آرمی چیف اور چیف جسٹس میں سے زیادہ طاقتور کون؟

اگر آرمی چیف کو سیاسی جماعتوں کے درمیان ریفری کا کردار نہیں ادا کرنا چاہیۓ تو چیف جسٹس پاکستان کو بھی سیاسی جماعتوں کے درمیان سیاسی ریفری کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیےچیف جسٹس کے عہدے میں بے پناہ اختیارات ہیں۔ جب کہ روایتی اسٹیبلشمنٹ براہ راست کوئی حکم نہیں دے سکتی ان کے پاس کوئی براہ راست اختیار نہیں ہوتا لہذا ہائبرڈ نظام کو چلانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کو دیگر اداروں کی مدد درکار ہوتی ہے۔ جب کہ عدلیہ اور بالخصوص چیف جسٹس کے ہر حکم کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی مزمل سہروردی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں آج کل عدلیہ کا سیاسی کردار زیربحث ہے۔ عدلیہ سیاسی جماعتوں میں مفاہمت کے لیے زور ڈال رہی ہے۔ پاکستان کو اس وقت سیاسی مفاہمت کی شدید ضرورت ہے، لیکن کیا عدلیہ کو یہ سیاسی مفاہمت کروانی چاہیے؟ گر جنرلز کی سیاسی مداخلت غلط ہے تو ججز کی سیاسی مداخلت بھی غلط ہوگی۔
اگر دو تین جنرلز کو ملک کا سیاسی ایجنڈا چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ تو چند ججز کو بھی ملک کا سیاسی ایجنڈا چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ جیسے اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کی وجہ سے ان کے نام سیاسی میدان میں آتے ہیں‘ ایسے ہی جوڈیشل اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کی وجہ سے ان کے نام بھی سیاسی جلسوں میں لیے جارہے ہیں۔جیسے 2018کے بعد تین جنرلز کی بات عام تھی اب تین ججز کی بات عام ہو رہی ہے۔ یہ تقابلی جائزہ اب سب کر رہے ہیں . مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ سیاسی مذاکرات کامیاب ہوں یا ناکام۔ لیکن یہ مذاکرات کسی بھی ادارے کے چند افراد کے ڈنڈے پر نہیں ہونے چاہیے۔ ڈنڈے کے زور پر ہونے والے مذاکرات سے نہ تو جمہوریت مضبوط ہوگی اور نہ ہی مسائل حل ہوں گے ۔ پھر ڈنڈے کے جھکاؤ کی بات ہوگی۔ ریفری کی بات ہوگی۔ ترازو کے پلڑے برابر ہونے کی بات ہوگی۔آج کل آڈیوز کا دور ہے، لیکن ریٹائرڈ ججز کے حوالے سے آڈیوز بھی ایک سوال ہیں۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سیاسی ہمدردیاں بطور دلیل استعمال ہو رہی ہیں۔ ججز کے خاندان کی آڈیوز بھی سیاسی کردار کی دلیل دے رہی ہیں۔ اس بحث کو دلیل مل رہی ہے۔
یہ آڈیوز سیاسی کردار کی بحث کو واضح کر رہی ہیں یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہو رہی ہیں۔ جب ماضی میں ان آڈیوز سے سیاسی فوائد حاصل کیے گئے ہیں تو آج ان سے سیاسی فوائد حاصل کرنا کیوں جائز نہیں اگر مریم نواز کی آڈیو جائز تھی تو ثاقب نثار اور ان کے اہل خانہ کی آڈیو جائز کیوں نہیں ہے، اگر جسٹس قیوم کی آڈیو پر انھیں استعفیٰ دینا پڑا تھا تو آج کے ججز پر یہ اصول کیوں نہیں۔اگر سینیٹ انتخابات میں یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کی ووٹ کی خریدو فروخت جائز ہے تو ثاقب نثار کے بیٹے کی الیکشن ٹکٹ پر آڈیو جائز کیوں نہیں ہے۔ اگر عمران خان اس آڈیو پر یوسف رضا گیلانی کے خلاف ایکشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن میں درخواست دیتے ہیں۔ مقدمہ چلتا ہے تو پھر ثاقب نثار کے بیٹے کے خلاف ایکشن کیوں نہیں ہو سکتا۔
مزمل سہروردی لکھتے ہیں کہ اگر کل پاک فوج میں اختلافات کی باتیں کی جاتی تھیں تو آج عدلیہ میں اختلافات کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ اگر فوجی قیادت میں اختلافات کی وجہ سے سیاسی ہیجان پیدا ہوتا ہے تو عدلیہ میں اختلافات کی وجہ سے بھی سیاسی ہیجان پیدا ہوتا ہے۔ اگر جنرل کی سیاسی پالیسی پر بات ہوتی ہے تو جج کی سیاسی پالیسی پر بھی بات ہو رہی ہے۔ اب یہ طے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے کہ کون زیادہ طاقتور ہے۔ کس کی سیاسی طاقت زیادہ ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اسٹبلشمنٹ کو اپنی بات منوانے اور ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے عدلیہ کا تعاون درکار رہتا ہے۔ اگر پیچھے سے بیٹھ کر چیزیں کنٹرول کرنی ہیں تو عدلیہ کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔ اور دیکھا جائے تو ماضی میں عدلیہ نے یہ مدد آمریت کو دی ہے لیکن آج یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا جوڈیشل اسٹبلشمنٹ تنہا کسی مدد کے بغیر بھی اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھا سکتی ہے۔
کیا چیف جسٹس روایتی اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ طاقتور بن گئے ہیں۔ بلاشبہ چیف جسٹس کے عہدے میں بے پناہ اختیارات ہیں۔ جب کہ روایتی اسٹیبلشمنٹ براہ راست کوئی حکم نہیں دے سکتی تاوقتیکہ وہ آئین معطل نہ کریں اور خود اقتدار نہ سنبھالیں‘ ان کے پاس کوئی براہ راست اختیار نہیں ہوتا۔ ہائبرڈ نظام کو چلانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کو دیگر اداروں کی مدد درکار ہوتی ہے۔ جب کہ عدلیہ اور بالخصوص چیف جسٹس کے ہر حکم کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔
مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ عدلیہ کا سیاسی کردار کوئی نئی بات نہیں لیکن روایتی اسٹبلشمنٹ کا غیر سیاسی کردار نئی بات ہے‘ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی یہ نئی صورتحال ہے۔ شاید وہ فوجی اسٹبلشمنٹ سے ڈیل کرنے کا ہنر تو سیکھ گئے ہیں۔ لیکن جوڈیشل اسٹبلشمنٹ سے کیسے ڈیل کی جائے یہ ابھی طے نہیں ہے۔ آئین کے اندر رہتے ہوئے غیر آئینی احکامات کو کیسے مانا جائے۔ جب عدلیہ آئین لکھنا شروع کردے تو کیا کیا جائے۔ جب آئین موجود بھی ہو اور نہ بھی ہو تو کیا کیا جائے۔ کیا عدلیہ اور عوام کا آئین الگ الگ ہے۔ یہ نئی صورتحال نیا ماحول بنا رہی ہے۔ جو سب کے لیے پریشان کن ہے۔
