اتحادیوں کی ناراضی کپتان سرکار کے لیے چیلنج بن گئی

اتحادیوں کی ناراضی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیے نیا چیلنج بن گئی۔ جہانگیر ترین کی سربراہی میں حکومتی وفد نے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے وفد سے ملاقات کی اور شکایات دورکرنے کی یقین دہانی کرائی۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے وفد سے بھی ملاقات کی اور ان کے کے تحفظات اور مطالبات جلد پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی.حکومتی وفد میں بیرسٹر فروغ نسیم، اعظم سواتی، ارباب شہزاد شریک ہوئے جبکہ بی این پی وفد کی سربراہی ڈاکڑ جہانزیب جمالدینی نے کی۔ملاقات میں بی این پی کے چھ نکاتی ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
خیال رہے کہ ان دنوں وفاق میں حکومت کی اتحادی جماعتیں ناراض ہیں اور انہوں نے حکومت کو اتحاد میں شمولیت کے وقت کیے گئے وعدے یاد دلادیے ہیں۔
سب سے پہلے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل نے صوبے کے مسائل حل نہ ہونے پر حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دی۔پھر ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے تحفظات کا اظہار کیا اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے مستعفی ہوگئے۔وزیراعظم کی ہدایت پر حکومتی وفد ایم کیو ایم کو منانے بہادرآباد پہنچا تاہم خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ وہ کابینہ میں واپس نہیں آئیں گے البتہ حکومت کے ساتھ ہیں۔
بعد ازاں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے تحفظات کا اظہار کردیا جنہیں منانے گورنر سندھ کنگری ہاؤس پہنچے اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ ان کے مطالبات حل ہوں گے۔
پھر خبر آئی کہ ق لیگ نے بھی حکومت سے اپنے تحفظات کا اظہار کردیا ہے اور کہا ہے کہ اختیارات میں رکاوٹ اور حلقوں میں مداخلت ختم کی جائے اور ترقیاتی فنڈز فوری دیے جائیں ورنہ دھماکا ہوگا۔ ق لیگ نے حکومت کو ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دی ہے اور کہا ہے کہ مونس الہی ٰ کے لیے وزارت جیسا منفی پراپیگنڈا ہر گز نہیں ہونا چاہیئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button