سائفر ڈرامے نے عمران کوناقابل اعتبار رہنما کیسے ثابت کیا؟

سینئر صحافی اور کالم نگار انصار عباسی نے کہا ہے کہ۔ عمران خان نے اپنے ذاتی سیاسی مفادات کیلئے جو جو کھیل کھیلے وہ بہت خطرناک تھے چاہے وہ سائفر کا ڈرامہ ہو، آئی ایم ایف کی ڈیل کو ناکام بنوانے کی سازش ہو، فوج کے خلاف بدترین مہم چلانا ہو یا نو مئی کا واقعہ۔ عمران خان نے نہ صرف اپنے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دیا بلکہ خود کو ایک ایسا سیاسی رہنما ثابت کیا جس پر کسی کو کوئی اعتبار نہیں رہا اور نہ ہی اُس کو اب کوئی اہم قومی ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔ اپنی ایک تحریر میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ 2022‘ میں ایسی کئی آڈیوز ایجنسیوں کے پاس موجود تھیں جن میں تحریک انصاف کے رہنما سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے مخالفین کے ساتھ ساتھ فوج اور فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ ایک مبینہ آڈیو تو ایسی بھی ہے جس میں عمران خان اپنی وزارت عظمیٰ کے آخری دنوں میں اپنے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو امریکی مراسلہ کا حوالہ دے کر کچھ اس طرح کہتے ہیں ـ’Lets play with it‘۔‘‘
اب سابق وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کا مجسٹریٹ کو دیا گیا بیان سامنے آگیا،جس میں سائفر (امریکی مراسلہ) کے ایشو پر اعظم خان نے عمران خان کے خلاف بیان ریکارڈ کرا دیا جس کے مطابق سائفر ایک سوچا سمجھا ڈرامہ تھا جسے عمران خان نے سیاسی مقاصد کیلئے رچایا۔ ٹی وی چینلز کے ذریعے سامنے آنے والے اعظم خان کے اس بیان کے مطابق جب عمران خان نے سائفر کو دیکھا تو خوشی کا اظہار کیا اور اس کی زبان کو بلنڈر قرار دیتے ہوے کہا کہ اب اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کے خلاف بیانیہ تیار کرنے کیلئے سائفر کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خبروں کے مطابق اعظم خان نے یہ بھی اعتراف کیا کہ عمران خان نے ان سے کہا تھا کہ وہ اسے عوام کے سامنے پیش کریں گے اور اس بیانیے کو توڑ مروڑ کر پیش کریں گے کہ مقامی شراکت داروں کی ملی بھگت سے غیر ملکی سازش رچائی جا رہی ہے۔ انصار عباسی کہتے ہیں کہ سائفر عمران خان کا ایک جھوٹ ہے جس کے ذریعے اُنہوں نے اپنے ملک کی اسٹیبلشمنٹ پر غداری کے الزامات لگائے اور فوج کی اعلیٰ ترین قیادت کیلئے میر جعفر، میر صادق اور جانور جیسے حوالے استعمال کئے۔ کئی ماہ اس جھوٹے بیانیے کا ڈھنڈورہ پیٹنے کے بعد عمران خان خود بھی اس بیانیہ سے مُکر گئے اور کہا کہ امریکہ نے کوئی سازش نہیں کی بلکہ سازش پاکستان سے امریکہ ایکسپورٹ کی گئی۔ اپنے ذاتی سیاسی مفادات کیلئے عمران خان نے جو کھیل کھیلا اُس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔
وزیر داخلہ نے اس ایشو پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اعظم خان کے اقبالی بیان کے تناظر میں عمران خان کو ہر قیمت پر سزا ملنی چاہئے، عمران خان اور اُن کے ساتھ ملوث جتھے کو قانون کے سامنے لانا ضروری ہے۔ پہلے تو اس مسئلہ پر زبانی کلامی الزامات لگتے رہے، بعد میں آڈیوز سامنے آ گئیں جن کی بنیاد پر قانونی کارروائی شروع کرنے کے بارے میں شکوک تھے۔ لیکن اب تو عمران خان کے قریب ترین سرکاری افسر نے ایک ایسا بیان دے دیا جس کی قانون کے مطابق بڑی حیثیت ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق یہ اعظم خان کا اقبالی بیان ہے جس سے عمران خان کیلئے سنگین مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ انصار عباسی کہتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف گھیرا تیزی سے تنگ ہو رہا ہے۔ دوسرے مختلف کیس بھی تیزی سے انجام پزیر ہو رہے ہیں اور بظاہر اُن کے خلاف کوئی بڑا انتظامی ایکشن ہونے والا ہے ، جس خطرےکا عمران خان خود بھی اظہار کر رہے ہیں اور عدالتی فیصلہ آئندہ ہفتوں میں آ سکتا ہے۔ اعظم خان تو عمران خان کے خلاف سامنے آ چکے، اب دیکھنا ہے کہ کوئی دوسرا کب چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف گواہی دینے کیلئے سامنے آتا ہے۔
