عارف علوی نے صدارت کی توقیر کیسے پامال کی؟

صدر عارف علوی نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بلوں کی منظوری دیے جانے کی تردید کے لیے ایکس یعنی ٹوئٹر کا سہارا لیا۔ اس کے نتیجے میں ملک ایک اور آئینی بحران کا شکار ہوگیا ہے۔خیال رہے کہ دونوں بلوں کو رواں ماہ پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا اور صدر کی جانب سے ان کی منظوری تصور کیے جانے کے بعد یہ نافذ بھی ہوچکے ہیں۔ لیکن ان کے نفاذ کے نوٹیفکیشن کے دو روز بعد کی جانے والی ٹوئٹ سے ایک نیا پنڈورا باکس کھل گیا ہے۔

سینئر صحافی زاہد حسین کے تازہ تجزیے کےمطابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے اگرچہ تاخیر سے اور سوشل میڈیا کے ذریعے کی جانے والی تردید ناقابل فہم ہے اس کے باوجود اس تردید نے ان ایکٹس پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔ اس پورے واقعے نے ملک کے طاقت کے ڈھانچے کے اندر موجود دراڑیں مزید وسیع کر دی ہیں اور موجودہ افراتفری کو بڑھا دیا ہے۔ صدر کے بیان نے بیوروکریسی پر خلاف ضابطہ کام کا الزام لگاتے ہوئے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔اس نے صدر کی اپنی مشکلات کو بھی عیاں کردیا ہے۔ وہ شدت کے ساتھ اپنی کرسی کا دفاع کررہے ہیں۔ ان کی مدتِ صدارت مکمل ہونے میں چند ہی دن رہ گئے ہیں اور اس دوران ان کے استعفے کے مطالبات نے یقیناً ان پر دباؤ ڈالا ہے۔ اس دوران نافذ ہونے والے مذکورہ قوانین پر شروع ہونے والی بحث نے بھی موجودہ سیاسی کشمکش کو ایک نئے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ امکان یہی ہے کہ اب معاملہ عدالت عظمیٰ میں جائے گا۔

زاہد حسین کے مطابق اس قانونی جنگ کا کوئی بھی نتیجہ نکلے لیکن سیکیورٹی ایجنسیوں کو غیر معمولی اختیارات دینے والے ان ایکٹس کے گرد جو تنازع کھڑا ہوگیا ہے وہ فوری ختم ہوتانظر نہیں آتا۔ ۔ ان قوانین کی قانونی حیثیت سے متعلق جو تازہ تنازعہ پیدا ہوا ہے اس سے سیکیورٹی اداروں کے اختیارات میں اضافہ کرنے کی سیاسی قیمت پر بھی سوالات کھڑے ہورہے ہیں۔

زاہد حسین کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو ان دونوں قوانین کی قانونی حیثیت کے حوالے سے بحث جاری ہے لیکن حکام نے سائفر کے کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمات کے لیے ترمیم شدہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت خصوصی عدالت قائم کردی ہے۔ ملزمان میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شامل ہیں۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں اور حامیوں کو آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

زاہد حسین کے مطابق صدر کی طرف سے متنازعہ بلوں کی منظوری سے انکار کے بعد پیدا ہونے والے تازہ ترین اسکینڈل نے اقتدار کے موجودہ ڈھانچے میں موجود دراڑوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔صدر کے بیان کی سچائی یا اس کی برعکس صورت حال پر بحث کرنے کی بجائے سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ ان ظالمانہ قوانین کی وجہ سے جمہوری عمل کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے پر توجہ دیں۔ اس وقت جاری سیاسی ظلم و ستم حالات کو مزید خراب کرے گا۔ مشکلات سے نکلنے کا واحد راستہ مقررہ مدت میں منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد ہے۔

زاہد حسین کا مزید کہنا ہے کہ انتخابی شیڈول کے حوالے سے موجود غیریقینی نے ان شبہات کو مزید تقویت دی ہے کہ ملک طویل مدتی نگران حکمرانی کی طرف جارہا ہے جس میں نگران حکومت کو تمام پالیسی فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ڈی ایم کی اکثر جماعتیں اب انتخابات کو 90 روز کی آئینی مہلت کے بعد کروانے کی حمایت کررہی ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان پہلے ہی اعلان کرچکا ہے کہ آئینی طور پر مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں ہونی ضروری ہیں اور اس کے لیے 4 ماہ کا وقت درکار ہوگا۔ حلقہ بندیوں کے بعد انتخابات کی تیاریاں شروع ہوں گی جن کے لیے مزید 3 ماہ درکار ہوں گے۔یہ نکتہ درست ہوسکتا ہے پھر بھی الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات کے لیے کوئی واضح ٹائم فریم نہیں دیا گیا ہے۔ ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ حلقوں کی نئی حد بندی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس معاملے پر سابق حکمران اتحاد میں واضح تقسیم نظر آتی ہے۔

Back to top button