ہائبرڈ، الیکٹرک اور لگژری گاڑیوں پر بھاری ٹیکسزکی منظوری

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے درآمدی ہائبرڈ، الیکٹرک اور لگژری گاڑیوں پر 30 سے 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی اور 86 سے 92 فیصد سپیشل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجاویز کی منظوری دے دی۔
قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں درآمدی و مقامی موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں، آٹو پالیسی، الیکٹرک گاڑیوں اور درآمدی ڈیوٹیوں سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں پانچ سالہ آٹو پالیسی بھی زیر بحث آئی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ موجودہ آٹو پالیسی 30 جون کو ختم ہو رہی ہے۔
سیکریٹری تجارت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ 1800 سی سی گاڑیوں پر مجموعی ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو 74 فیصد تک لانے کی تجویز ہے جبکہ اس وقت ان گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی، اضافی کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی ملا کر بوجھ 156 فیصد تک پہنچتا ہے۔ اسی طرح 1500 سے 1800 سی سی گاڑیوں پر ڈیوٹیز کی شرح 91 فیصد سے کم کرکے 57 فیصد، 1000 سے 1500 سی سی گاڑیوں پر 76 فیصد سے کم کرکے 52 فیصد اور 850 سی سی گاڑیوں پر 66 فیصد سے کم کرکے 42 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
آٹو پالیسی پر بحث کے دوران ممبر کمیٹی جاوید حنیف خان نے کہا کہ ٹیکسوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا، جس پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے سوال اٹھایا کہ اگر ریلیف نہیں دیا گیا تو فنانس بل میں تبدیلیاں کیوں کی گئیں۔
اجلاس میں الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ 75 ہزار ڈالر تک مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں ہوگی جبکہ دو کروڑ روپے سے کم مالیت کی الیکٹرک گاڑیاں بھی ایف ای ڈی سے مستثنیٰ رہیں گی۔ دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد ہوگا۔
حکام کے مطابق موبائل فون کی قیمت بڑھنے کے ساتھ ٹیکس کی شرح بھی بڑھتی ہے اور فی یونٹ ٹیکس 1500 روپے سے بڑھ کر 141500 روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 44 فیصد درآمدی فونز 31 سے 100 ڈالر کی کم ٹیکس والی کیٹیگری میں شامل ہیں جبکہ تمام درآمدی فون کیٹیگریز میں اوسط مؤثر ٹیکس شرح 39.6 فیصد بنتی ہے۔
