پاکستان کے دورے پر ہیلری کو ٹھنڈی چائے کیوں دی گئی؟

امریکہ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جب القاعدہ کے مفرور سربراہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کے بعد وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن پاکستان کے دورے پر پہنچیں تو صدر آصف زرداری تو ‘گیٹ اسامہ آپریشن کے حامی نظر آئے لیکن فوجی افسران کے چہروں پر تناؤ تھا لہذا انھوں نے ہمیں جو چائے پیش کی وہ بھی گرم نہیں تھی۔
یہ انکشاف امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی پاکستانی نژاد سیاسی معاون ہما عابدین نے حال ہی میں شائع ہونے والی یادداشتوں پر مبنی اپنی کتاب میں کیا ہے۔ہما ایک لمبے عرصے تک سابق وزئر خارجہ ہیلری کلنٹن کی سیاسی معاون رہی ہیں۔ اب انھوں نے اپنی کتاب ’بوتھ اینڈ: اے لائف اِن مینی ورلڈز‘ میں پاکستان کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔
وہ لکھتی ہیں کہ جب وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے صدر آصف زرداری سے میرا یہ کہہ کر تعارف کروایا کہ ’یہ میری ڈپٹی چیف آف سٹاف ہما عابدین ہیں اور اُن کی والدہ پاکستانی ہیں جہاں ان کے کئی رشتے دار ہیں‘ تو صدر زرداری نے جواباً کہا کہ انھوں نے اپنی اہلیہ بینظیر بھٹو سے ہما عابدین کے بارے میں سُن رکھا ہے۔ ہما لکھتی ہیں کہ جب مزید باتیں ہوئیں تو ہیلری کلنٹن نے صدر زرداری کو بتایا کہ ہما عابدین کی ابھی منگنی ہوئی ہے۔
عثمان مرز کیس، منحرف گواہ اپنے ساتھ پیش آنیوالے واقعے سے مکر گئے
اس پر صدر زرداری نے پیچھے مڑ کر مجھے کہا: ’مبارک ہو۔ مجھے امید ہے کہ کسی اچھے سے پاکستانی لڑکے سے منگنی ہوئی ہو گی‘ اور پھر ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ ہما لکھتی ہیں کہ میں نے جواب میں کہا ’سر اس کے بالکل کے برعکس سوچیں۔خیال رہے کہ ہما عابدین کی ایک امریکی سیاستدان اینتھونی وائنر سے شادی ہوئی تھی جن کے سیکس سکینڈل کی وجہ سے اب وہ انھیں طلاق دے چکی ہیں۔
پاکستان کے حوالے سے ایک ناخوشگوار واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ہما لکھتی ہیں کہ وائٹ ہاؤس میں دورانِ ملازمت وہ ایک بار اپنی بہن حبا کے لیے پاکستانی ویزا کے حصول کی خاطر واشنگٹن میں پاکستان سفارت خانے گئیں تو انھیں اپنے انڈین والد کے حوالے سے ایسے سوالوں کا سامنا کرنا پڑا جس پر اُنھیں غصہ آیا۔ وہ لکھتی ہیں ’جب ہم نے پاکستانی اہلکار کو بتایا کہ ہمارے والد اب وفات پا چکے ہیں تب بھی پاکستان اہلکار نے کہا کہ ’اس کیس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔‘ اس پر مجھے غصہ آ گیا اور ہم سفارت خانے سے واپس آ گئیں۔
وہ لکھتی ہیں کہ جب میں نے پاکستانی سفارت خانے میں اپنے ایک جاننے والے سے بہن کے ویزا کے لیے مدد کی درخواست کی تو نہ صرف چند گھنٹوں میں ویزا لگ گیا بلکہ وہی اہلکار جو طرح طرح کے سوال کر رہا تھا، وہی وہاں پر ہمارے لیے پاسپورٹ لیے کھڑا تھا۔
