آنے والی نگراں حکومت کتنی بااختیار ہو گی؟

تمام تر رکاوٹوں اور اختلافات کے باوجود پارلیمنٹ نے نگراں حکومت کے اختیارات میں اضافے سے متعلق ترمیم میں ردوبدل سمیت الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے۔ قانون بن جانے کے بعد آنے والی نگراں حکومت پہلی بار اضافی اختیارات استعمال کرنے کی مجاز ہوگی۔

ترامیم کے تحت نگراں حکومت کو روزمرہ کے ساتھ ہنگامی نوعیت کے معاملات کو دیکھنے کا اختیار بھی حاصل ہو گیا ہے۔نگراں حکومت کو حاصل اضافی اختیارات کے مطابق حکومت پہلے سے جاری پروگرام اور منصوبوں سے متعلق فیصلے کر سکے گی۔ترمیم کے تحت نگراں حکومت پہلے سے جاری منصوبوں پر اداروں سے بات کرنے اور ایسے اقدامات لینے کی مجاز ہو گی جو بین الاقوامی اداروں اور غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ معاہدوں سے متعلق ہوں۔نگراں حکومت کو دو فریقی اور سہ فریقی معاہدے کرنے کا بھی اختیار ہو گا۔البتہ نگراں حکومت کے اختیارات میں اس اضافے کے باوجود اسے پابند بنایا گیا ہے کہ وہ کوئی نیا عالمی معاہدہ نہیں کر سکے گی۔

نئی ترمیم کے تحت نگراں حکومت کے اختیارات میں اگرچہ اضافہ کیا گیا ہے لیکن وہ پھر بھی محدود ہی ہوں گے۔نگراں حکومت کوئی نیا معاہدہ نہیں کر سکے گی۔ ترمیم کے تحت نگراں حکومت کو ملکی معیشت کے بہتر مفاد سے متعلق ضروری فیصلے کر نے کا اختیار ہوگا۔ نگراں حکومت ایسے اقدامات کرنے کی مجاز ہوگی جو بین الاقوامی اداروں اور غیرملکی حکومتوں کے ساتھ معاہدوں سے متعلق ہو۔

نگراں حکومت کے اختیارات سے متعلق پارلیمنٹ کے اجلاس میں خاصی بحث ہوتی رہی اور حزبِ اختلاف کے علاوہ حکومت کے اتحادی رہنماؤں نے بھی اس پر تحفظات کا اظہار کیا۔پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ نگراں حکومت کے اختیارات کو مزید بڑھانا درست نہیں ہے۔اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت کو جو اختیارات دیے جا رہے ہیں وہ یہ پارلیمنٹ منتخب وزیر اعظم کو بھی نہیں دے سکتی۔انہوں نے کہا کہ "سامراج کے بازو مروڑنے کے طریقے بدل گئے ہیں اور آج ہمیں آئینی اسکیم بدلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔”پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے نگراں حکومت کو اضافی اختیارات دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نگراں حکومت منتخب حکومت کی جگہ نہیں لے سکتی۔ان کے بقول اگر نگراں حکومت کے اختیارات سے متعلق شق نہ ختم کی تو اسے سپریم کورٹ ختم کر دے گی۔

واضح رہے کہ منگل کو حکومت نگراں سیٹ اپ کو مزید اختیارات دینے کا بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرانا چاہتی تھی۔ تاہم اعتماد میں نہ لیے جانے پر اتحادی جماعتوں اور حزبِ اختلاف کے اراکین نے ترامیم منظور کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

بدھ کی صبح انتخابی اصلاحات کمیٹی کا ایک وضاحتی اجلاس ایاز صادق کی صدارت میں بلایا گیا جس میں اتحادی جماعتوں کے اراکین اور حزبِ اختلاف کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی گئی۔تاہم پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے تحفظات برقرار رہے اور انہوں نے اس بل کی حمایت نہیں کی۔کمیٹی اجلاس کے بعد ایاز صادق نے کہا کہ نگراں حکومت کو لامحدود اختیارات دینے کا تاثر غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی اجلاس میں اس بات پر اتفاق رائے ہوا ہے کہ نگراں حکومت کو جاری معاہدوں پر عمل درآمد کا اختیار دیا جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ الیکشن ایکٹ میں انتخابات سے متعلق بھی متعدد ترامیم کی گئیں جس کے تحت عملے کو انتخابی نتائج کو بروقت پہنچانے کا پابند بنایا گیا گیا۔ترمیم کے مطابق پریذائیڈنگ افسر الیکشن کی رات 2 بجے تک انتخابی نتائج دینے کا پابند ہو گا اور کسی قسم کی تاخیر کی صورت میں پریذائیڈنگ آفیسر کو ٹھوس وجہ بتانا ہو گی۔تاخیر کی صورت میں بھی پریذائیڈنگ آفیسر کے پاس الیکشن نتائج کے لیے اگلے دن صبح دس بجے کی ڈیڈ لائن ہو گی۔

ترمیم کے مطابق پریذائیڈنگ افسر نتیجے کو فوری طور پر الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسر کو بھیجنے کا پابند ہو گا اور حتمی نتیجے کی تصویر بنا کر ریٹرننگ افسر اور الیکشن کمیشن کو بھیجے گا۔نئے انتخابی قانون کے مطابق انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی صورت میں پریذائیڈنگ افسر اصل نتیجہ ذاتی طور پر پہنچانے کا پابند ہو گا۔نادرا الیکشن کمیشن کو نئے شناختی کارڈ کے ریکارڈ کی فراہمی کا پابند ہو گا جبکہ پولنگ ڈے سے پانچ روز قبل پولنگ اسٹیشن تبدیل نہیں کیا جا سکے گا۔

ترمیمی بل کے مطابق حلقہ بندیاں رجسٹرد ووٹرز کے بجائے آبادی کے تناسب سے کی جائیں گی اور الیکشن کمیشن ماسوائے غیر معمولی کیسز کے حلقہ بندیوں کے دوران اضلاع کی حدود میں رہنے کا پابند ہو گا۔تمام انتخابی حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد برابر ہوگی۔ حلقوں میں ووٹرز کی تعداد میں فرق 5 فی صد سے زیادہ نہیں ہو گا۔پولنگ اسٹیشن میں کیمروں کی تنصیب میں ووٹ کی رازداری یقینی بنائی جائے گی۔امیدوار قومی اسمبلی کی نشست کے لیے 40 لاکھ روپے سے ایک کروڑ روپے تک جبکہ صوبائی نشست کے لیے انتخابی مہم پر 20 سے 40 لاکھ روپے خرچ کر سکیں گے۔غفلت اور دھاندلی کے مرتکب انتخابی عملے، پریذائیڈنگ اور ریٹرنگ افسر کے خلاف الیکشن کمیشن فوجداری کارروائی کرنے کا مجاز ہوگا۔

Back to top button