ٹی وی چینلز پر صدارتی نظام کے حق میں مہم شروع

پاکستان میں رائج پارلیمانی نظام حکومت کو ختم کر کے اس کی جگہ صدارتی نظام لانے کے حوالے سے موجودہ ہائبرڈ نظام حکومت چلانے والوں کے عزائم تب کھل کے سامنے آگئے جب ملک کے تمام بڑے ٹی وی چینلز پر صدارتی نظام حکومت لانے کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے مہم شروع کر دی گئی۔ بظاہر یہ اشتہاری مہم ایک گمنام تنظیم ‘وژن فار پاکستان’ کی جانب سے شروع کی گئی ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے موجودہ ہائبرڈ نظام حکومت کے معمار اور اسکے پیروکاروں کا ہاتھ ہے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے پاکستانی سوشل میڈیا پر پچھلے کئی ہفتوں سے ملک میں رائج پارلیمانی نظام حکومت کے خلاف اور صدارتی نظام حکومت کے حق میں مہم چلائی جا رہی ہے جس میں تحریک انصاف کے حمایتی پیش پیش نظر آتے ہیں۔ 19 جنوری کے روز روز اچانک تمام بڑے ٹی وی چینلز پر ایک گمنام تنظیم وژن فار پاکستان کی جانب سے ایک اشتہاری مہم شروع ہو گئی جس میں پاکستانیوں سے صدارتی نظام حکومت کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

اشتہار کی بیک گراونڈ وائس میں یہ کہا جا رہا ہے کہ موجودہ ناکام پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام سے بدل دیں۔ پھر کہا جاتا ہے کہ صدارتی نظام پاکستان میں حقیقی سیاسی قیادت پیدا کر سکتا ہے جس میں صدر کو پورے ملک میں 51 فیصد ووٹ لیکر منتخب ہونا ہوگا۔ اقبال اور جناح کی تصاویر کے ساتھ جاری کردہ اس اشتہار میں کہا جاتا ہے کہ صدارتی نظام کے حق میں آپ کا ووٹ ملک کے ذمہ دار حلقوں کو آمادہ کرے گا کہ وہ پاکستان میں صدارتی نظام حکومت نافذ کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کریں۔

یاد رہے کہ اس اشتہار کے جاری ہونے سے پہلے ہی پاکستانی سوشل میڈیا پر صدارتی نظام حکومت کے حق میں مہم شروع کی جا چکی یے اور صدارتی نظام کے مخالف اور حامی آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ صدارتی نظام کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ڈکٹیٹرشپ کا نظام ہے جو سابق آمروں کا نافذ کردہ تھا۔ جبکہ دوسری جانب اس کے حامی اس سسٹم کے فوائد گنوا رہے ہیں۔ پاکستانی ٹویٹر پر #ملککیبقاصدارتینظام ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔

صدارتی نظام کے حق میں بات کرنے والے حکومت نواز صارفین کا ماننا ہے کہ پارلیمانی سسٹم انتہائی فرسودہ ہو چکا ہے۔ اس میں حکومت کی تشکیل کیلئے لوگوں کو خریدا جاتا ہے۔ نہ پاکستان میں انصاف نام کی کوئی چیز ہے اور نہ ہی عدالتیں مقدمات کے فیصلے کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومتیں بھی عوام کیلئے کچھ کرنے کی بجائے دیگر سیاسی پارٹیز کے ہاتھ بلیک میل ہوتی رہتی ہیں۔

اس نظام کے حامیوں کا مزید کہنا ہے کہ صدارتی سسٹم ہی دراصل اسلامی نظام حکومت کے نزدیک تر ہے۔ صارفین اس حوالے سے امریکا کی مثالیں پیش کر رہے ہیں کہ وہ آج اگر ترقی یافتہ ہے تو اس کی بنیادی وجہ صرف صدارتی نظام ہے کیونکہ صدر اپنے فیصلوں میں خود مختار ہوتا ہے اور اس کے پاس تمام اختیارات ہوتے ہیں۔

پاکستان کے دورے پر ہیلری کو ٹھنڈی چائے کیوں دی گئی؟

سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے تو یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اس ملک میں جمہوری نہیں بلکہ صدارتی نظام چاہتے تھے۔ اس حوالے سے ان کا ایک خط بھی تھا جسے چھپا لیا گیا ہے۔ قائداعظم صدارتی نظام حکومت کے خواہشمند تھے۔

انہوں نے 10 جولائی 1947ء کو کھل کر اس کا اظہار بھی کیا تھا۔ ایک صارف کا کہنا تھا کہ پارلیمانی سسٹم میں وزیراعظم صرف منتخب اراکین کو ہی وزارتیں دے سکتا ہے جو اپنے شعبے کے ماہر نہیں بلکہ سیاستدان ہوتے ہیں جبکہ صدارتی نظام حکومت میں ایسی کوئی پابندی یا شرط ہی نہیں ہے۔ اس میں ماہرین کو وزارتیں دی جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب صدارتی نظام حکومت کے مخالفین کا کہنا یے کہ اس مہم کے پیچھے عمران خان کی حکومت اور اس کے حواری ہیں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پچھلے ساڑھے تین برس میں جو وزیراعظم فوج کی بھرپور حمایت کے باوجود بھی ہر محاذ پر ناکام رہا اسے اب یہ پٹی پڑھا دی گئی ہے کہ وہ ایک طاقتور صدر بن کر کامیاب ہو جائے گا۔

ناقدین کامکہنا ہے کہ صدارتی نظام آمروں کی نشانی ہے اور پاکستان اس سے پہلے چار فوجی صدور کے دور حکومت بھگت چکا ہے جن میں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ انکا۔کہنا ہے کہ یحییٰ خان کے دور میں پاکستان دو لخت ہوا، ضیاء الحق کے دور میں ہمیں فرقہ پرستی، افغان مہاجرین کا تحفہ ملا اور مشرف دور میں طالبان پاکستان پر نازل ہوئے۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ صدارتی نظام میں پاکستان ٹوٹا، سیاچن الگ ہوا، سوات پر طالبان کا قبضہ ہوا اور پاکستان پر دہشتگردی کا ٹھپہ لگا۔ لہذا صدارتی نظام ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صدارتی نظام کیلئے لڑنے والے مجاہدین بتا سکتے ہیں کہ پہلا صدر کون ہوگا؟ اگر وہ خان سے ہی امید لگائے بیٹھے ہیں تو یہ لوگ دنیا کے انتہائی بے وقوف لوگ ہونگے۔

Back to top button