا تحریک انصاف کے دور حکومت میں انھوں نے ایوان صدر میں آرڈیننس فیکٹری نہیں لگائی ہوئی تھی؟ کیا کپتان کے دور میں انھوں نے کبھی کسی چیز پر اعتراض کرنے کی جرات بھی کی تھی بلکہ انھوں نے کپتان کے کہنے پر غیر آئینی طور پر پارلیمان توڑ دی تھی۔ حالانکہ بطور صدر مملکت انھیں علم تھا کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد وزیر اعظم اسمبلی نہیں توڑ سکتا۔ لیکن انھوں نے کپتان کے غیر آئینی اقدام کی بھی توثیق کر دی۔ مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ جو کردار آج عارف علوی ادا کر رہے ہیں ایسا کردار وہ کپتان کی حکومت میں ادا نہیں کر رہے تھے ۔ صدر مملکت کا کردار اور ان کا کنڈکٹ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ ان کے ہر عمل کو سیاست کے تناظر میں دیکھا جائے۔ وہ پاکستان کے سپریم کمانڈر ہیں لیکن نو مئی کے ملزمان کے ساتھ بھی انھیں ہمدردی ہے۔ ان کی سہولت کے لیے بھی وہ جو کچھ کرسکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ وہ آئینی طور پر اداروں کے محافظ بھی ہیں لیکن اداروں کے خلاف مہم روکنے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ صدر عارف علوی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے بل کو واپس بھیجا تھا یا نہیں بھیجا تھا۔ توثیق کی تھی یا نہیں کی تھی۔ اس حوالے سے یہ تنازعہ تو چل ہی رہا ہے۔ لیکن اب یہ قانون بن چکے ہیں‘ اب ان کو ختم کرنے کے لیے واحد راستہ سپریم کورٹ ہی ہے۔ اس سرے تناظر میں کئی سوالات جواب طلب ہیں مثلاّ کیا صدر عارف علوی وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے تھے؟ کیا اب انھوں نے جانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور جاتے جاتے وہ سیاسی شہید بننا چاہتے ہیں؟ کیا وہ واقعی سیاسی شہید بن جائیں گے؟ کیا وہ مستعفی ہونے جا رہے ہیں یا وہ اپنی مدت پوری ہونے پر گھر جائیں گے؟ کیا وہ اپنی مدت پوری ہونے کے بعد بھی صدر رہیں گے؟یہ سب سوال کوئی اہم نہیں ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ صدر مملکت کے اختیارات اب بھی ملک کے سیاسی نظام اور پارلیمان کی طاقت کو کمزور کر سکتے ہیں۔ مزمل سہروردی کے مطابق اطلاعات یہ ہیں کہ اب صدر مملکت کے باقی اختیارات کو بھی ختم کرنے کے بارے میں بات شرو ع ہو گئی ہے۔جیسے پہلے اختیارات ختم کیے گئے تھے‘ اب باقی اختیارات بھی ختم ہو جائیں گے . جیسے 58 ٹو بی کے معاملے پر ہم اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ اگر صدر مملکت کے پاس یہ اختیار رہتا ہے تو ملک میں جمہوری اور پارلیمانی نظام نہیں چل سکتا۔ اس لیے جمہوریت اور پارلیمانی نظام کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیار کو ختم کر دیا جائ اس کے بعد پارلیمان نے اپنی مدت پوری کرنی شروع کر دی ہے۔ بے شک وزیر اعظم گھر چلا جائے لیکن پارلیمان اپنی مدت پوری کرتی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیار کو ختم کر کے ملک میں جمہوریت اور پارلیمنٹ مضبوط ہوئی ہے۔ حالانکہ دنیا کے کئی ممالک میں صدر اور دیگر سربراہان کے پاس یہ اختیار موجود ہے۔ لیکن وہاں اس کو ایسے استعمال نہیں کیاگیا تھاجیسے پاکستان میں بالخصوص صدر غلام اسحاق خان نے استعمال کیا۔ لوگ سوال کرنے لگے کہ یہ کیا بات ہے کہ صدر جب دل چاہے اسمبلی اور حکومت کو گھر بھیج دے۔ پاکستان میں اس اختیار کے غلط استعمال کو ختم کرنے کی نہ صرف راہ ہموار کی بلکہ ختم کروا بھی دیا۔ مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ جب آپ اپنے اختیار سے ملک کے نظام حکومت اور نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش کریں تو اس اختیار کے جائز اور ناجائز ہونے کا سوال پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح صدر عارف علوی نے آئین میں دیے گئے اختیارات کا اتنا غلط اور ناجائز استعمال کیا ہے کہ اب سوال پیدا ہو گیا ہے کہ صدر کے پاس جو اختیارات ہیں کیا وہ بھی ختم نہیں کر دینے چاہیے۔۔ پاکستان کے آئین میں لکھا ہے کہ صدر مملکت کا عہدہ ایک غیر سیاسی عہدہ ہے۔ آپ وزیر اعظم بن کر بھی ایک سیاسی جماعت کے رکن اور سربراہ بھی ہو سکتے ہیں۔آپ سیاست کر سکتے ہیں۔لیکن صدر مملکت ہوتے ہوئے آپ کسی سیاسی جماعت کے رکن اور سربراہ نہیں ہو سکتے۔ بطور وزیر اعظم آپ سیاسی اجتماعات میں شرکت کر سکتے ہیں۔ لیکن صدر مملکت ہوتے ہوئے آپ سیاسی اجتماعات میں شرکت نہیں کر سکتے۔ آئین کا تقاضہ ہے کہ آپ صدر مملکت بن کر سیاست چھوڑ دیں۔ جیسے آپ چیف جسٹس یا جج بن کر سیاست نہیں کر سکتے۔ آرمی چیف یا فوج میں رہ کر سیاست نہیں کر سکتے۔ ایسے ہی آپ صدر بن کر سیاست نہیں کر سکتے۔۔ صدر کو تمام اختیارات یہی سمجھ کر دیے گئے ہیں کہ صدر مملکت ایک غیر سیاسی انسان ہیں۔ لیکن صدر عارف علوی آئین کی اس روح کو برقرار نہیں رکھ سکے۔ مزمل سہروردی کے مطابق آج سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر حکومت کی مخالف سیاسی جماعت کارکن ملک کا صدر بن جائے تو وہ حکومت کو کیسے ناکام کر سکتا ہے۔ وہ حکومت کو کام کرنے سے روکنے کے لیے کیا آئینی حربے استعمال کر سکتا ہے۔ وہ کس کس اہم تعیناتی کو کتنے دن تک روک کر ملک کے نظام کو مفلوج کر سکتا ہے۔ کاش صدر عارف علوی سیاست نہ کرتے۔ انھوں نے صدر کے عہدے کو دوبارہ متنازعہ بنا کر اسے کمزور کرنے کے لیے راہ ہموار کی۔ یہ ایک افسوسناک بات ہے۔ اختیارات کا غلط استعمال ان کو ختم کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے ‘یہی حقیقت ہے۔

Back to top button