قاہرہ:4ممالک کے وزرائے خارجہ کااہم اجلاس،امن معاہدے پرتبادلہ خیال

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں چوتھے ’ریجنل-4 ‘ ممالک کے وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
اس اعلیٰ سطح کی بیٹھک میں پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ سفارت کار سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور اہم علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کے لیے جمع ہوئے ہیں۔
اجلاس کا انعقاد ایک ’محدود فارمیٹ‘ میں کیا جا رہا ہے، جس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت میزبان ملک مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری کی گئی پوسٹ کے مطابق اس خصوصی اور اہم سیشن کا بنیادی مرکز’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت‘پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لینا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق یہ یادداشت اس فورم کے گزشتہ اجلاسوں کے دوران علاقائی استحکام، امن اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم فریم ورک کے طور پر قائم کی گئی تھی۔
چاروں وزرائے خارجہ قاہرہ کے اس پلیٹ فارم کو عالمی اور علاقائی بدلتی ہوئی صورتحال پر مشاورت کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس میں درج ذیل ترجیحی شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق کسی بھی بیرونی مداخلت پر انحصار کیے بغیر، مشترکہ علاقائی چیلنجوں کے مقامی حل تلاش کرنے کے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کیلئےمذاکرات، ثالثی اور فعال سفارت کاری پر نئے سرے سے زور دیا جا رہا ہے۔
چاروں بااثر ممالک کے درمیان اقتصادی، بنیادی ڈھانچے اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کے ٹھوس اور عملی راستوں کا تعین کیا جا رہا ہے۔
