آصفہ بھٹوپاکستانی سیاست میں ایک نئے باب کا اضافہ


بینظیر بھٹو شہید کی سب سے چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری کو حالات نے ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے کہ اب وہ چاہ کر بھی غیر سیاسی نہیں رہ سکتیں۔ جب بیمار باپ کبھی عدالت اور کبھی اسپتال کے چکر لگا رہا ہو اور پارٹی کا سربراہ بڑا بھائی بلاول بھٹو حکومت مخالف تحریک چلاتا کرونا وائرس کا شکار ہو جائے تو پھر پارٹی کا پرچم تھامے بینظیر بھٹو شہید کی لاڈلی بیٹی کو ہی کارزارِ سیاست میں آگے بڑھنا ہوگا۔ اگرچہ 27 سالہ آصفہ بھٹو زرداری نے عملی پارلیمانی سیاست میں قدم نہیں رکھا مگر اس کی سیاسی بصیرت نے ابھی سے تجزیہ نگاروں کو حیران کردیا ہے۔ شاید اسی لیے بلاول بھٹو کے بیمار ہونے کے بعد آصفہ بھٹو کو ملتان میں پی پی پی کے یوم تاسیس کے موقع پر 30 نومبر کے روز پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کےلیے چنا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہو گا کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو شہید کی بیٹی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی ایک ہی پلیٹ فارم سے جلسے کو خطاب کریں گے۔
آج کسی کو آصفہ میں بینظیر بھٹو کی جھلک نظر آتی ہے تو کوئی اسے پاکستان کی سیاست میں ایک نئے باب کا اضافہ قرار دے رہا ہے۔ آصفہ کے والد آصف زرداری ماضی میں کئی مرتبہ اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ اگر انہیں دوبارہ لمبے عرصے کےلیے جیل جانا پڑا تو پیپلز پارٹی کے معاملات کی تمام تر ذمہ داری پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر ہو گی اور اگر بلاول بھی گرفتار یو جایئں تو پھر سیاسی معاملات آصفہ بھٹو دیکھیں گی۔
ماضی میں بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں آصفہ کا کہنا تھا کہ سیاست میں آنا ان کی مجبوری نہیں لیکن اس کاوش کی تکمیل کا راستہ ضرور ہے جس کے ذریعے وہ عوام کے حقوق کےلئے آواز بلند کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنے کےلئے آپ کو صرف گڑھی خدا بخش جانے کے ضرورت ہے کہ میرے گھر کے کتنے افراد نے اس ملک کےلئے اپنی جانیں دی ہیں۔ ہمارے پاس صرف یہی راستہ تھا کہ یا تو ہم خاموش رہیں یا آگے بڑھ کر حق کے لئے آواز اٹھائیں۔ میرے نانا نے عوام کے حقوق کےلئے آواز بلند کرنے کو ترجیح دی اور میری والدہ نے بھی یہی راستہ اختیار کیا، اور اب میرے بھائی بھی اپنے نانا کے مشن اور والدہ کی سوچ کو آگے لے کر چل رہے ہیں۔ آصفہ کا ماننا ہے کہ ان کے بڑے بھائی اور پارٹی کے چیئرمین بلاول پورے پاکستان کے لئے بولتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر وہ بھی ان کے ساتھ مل کر عوام کی آواز بنتی رہیں گی۔
آصفہ بھٹو کا خیال ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت اور سابق آمر جنرل مشرف کے دور حکومت میں کافی ساری مماثلتیں ہیں، جیسے ان کی وہی کابینہ ہے جو مشرف کی تھی۔ اسی طرح عمران خان کی ناکامیوں کی فہرست ان کی کامیابیوں سے کہیں لمبی ہے۔عمران دور میں آزادی اظہار رائے پر سخت ترین قدغنیں ہیں، انسانی حقوق کی پامالی تیز تر ہوگئی ہے، شخصی آزادیاں سلب کرلی گئی ہیں اور آمرانہ طریقے سے حکومت چلائی جا رہی ہے۔ سونے ہر سہاگہ یہ کہ عمران نے عوام سے کیا گیا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا گیا لیکن وہ ایک نوکری بھی نہیں دے سکے بلکہ ستم بالائے ستم ہزاروں لوگوں کو نوکریوں سے فارغ کرکے معاشی بحران پیدا کر دیا۔ عمران خان نے 50 لاکھ گھر دینے کا وعدہ بھی کیا تھا جو وفا کرنے کی بجائے انہوں نے ہزاروں گھر توڑے ضرور ہیں۔ عمران خان نے کہا تھا کہ وہ خودکشی کرلیں گے لیکن دوسرے ممالک سے امداد نہیں مانگیں گے جب کہ ہم نے دیکھا کہ وہ تقریباً ہر ملک کے سامنے کشکول لئے کھڑے ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایک عام آدمی کےلئے عمران کے پاکستان میں بجلی، روٹی، گیس یہاں تک کہ مرنا بھی مہنگا ہے، صرف یوٹرن کے بعد یوٹرن لئے جا رہے ہیں۔ آصفہ بھٹو سمجھتی ہیں کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے غریب عوام کی سماجی اور معاشرتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ سی پیک کا کریڈٹ بھی پیپلز پارٹی کو دیتی ہیں جو نہ صرف ملک کے معاشی صورت حال کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو گا بلکہ اس کا فائدہ پورے خطے کو ہوگا۔ صوبائی خود مختاری کو بھی وہ پیپلز پارٹی حکومت کا کارنامہ قرار دیتی ہیں۔
بابا کی لاڈلی آصفہ بھٹو اپنے والد آصف زرداری کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش کا شکار ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سائے کی طرح اپنے والد کے ساتھ رہیں۔ اسی لیے عدالت میں پیشی ہو یا اسپتال جانا ہو، آصفہ بھٹو والد کا ہاتھ پکڑ کر ان کے ساتھ چلتی نظر آئیں گی۔ عمران خان کی جانب سے اپوزیشن پر این آر او لینے کی کوششوں کے الزام کا جواب دیتے ہوئے آصفہ بھٹو کہتی ہیں کہ اس طرح کے حکومتی دعویٰ ان کےلیے کسی اچنبھے سے کم نہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کسی کو این آر او نہیں دے گی۔ آصفہ بھٹو کہتی ہیں کہ ان سے این آر او مانگ کون رہا ہے؟ میرے والد نے ساڑھے گیارہ سال قید میں گزارے، اپنی صحت تباہ کر لی لیکن تب بھی کسی سے این آر او نہیں مانگا، ان کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوا پھر بھی انہوں نے کسی سے ڈیل نہیں کی، اب بھی وہ کیوں کوئی ڈیل کریں گے۔
گھر کے ماحول کے حوالے سے آصفہ نے بتایا کہ کہ ان کے گھر سیاسی حالات پر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ پھر بھی ہم کوشش کرتے ہیں کہ نیوز چینلز کم دیکھیں اور ہلکی پھلکی باتیں ذیادہ کریں۔ آصفہ بھٹو کہتی ہیں کہ والدہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی طرح وہ بھی کھانا بنانے کا شوق رکھتی ہیں اور انکا خیال ہے کہ وہ ایک اچھی کک ہیں، لیکن اگر آپ میرے بھائی اور بہن سے یہی بات پوچھیں گے تو وہ شاید میرے دعوے سے اتفاق نہیں کریں گے۔ وہ بتاتی ہیں کہ میرا پسندیدہ کھانا بریانی ہے، گو کہ میں وہ اسے پکاتی اتنا اچھا نہیں۔ لیکن کراچی کی بریانی کا کوئی مقابلہ نہیں۔ آصفہ بھٹو پاکستان گھومنے کا شوق بھی رکھتی ہیں اور ان کے بقول گھومنے کےلیے کشمیر انکی اولین ترجیح ہوگی۔ وہ کہتی ہیں کہ میری خواہش ہے کہ میں کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی بھی سیر کروں کیوں کہ وہ حقیقیت میں بے حد خوبصورت علاقے ہیں اور وہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی شاندار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button