ٹرمپ کی دھمکیوں کیخلاف احتجاج، ایرانی وفد کامذاکرات میں شرکت سے انکار

سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات میں شریک ایرانی وفد نے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا اور ایرانی وفد نے  احتجاجاً مذاکرات کےدوسرے دور میں شرکت سے انکار کردیا۔

ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف نے ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں کہا ہے کہ ٹرمپ یہ نہیں سوچتے اگر ان کی دھمکیوں کا کوئی اثرہوتا تو وہ آج اس مایوسی کی حالت تک نہ پہنچتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم امریکی دھمکیوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، بہتر ہے ٹرمپ اپنے بیانات میں احتیاط برتیں، ہماری مسلح افواج مختلف انداز میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے مذاکرات کا پہلا دور 80 منٹ جاری رہا، مذاکرات کے وقفے میں وفود نے داخلی مشاورت کی، وقفے میں ایران اور قطر کے وفود میں بات چیت ہوئی۔

ایرانی میڈیا نے کہا کہ ایرانی وفد نےٹرمپ کی دھمکیوں پرامریکی وفد کےسامنے باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔

ایران کے پارلیمانی قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر شکایت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ دھمکا رہے ہیں آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں، ان دھمکیوں اور بڑھکوں کی تاثیر اب ختم ہوچکی ہے۔

ابراہیم رضائی نے کہا کہ اگر آپ کے پاس صلاحیت ہوتی تو دوران جنگ آبنائے ہرمز کا کنٹرول چند لمحوں کے لیے ہی سہی سنبھال لیتے، آپ ایسا کرنا تو چاہتے تھے لیکن کر نہ سکے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کیا تو امریکا ایران کو تباہ کردے گا۔

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے یہ پیغام براہِ راست ایرانی قیادت تک پہنچایا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند کی گئی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر تم نے اسے بند کیا تو تمہارا ملک نہیں بچے گا، تم اپنے ملک تک واپس بھی نہیں پہنچ سکو گے‘۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکا آبنائے ہرمز  سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس بھی عائد کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید خبردار کیا کہ ’اگر ضرورت پڑی تو ہم آبنائے ہرمز کا کنٹرول بھی سنبھال سکتے ہیں‘۔

فاکس نیوز کے مطابق جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے یورینیم افزودگی کے حق سے متعلق بیان پر ردعمل مانگا گیا تو ٹرمپ نے کہا کہ ’انہیں اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہیے، ورنہ ہم باقی ملک کا بھی کنٹرول سنبھال سکتے ہیں‘۔

Back to top button