امریکی صدر کی ایران پردوبارہ حملے کی دھمکی

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دے دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل میں جاری بیان میں کہا کہ ‘ایران فوی طور پر لبنان میں اپنے بھاری معاوضوں والی پراکسیز کو کشیدگی پھیلانے سے روکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا نہیں کریں تو ہم ایران کو دوبارہ ایسے نشانہ بنائیں گے جیسے ہم نے گزشتہ ہفتے کیا تھا بلکہ اس سے زیادہ شدت سے کریں گے۔
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات میں شریک ایرانی وفد نے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا اور ایرانی وفد نے احتجاجاً مذاکرات کےدوسرے دور میں شرکت سے انکار کردیا۔
ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف نے ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں کہا ہے کہ ٹرمپ یہ نہیں سوچتے اگر ان کی دھمکیوں کا کوئی اثرہوتا تو وہ آج اس مایوسی کی حالت تک نہ پہنچتے۔
انہوں نے کہا کہ ہم امریکی دھمکیوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، بہتر ہے ٹرمپ اپنے بیانات میں احتیاط برتیں، ہماری مسلح افواج مختلف انداز میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے مذاکرات کا پہلا دور 80 منٹ جاری رہا، مذاکرات کے وقفے میں وفود نے داخلی مشاورت کی، وقفے میں ایران اور قطر کے وفود میں بات چیت ہوئی۔
ایرانی میڈیا نے کہا کہ ایرانی وفد نےٹرمپ کی دھمکیوں پرامریکی وفد کےسامنے باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔
