سندھ میں بھی لاپتہ قوم پرستوں کی لاشیں گرنے لگیں

بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعد اب سندھ میں بھی قوم پرستوں کی جبری گمشدگیوں اور قتل کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ چھ ماہ پہلے خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں حیدرآباد سے لاپتہ ہونے والےجئے سندھ قومی محاذ یا جسقم کی مرکزی کونسل کے رکن نیاز لاشاری کی والدہ نے کچھ عرصہ پہلے اس کی تفتیش کرنے والی جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم کے اراکین کے پاؤں میں اپنا دوپٹا ڈالتے ہوئے یہ منت کی تھی کہ جو مرضی کرو لیکن میرے بیٹے کو زندہ چھوڑ دینا۔ تب سے وہ پر امید تھیں کہ ایک نہ ایک دن اسکا نیاز گھر ضرور واپس آ جائے گا۔ جون کے دوسرے ہفتے میں نیاز کے چھوٹے بھائی اطہر لاشاری کو صبح ساڑھے دس بجے فون آیا اور اسے کراچی کے ایک تھانے بلایا گیا۔ اسکا خیال تھا کہ شاید نیاز کو واپس گھر جانے کی اجازت مل گئی ہے لیکن جب وہ اپنی ماں کے ہمراہ تھانے پہنچا تو انھیں نیاز کا شناختی کارڈ اور تصویر دکھائی گئی اور بتایا گیا کہ اس کی لاش جناح ہسپتال میں موجود ہے جس کی کنپٹی پر گولی لگی ہوئی ہے۔ نیاز کی بوڑھی ماں روتے پیٹتے جناح ہسپتال پہنچے اور اس کی لاش وصول کرنے کے بعد چھیپا سینٹر لائے جہاں سے غسل، کفن کے بعد وہ اسے اپنے گاؤں شکارپور لے گئے۔
کراچی پولیس کے مطابق لاپتہ سندھی قوم پرست کارکن نیاز لاشاری کی تشدد زدہ لاش ملیر ضلع کی حدود میں نیشنل ہائی وے کو سپر ہائی وی سے جوڑنے والے لنک روڈ پر واقع سمندری بابا کے مزار کے قریب سے ملی۔ سٹیل ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او شاکر کے مطابق مقتول کو گولی لگی ہوئی تھی جبکہ ان کی جیب میں سے شناختی کارڈ ملا جس پر نام نیاز لاشاری اور پتہ ڈکھن تحریر تھا جس کے بعد لاش قانونی کارروائی کے لیے جناح ہسپتال روانہ کر دی گئی۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ نیاز کی دوبارہ جبری گمشدگی ہوئی اور پھر اسکی لاش ملی۔
32 سالہ نیاز لاشاری کا تعلق شکارپور کے قصبے ڈکھن سے ہے اور وہ کچھ عرصے سے کراچی کے علاقے ملیر میں اپنے خاندان کے ساتھ آباد تھے جہاں وہ درزی کا کام کرتے تھے لیکن پھر نظر کمزور ہو جانے کے بعد انہوں نے رکشہ چلانا شروع کر دیا۔ نیاز لاشاری کی وابستگی جیئے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ سے تھی اور وہ مرکزی کونسل کے رکن تھے۔ ان کی بازیابی کے لیے تنظیم کی جانب سے سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔
وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی کنوینر سورٹھ لوہار کا کہنا ہے کہ نیاز لاشاری کو 10 جنوری 2019 کو حیدرآباد میں واقع انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر سے جبری لاپتہ کیا گیا تھا۔ وہ عدالت میں پیشی کے بعد واپس گھر جارہے تھے کہ انھیں اغوا کیا گیا۔سورٹھ لوہار کے مطابق نیاز لاشاری کو 16 اپریل 2018 کو ملیر کے علاقے پپری میں واقع ان کے گھر سے سادہ کپڑوں میں اہلکار اپنے ساتھ لے گئے تھے اور بعد میں جیئے سندھ قومی محاذ کے ایک اور لاپتہ کارکن بلاول چانڈیو کے ساتھ حیدرآباد میں ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی تھی۔ نیاز لاشاری کے بھائی اطہر لاشاری نے بتایا کہ حیدرآباد پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ نیاز لاشاری کو دستی بموں سمیت گرفتار کیا گیا ہے اور وہ تخریب کاری کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد انھوں نے ضمانت کرا لی تھی اور انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی پر گئے تھے کہ انھیں لاپتہ کیا گیا۔
نیاز لاشاری کی جبری گمشدگی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد میں ان کی والدہ کی جانب سے آئینی درخواست بھی دائر کی گئی تھی، جو ابھی زیر سماعت تھی اور کورونا وائرس کی وجہ سے دوبارہ سماعت ملتوی ہوئی تھی۔
اطہر لاشاری کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ نے ہائی کورٹ کے جج سے چیمبر میں ملاقات کی تھی، عدالت نے سرکاری وکیل کو کہا تھا کہ اگر نیاز لاشاری اداروں کی حراست میں ہیں تو اس کی گرفتاری ظاہر کریں جس پر سرکاری وکیل نے کہا تھا کہ وہ بات کرتے ہیں۔ اطہر لاشاری نے کہا کہ ’میری والدہ جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم کے سامنے بھی پیش ہوئیں اور افسران کے سامنے ہاتھ جوڑے اور دوپٹہ پیروں پر رکھ کر واسطے دیے کہ میرے بیٹے کو زندہ چھوڑ دو چاہے اس پر مقدمہ دائر کر دو، لیکن اسے قتل نہ کرنا لیکن ظالموں نے اسے جان سے مار دیا۔
یاد رہے کہ وفاقی وزارتِ داخلہ نے گذشتہ ماہ سندھ کی دو عسکریت پسند تنظیموں سمیت قوم پرست جماعت جئے سندھ قومی محاذ (جسقم) کے آریسر گروپ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ سرکاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا تھا کہ جئے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ، سندھو دیش ریولوشنری آرمی اور سندھو دیش لبریشن آرمی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت کالعدم قرار دیا گیا ہے اور یہ تنظیمیں تخریب کاری میں ملوث رہی ہیں۔ لیکن کالعدم جیئے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ کے چیئرمین اسلم خیرپوری کا کہنا ہے کہ وہ جی ایم سید کے نظریے کے پیروکار ہیں جس کے تحت ان کی منزل سندھو دیش ہے۔ تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی جماعت پرامن جدوجہد کر رہی ہے کیونکہ جی ایم سید نے کبھی ہتھیار نہیں اٹھایا۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے 32 سال جیل اور نظر بندی میں گزار دیے لیکن تشدد کی حمایت نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو نیاز لاشاری جیسے قیمتی ورکر کی موت کا حساب دینا ہو گا۔
