عمران نے اپنی پیرنی کو گھر سے کیسے بھگایا؟

ماضی میں دوران عدت عمران خان اور بشری بی بی المعروف پنکی پیرنی کے نکاح کی گواہی دینے والے کپتان کے سابق یار غار عون چودھری کا کہنا ہے کہ عمران خان اور بشری بی بی شادی سے پہلے بھی ملاقاتیں کرتے رہتے تھے، تاہم جب عمران خان نے اپنی مبینہ مرشد سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تو وہ یہ بات سن کر حیران رہ گئے تاہم وہ کچھ نہ کہہ سکے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’ ایک دن جیو کے ساتھ‘ میں میزبان سہیل وڑائچ کے سوال پر عون چوہدری نے عمران خان کی بشریٰ بی بی سے شادی کی خواہش کے بارے میں بتایا۔انہوں نے کہا کہ ’میں عمران خان کا ایک وفادار ساتھی تھا، انہوں نے مجھے بطور فیملی ممبر اور اچھا دوست سمجھا لیکن انہوں نے مجھے جب بتایا کہ وہ بشریٰ بی بی سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو مجھے حیرانی ہوئی، میں نے ان سے سوال کیا کہ کیا وہ خوش ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ جی !، اس کے بعد میں دونوں کی شادی میں بطور گواہ شریک ہوا‘۔
عون چوہدری نے کہا کہ ’عمران خان کے ہمراہ وہ شادی سے قبل بھی بشریٰ بی بی سے کئی بار مل چکے تھے، وہ بنی گالہ میں رہتی نہیں تھیں لیکن عمرا ن خان کی شادی سے قبل بشریٰ بی بی سے طویل ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں ، وہ کہتے تھے کہ میرا بشریٰ سے تعلق روحانیت کے حوالے سے ہے، عمران خان اس وقت ڈسٹرب تھے‘۔انہوں نے بتایا کہ جب عمران خان نے خھل۔کر اپنی مرشد بشری بی بی سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تو ’اس کے بعد میں انہیں کیا کہتا کیوں کہ عمران خان 62 سے 65 سال کے ہیں اور میں ان سے 15 سے 20 سال چھوٹا ہوں، ان سے کئی سال چھوٹا ہوتے ہوئے کیسے یہ کہہ سکتا تھا کہ اپنی زندگی کا یہ فیصلہ نہ کریں‘۔
عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان سے شادی اور پھر طلاق سے متعلق بات کرتے ہوئے عون چوہدری کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ بھی عمران خان کا تھا، انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ مجھے شادی کرنی ہے تو میں نے کہا اگر وہ آپ کیلئے اچھی ثابت ہوسکتی ہں تو آپ بسم اللہ کریں‘۔
خیال رہے کہ اس سے قبل عمران خان کے نکاح خواں مفتی سعید کے بعد عون چودھری بھی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف غیر شرعی نکاح کے کیس میں بیان قلمبند کروا چکے ہیں۔عدالت کو دیے گئے بیان میں عون چوہدری نے بتایا تھا کہ عمران خان کا ذاتی اسسٹنٹ، سیاسی سیکرٹری اور قریبی ساتھی تھا، میں عمران خان کے تمام سیاسی اور ذاتی معاملات کو بھی دیکھتا تھا، عمران خان کی ریحام سے 2015 میں طلاق ہوئی، عمران خان کو بشریٰ بی بی نے کہا فی الفور ریحام خان کو طلاق دے دو، بشریٰ بی بی کےکہنے پرعمران خان نے طلاق دے دی۔عون چوہدری نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے عمران خان کو کہا ریحام کو طلاق دینا ہی تمہارے لیے بہتر ہے، ریحام ملک میں موجود نہیں تھیں، عمران خان نےریحام خان کو ای میل پر طلاق دی تھی، عمران خان طلاق کے بعد ذہنی پریشانی کا شکار رہتےتھے، عمران خان مجھے اکثر اوقات کہتےکہ مجھے بشریٰ بی بی کے پاس لے جاؤ، بشریٰ بی بی کے ساتھ عمران خان کا ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔عون چوہدری کے مطابق 31 دسمبر2017 کو عمران خان نےکہا کہ یکم جنوری کوبشریٰ بی بی سے نکاح کرنا ہے، عمران خان نے مجھے کہاکہ نکاح کے انتظامات کرو، عمران خان کی بات پر میں نے حیرانگی کا اظہار کیا اور کہاکہ بشریٰ بی بی پہلے سے شادی شدہ ہیں جس پر عمران خان نے مجھے بتایاکہ بشریٰ بی بی کی طلاق ہوگئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے عمران خان کایقین کیا اور اگلے دن مفتی سعید اور زلفی بخاری کو لےکر روانہ ہوگیا، یکم جنوری 2018 کو عمران خان کا بشریٰ بی بی کے ساتھ نکاح لاہور میں ہوا، میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے نکاح کا گواہ ہوں، نکاح سے قبل مفتی سعید نے میرے سامنے بشریٰ بی بی کے طلاق نامے کا پوچھا، عمران خان اور بشریٰ بی بی نے مفتی سعید کو کہاکہ طلاق نامہ دے دیا جائےگا، نکاح کے بعد معلوم ہواکہ پچھلے نکاح کےطلاق کی عدت کا دورانیہ مکمل نہیں ہواتھا۔
عون چوہدری کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی اور عمران خان کو عدت کا دورانیہ مکمل نہ ہونے کا علم تھا، بشریٰ بی بی کے عدت کے دوران نکاح کی بات میڈیا پر بھی آگئی تھی، عمران خان نے مجھے بلاکربتایاکہ عدت کا دورانیہ 18فروری کو مکمل ہوگا، میں نے عمران خان سے دورانِ عدت نکاح کا پوچھا ،عمران خان نےکہاکہ بشریٰ بی بی کو حکم ملا تھا 2018 کے پہلے دن نکاح ہوگا، عمران خان کوبشریٰ بی بی نے کہاکہ ہم میاں بیوی رہیں گے تو وہ وزیر اعظم بن جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی شادی کی تقریب اور نکاح فراڈ پر مبنی تھا، پیش گوئی کے زیر اثر عمران خان نے نکاح کیا جس کے بعد عمران خان نے مجھےکہا کہ 18فروری کو بشریٰ بی بی کے ساتھ دوبارہ نکاح کےانتظامات کرو۔
عون چودھری نے کہاکہ یکم جنوری 2018 کو عمران خان کانکاح قرارپایا،عدت کا دورانیہ 14 یا 18 فروری 2018 کے دوران مکمل ہونا تھا،عمران خان کا دوسرا نکاح بنی گالہ میں ہوا اور پہلا نکاح لاہور میں ہوا تھا۔عون چودھری کاکہنا تھا کہ عمران خان کے پہلے نکاح کا پوچھنے پر بتایاگیا بشریٰ بی بی کو حکم ملا تھا،حکم ملا تھا کہ سال 2018 کے پہلے دن نکاح کی صورت وزیراعظم بنوں گا،اسی پیشگوئی کے پیش نظر پہلے نکاح کی تقریب کی گئی۔
