نواز شریف کی وطن واپسی ، عرفان صدیقی نے کیا مشورہ دیا؟

سینئر صحافی اور سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ حالاتِ حاضرہ اور آنے والے دنوں کا تجزیہ کیا جائے تو مجھے لگتا ہے کہ میاں نواز شریف کو ستمبر کے اواخر یا اکتوبر کے آغاز میں پاکستان آنا چاہیے۔یہ تاثر غلط ہے کہ نواز شریف کی واپسی کسی کے جانے یا آنے سے جڑی ہے، ایک چیف جسٹس نے جانا ہے تو نئے نے آنا ہے، چیف جسٹس بدلتے ہیں لیکن آئین و قانون وہی رہتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی اول و آخر ترجیح پاکستان ہے۔مسلم لیگ ن نے پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کے لیے 18 ماہ اقتدار سنبھالا تو اس کی قیمت بھی ادا کی، یقیناً عوامی سطح پر جماعت کو نقصان پہنچا لیکن اگر عمران خان کی حکومت جاری رہتی تو ملک ڈیفالٹ کر چکا ہوتا۔ان کا کہنا تھا مارچ تک عام انتخابات ہوتے اور نواز شریف کو چوتھی بار ملک کا وزیراعظم بنتا دیکھ رہا ہوں۔
وی نیوز کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ 12 اکتوبر 1999 کا وہ دن مجھے آج بھی یاد ہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف سے صدر پاکستان رفیق تارڑ کو ملاقات کے لیے آنا تھا، بطور پریس سیکرٹری میری ذمہ داری تھی کہ ملاقات کی خبر بنائی جائے، تاہم خاصی تاخیر کے بعد وزیراعظم، صدر سے ملنے ان کے گھر آئے، ان کے ہاتھ میں ایک فائل تھی، کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اس فائل میں کیا ہے۔ ملاقات ہونے کے بعد خبر چلی کہ آرمی چیف کو بدل دیا گیا ہے اور فلاں آرمی چیف آ گئے ہیں۔اس اہم تبدیلی کا علم صدر پاکستان کو بھی نہیں تھا، کچھ ضروری امور کیلئے میں گھر سے باہر تھا تاہم جب واپس لوٹا تو مجھے انقلاب کے آثار دکھائی دیے، پارلیمنٹ ہاؤس سے ایک گیٹ ایوان صدر میں کھلتا ہے، وہاں کچھ فوجی کھڑے تھے، انہوں نے مجھے اندر جانے سے روک دیا تھا، میں نے کہا کہ اندر میرا گھر ہے، گھر والے ہیں، میں باہر کہاں رات گزاروں گا، اس پر فوجی نے کہا کہ اس کے لیے اجازت لینا پڑے گی، قصہ مختصر مجھے اجازت ملی میں گھر پہنچا تو سارے فون کیبلز کٹے پڑے تھے۔
کسی سے رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اس لیے میں صدرِ پاکستان کے ملٹری سیکرٹری ساہی صاحب کے پاس چلا گیا تاکہ کچھ تفصیلات معلوم ہو سکیں، وہ مجھے صدر رفیق تارڑ کے پاس لے گئے، وہاں گورنر سندھ ممنون حسین کا عشائیہ تھا، ہم وہاں بیٹھ گئے۔ اسی دوران صدر تارڑ کو جنرل پرویز مشرف کا فون آیا کہ آپ مجھ سے ملے بغیر کوئی بات یا فیصلہ نہ کریں۔ ہم صدر پاکستان سمیت کئی روز محاصرے کی کیفیت میں رہے۔
عرفان صدیقی کے مطابق صدر رفیق تارڑ نے مستعفی ہونے کا ارادہ کر لیا تھا اور مجھ سے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام ایک خط بھی لکھوایا تھا کہ وہ اس غیر آئینی اقدام کے خلاف نوٹس لیں۔ صدر اسی روز پریس کانفرنس کرکے استعفے کا اعلان بھی کرنے والے تھے کہ نواز شریف کے والد میاں شریف صاحب کا فون آیا اور انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ استعفی نہ دیں۔ پھر یوں رفیق تارڑ صاحب نے مزید کچھ سال ایوان صدر میں گزارے۔
عرفان صدیقی کے مطابق جن دنوں طاہرالقادری اور عمران خان نے ریڈ زون میں دھرنا دے رکھا تھا، ایک روز میں اور جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ وزیراعظم کے ہمراہ بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ ملٹری سیکرٹری اچانک گھبرائے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے اور کہا کہ دھرنے والے بلوائیوں نے وزیراعظم ہاؤس کے مرکزی داخلی گیٹ پر حملہ کر دیا ہے۔ اب وہاں سے آمد و روفت مشکل ہوگی، آپ کے لیے ہیلی کاپٹر تیار ہے، آپ لاہور چلے جائیں۔ میاں نواز شریف نے انتہائی اطمینان سے کہا برگیڈئیر صاحب آپ تشریف رکھیں اور چائے پیئیں، اس طرح وزیراعظم نہیں بدلتے، کہ وہ مجھے کرسی سے اٹھا کر اپنا بندہ بٹھا لیں گے، میں بھاگنے والا نہیں ہوں۔
جنرل مشرف سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ایوب خان، یحییٰ خان اور ضیاالحق کو قومی پرچم میں سُپردِ خاک کیا گیا لیکن پرویز مشرف کو آرٹیکل 6 کا سامنا کرنا پڑا، اس کا کریڈٹ تو آپ دیں مسلم لیگ (ن) کو ، آپ دیکھ لیں ہماری تاریخ آگے بڑھی ہے اور آگے بڑھے گی، یہ باب اب بند ہو گیا اور اب یہ کھلنے والا نہیں ہے۔ عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ اور ان کے دوستوں کا پراجیکٹ عمران خان کے ساتھ ظلم تھا۔ جب 2017 میں نوازشریف کو دھکا دیکر نکالا گیا تو اس وقت ملک ترقی کر رہا تھا، اب ہم بیٹھ کر ان کرداروں کو مطعون کر رہے ہیں تو یہ بھی ان کے لیے سزا ہے۔
