نواز شریف کی وطن واپسی تاخیر کا شکار کیوں ہوئی؟

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے جاری تمام تر قیاس آرائیاں، دعوے اور بیانات کی ہوا نکل گئی۔ ماضی قریب میں ایک انٹرویو کے دوران نواز شریف کی ستمبر میں وطن واپسی کا خبر دینے والے سابق وزیراعظم شہباز شریف نے اب لندن میں اپنے بڑھ بھائی کے ساتھ کھڑے ہو کر اعلان کیا ہے کہ نواز شریف ستمبر کی بجائے اکتوبر میں وطن واپس آ کر ن لیگ کی الیکشن کمپین کو لیڈ کرینگے۔

فوری جانب مختلف ٹی وی چینلز کی رپورٹس کے مطابق شریف فیملی کا لندن میں اجلاس ہوا جس کے دوران نوازشریف کی واپسی کیلیے 15 اکتوبر کی تاریخ پر اتفاق کر لیا گیا۔ شہباز شریف نے مشورہ دیا کہ نوازشریف ستمبر کی بجائے اکتوبر کے وسط میں پاکستان پہنچیں جس کی خاندان کے دیگر افراد نے بھی تائید کی۔بتایا گیا ہے کہ پہلے نوازشریف کی وطن واپسی ستمبر کے وسط میں طے کی گئی تھی۔ اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن)کی سینئر لیڈر شپ سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ ہوا ہے کہ نواز شریف اکتوبر میں وطن واپس آکر قانون کا سامنا کریں گے اورپارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت کریں گے‘شفاف احتساب وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے بغیر پاکستان کی ترقی ممکن نہیں ‘ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالتوں نے نواز شریف کے ساتھ دہرا معیار اپنایا‘سازش کے تحت انہیں پاناماکیس میں ملوث کیاگیا‘ تاہن آج پوری قوم کے سامنے حقائق آچکے ہیں اور نواز شریف وطن واپسی کے بعد عدالتوں سے بھی سرخرو ہونگے۔

سینئر تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ اگلا الیکشن سب کے لیے اہم ہے لیکن ن لیگ کے اس لیے بھی زیادہ اہم نہیں کہ انہوں نے اپنا سیاسی ایندھن جھونک کے 16 ماہ حکومت کی ہے۔ تو اب وہ پریکٹیکل صورت آ چکی ہے اگلے چند مہینوں میں ان کی حکمت عملی کیا ہو گی۔ نواز شریف کی واپسی کا فیصلہ بھی اب ہو جائے گا کیونکہ جن چیزوں کی وجہ سے یہ واپسی رکی ہوئی تھی وہ اب واضح ہو گئی ہیں۔ سلمان غنی کا اب بھی یہی ماننا ہے کہ اگر الیکشن جلد ہونے کی کوئی صورت ہو گی تو ہی نواز شریف واپسی کا قصد کریں گے۔

دوسری جانب نواز شریف کی اکتوبر میں وطن واپسی بارے حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے واپسی کا فیصلہ دباؤ بڑھانے کیلئے کیا ہے، نواز شریف کے پاس چوائس ختم ہوگئی ہے ، اب ان کے پاس واپس نہ آنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی موجودگی ایک وجہ تھی وہ بھی ستمبر میں ریٹائر ہورہے ہیں۔

تاہم سینئر صحافی مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ لندن میں نواز شریف سے ون آن ون ملاقات میں مجھے ذرا برابر نہیں لگا کہ وہ پاکستان نہیں آ رہے، یہی لگا ہے کہ جیسے ان کا سوٹ کیس پیک پڑا ہے۔ مزمل سہروردی کے مطابق نواز شریف کو وطن واپس آ کر کسی قسم کی سنگین قانونی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، انہوں نے واپس آ کر بس اپیل فائل کرنی ہے اور حفاظتی ضمانت لینی ہے۔ مزمل سہروردی کے مطابق نواز شریف کے خیال میں ہمیں اب آپس میں لڑائی نہیں کرنی چاہئیے اور ملکی معیشت کی بحالی پر توجہ مرکوز کرنی چاہئیے۔ مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ ملاقات میں نواز شریف نے انہیں بتایا کہ پارٹی کا یہ خیال ہے کہ الیکشن کا شیڈول آ جائے اس کے بعد وطن واپس آئیں، یہ سیاسی ٹائمنگ کی بات ہے کہ مجھے کب واپس جانا چاہئے۔ نواز شریف نے کہا عمران خان کو ہم لکھ کر دینے کو تیار ہو گئے تھے کہ جولائی میں انتخابات کروا دیں گے مگر وہ نہیں مانے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ ن لیگ کا اگلا سیاسی بیانیہ آنے میں ابھی کچھ وقت یا عرصہ درکار ہے۔ یہ بیانیہ نگران حکومت کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔ سینیئر صحافی اجمل جامی کا کہنا ہے کہ ’مجھے تو ایسے لگ رہا ہے کہ یہ نگراں حکومت لمبے عرصے کے لیے آئی ہے اس کی آئینی اور قانونی توجیحات کیسے دریافت کی جائیں گی اس میں تو ابھی وقت ہے البتہ مجھے پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی ایک ہی نعرہ لگاتی نظر آ رہی ہیں اور وہ ہے کہ الیکشن جلدی ہوں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’لندن میں ہونے والی سیاسی بیٹھک میں ان امور پر بھی غور ہو گا اور اگر نواز شریف نے اپنی وطن واپسی موخر کر دی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ الیکشن میں تاخیر یقینی ہے۔

دوسری طرف ذرائع کے مطابق نواز شریف کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کرنے کے حوالے سے مشاورتی عمل جاری ہے، درخواست دائر ہونے کے بعدضمانت ملنے کی صورت میں ہی نواز شریف کی لندن سے واپسی کی راہ ہموار ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کے سینیئر رہنما اور قانونی ماہرین گزشتہ چند روز سے نواز شریف کی واپسی کے لیے صحیح وقت اور ان مقدمات پر غور کررہے ہیں جن کا انہیں پاکستان میں سامنا ہے۔

دوسری جانب نواز شریف کی آمد اور استقبال کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں لیگی ذرائع کا دعوی ہے کہ نواز شریف کی 4 سال بعد پاکستان آمد کو جہاں بڑا سیاسی ایونٹ بنانے کے حوالے سے مشاورت ہو رہی ہے اور اس حوالے سے مختلف سیاسی رہنماؤں کو ذمہ داریاں تفویض کر دی گئی ہیں۔یاد رہے کہ نواز شریف کو 2018 میں العزیزیہ ملز اور ایون فیلڈ کرپشن کیسز میں سزا سنائی گئی تھی، العزیزیہ ملز ریفرنس میں انہیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں 7 برس کے لیے قید کردیا گیا تھا تاہم کچھ ہی عرصے بعد انہیں طبی بنیادوں پر لندن جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

Back to top button