آٹھ ماہ بعد ادریس خٹک کا پتہ چل گیا، خفیہ اداروں نے اغوا کیا


ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد اب ریاست پاکستان نے آٹھ مہینوں کے طویل انتظار کے بعد تسلیم کر لیا ہے کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادریس خٹک کو سکیورٹی اداروں نے اغوا کر رکھا ہے اور ان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزامات پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
پتہ چلا۔ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیم سے تعلق رکھنے والے ادریس خٹک کی گمشدگی سے متعلق ایک رپورٹ لاپتہ افراد کمیشن کو موصول ہو ئی ہے جو دفتر خارجہ میں جمع کروا دی گئی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے اس رپورٹ کے موصول ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ صوابی ٹول پلازہ سے گذشتہ برس نومبر میں ادریس خٹک اور ان کے ڈرائیور کو سادہ لباس میں ملبوس افراد نے روکا تھا اور اپنی گاڑی میں بٹھا کر ساتھ لے گئے تھے۔ واقعے کے دو روز بعد ادریس خٹک کے ڈرائیور کو چھوڑ دیا گیا تھا جنہوں تھانے میں اغوا کی رپورٹ بھی درج کرائی اور بعد ازاں ادریس خٹک کے اہل خانہ کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں عبد الطیف ایڈوکیٹ کے ذریعے گمشدگی کی درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔ ان کی اس طویل گمشدگی کے بعد ان کے زندہ ہونے کے بارے میں بھی شکوک و شبہات پیدا ہوگئے تھے۔ لیکن اب بظاہر اس تصدیق سے ان کے اہل خانہ کو تسلی ہوئی ہوگی۔ مسنگ پرسن کمیشن کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق ادریس خٹک سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی جاری ہے۔
ادریس خٹک کے وکیل عبد الطیف آفریدی نے بتایا ہے کہ 12 جون کو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ کے پاس مقدمے کی سماعت ہوئی تھی، جس میں وزارت دفاع کے حکام نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ اس معاملے پر جلد رپورٹ جمع کروا دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک انہوں نے رپورٹ نہیں دیکھی اور نہ ان کو موصول ہوئی ہے۔
تاہم اُن کو اب معلوم ہوا ہے کہ وہ خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں جن کو یہ مضحکہ خیز شک ہے کہ ’ادریس خٹک نے روس کے ساتھ پاکستان کے کوئی راز شئیر کیے ہیں۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ اگر ایسا ہے بھی تو یہ ایک مشتبہ کیس ہے، ان پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کیسے لاگو ہو سکتا ہے؟
یاد رہے کہ کچھ مہینے پہلے پاکستانی سکیورٹی اداروں نے معروف وکیل اور سابق آرمی کے افسر کرنل انعام الرحیم کو بھی اسی طرح گھر سے اغوا کیا تھا اور پھر ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا تاہم بعد ازاں حکام سپریم کورٹ میں کرنل انعام کے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے اور انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت بین لاقوامی تنظمیوں نے ادریس خٹک کی گمشدگی کا معاملہ حکومت پاکستان کے ساتھ اٹھایا تھا اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ یہ جبری گمشدگی ہے، حکومت اس کا جواب دے۔ یہی وجہ ہے کہ اب انکے اداروں کی تحویل میں ہونے کے حوالے سے ایک رپورٹ دفتر خارجہ میں جمع کرائی گئی ہے۔ گذشتہ ہفتے کراچی پریس کلب کے باہر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ادریس خٹک کی گمشدگی کے خلاف مظاہرہ بھی کیا گیا تھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ آٹھ ماہ سے ادریس خٹک کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ اگر ان پر کوئی جرم ثابت ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔
ادریس خٹک کی بیٹی طالیہ خٹک نے چند روز قبل اپنے والد کی رہائی کے لیے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بھی چلایا تھا۔ ادریس خٹک کا تعلق اکوڑہ خٹک سے ہے اور وہ عوامی نیشنل پارٹی کے سرکردہ رہنما بھی رہے ہیں۔ انہوں نے روس سے اینتھروپالوجی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور بطور محقق ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں۔ ان کی تحقیق کا ایک بڑا حصہ سابق فاٹا، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے جبری طور پر گمشدہ کیے گئےافراد رہے ہیں جبکہ وہ فعال سماجی کارکن کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔
انسانی حقوق کمیشن کے سابق سربراہ اور عوامی نیشنل پارٹی اے این پی کے سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے ادریس خٹک کے فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک سوشل ایکٹویسٹ ہیں اگر ان کے خلاف کوئی الزام یا ثبوت ہے تو انہیں عدالت میں پیش کرکے باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے۔ اس طرح کسی بھی شہری کو اٹھانا اور غائب کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ان کے پراسرار طور پر غائب ہونے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔ خیال رہے کہ بشری علوم میں روس سے پی ایچ ڈی کرنے والے ادریس خٹک انسانی حقوق کے تحفظ کے بین الاقوامی تنظیموں سے وابستہ رہے ہیں۔ ۔ادریس خٹک کے اہلیہ کا پہلے ہی سے انتقال ہو چکا ہے جب کہ ان کی ایک بیٹی شادی شدہ ہیں اور دوسری انجیئنرنگ یونیورسٹی کی طالبہ ہے۔ حال ہی میں ادریس خٹک کی بیٹی طالیہ خٹک نے ایک ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم عمران خان اور انسانی حقوق کی وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری سے والد کی بازیابی میں مدد کی اپیل کی تھی۔
خیال رہے کہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں پر شہریوں کی جبری گمشدگی کے الزامات لگتے رہے ہیں تاہم ان اداروں اور حکومت کی جانب سے اس کی تردید کی جاتی رہی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے لاپتا یا جبری طور پر گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے خصوصی کمیشن بھی بنایا تھا لیکن یہ بھی اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ نہ صرف ملک بھر میں جاری ہے بلکہ تیزی سے پھیلتا چلا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button