دو مچھلیوں نے کراچی کے مچھیروں کے دن پھیر دئیے

مشہور کہاوت ہے کہ اللہ جب بھی دیتا ہے چھپر پھاڑ کر دیتا ہے اور راتوں رات انسان کی قسمت بدل کر رکھ دیتا ہے، ایسا ہی ایک واقعہ کراچی کے غریب ترین ماہی گیروں کے ساتھ پیش آیا جس نے ان کی قسمت بدل دی اور انہیں ککھ پتی سے لکھ پتی بنا دیا۔
کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری کے ماہی گیروں کیلئے وہ وقت کسی کرشمے سے کم نہیں تھا جب مہنگی ترین تصور کی جانے والی ’’سُوا‘‘ مچھلی شکار کے دوران اچانک ان کے جال میں پھنس گئی۔ یہ مچھیرے پکڑنے تو گے تھے ہیرا مچھلی لیکن ان کی قسمت جاگ اٹھی اور ان کے جال میں دو عدد ’’سُوا‘‘ مچھلیاں بھی پھنس گیئں جن کی فی کس قیمت 25 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ یوں بیٹھے بٹھائے یہ ککھ پتی مچھیرے لکھ پتی بن گئے۔
ان خوش قسمت ماہی گیروں کی موبائل پر ریکارڈ کی گئی ویڈیو کے مطابق یہ لوگ معمول کے مطابق شکار کے بعد سمندر میں سے جال نکال رہے تھے۔ مچھیرے ہیرا مچھلیوں سے بھرا ہوا جال جیسے ہی پانی سے باہر نکالتے ہیں تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔ سندھی زبان میں ایک بزرگ ماہی گیر کی آواز آتی ہے کہ سوّا ہے سوّا۔ یہ دیکھ کر ماہی گیر خوشی سے ناچنے لگتے ہیں، جیسے جیسے جال پانی سے اوپر آتا ہے تو دوسری آواز آتی ہے کہ ‘ایک نہیں، دو ہیں دو۔’ مچھلیوں والا جال جب اوپر کشتی میں پہنچتا ہے تو خوشی کے مارے ایک ماہی گیر کی چیخ نکل جاتی ہے، برف اٹھانے والی قینچی سے ان مچھلیوں کو دوسری مچھلیوں سے الگ کردیا جاتا ہے جبکہ ایک ماہی گیر خوشی میں جھوم اٹھتا ہے۔
ترجمان کوسٹل میڈیا سینٹر کمال شاہ کے مطابق ایک گولڈن سوُا مچھلی کی قیمت 20 سے 25 لاکھ روپے ہے۔ بہت زیادہ شکار ہونے کے باعث سوا مچھلی معدومی کے خطرے سے دوچار ہے لہذا بہت قیمتی شمار کی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس مچھلی کی چربی طبی مقاصد کےلیے استعمال کی جاتی ہے۔ ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ پچھلے دنوں متواتر آنے والے سمندری طوفانوں کے بعد پاکستانی پانیوں میں مچھلیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔
واضح رہے کہ سوا مچھلی خود کو پانی پر تیرانے کےلیے ایک باوونسی bouncy جھلی اپنے جسم میں رکھتی ہے۔ اس جھلی کو مقامی ماہی گیر پھوٹی کہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مچھلی کے مہنگا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ایک بالغ سوا مچھلی کی جھلی سے سرجری کے بعد ٹانکے لگانے والا قیمتی دھاگا بنتا ہے۔ یہ دھاگا عموما جسم کی اندرونی جراحی میں استعمال ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سوا مچھلی کی اندرونی جھلی یا ریشے سے بننے والا دھاگا قدرتی طور پر بایو ڈگریڈیبل ہوتا ہے اور جسم کے اندر جاکر کچھ عرصے بعد از خود گھل کر ختم ہوجاتا ہے۔ سوا مچھلی اگر سمندر میں مرجائے تو سطح آپ پر تیرنے لگتی ہے۔ آخری دفعہ ایک مردہ سوا مچھلی کوئی دس سال قبل سمندر کنارے کسی بچے کو ملی تھی جو ایک مقامی تاجر نے فوراً خریدلی تھی۔
ماحول کے بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے مطابق یہ مچھلی کروکر نسل سے تعلق رکھتی ہے جس کو سندھی میں سوّا کہا جاتا ہے جبکہ اس کا سائنسی نام ارگائیروسومس جیپونیکس ہے۔اس کا سائز ڈیڑھ میٹر تک ہوسکتا ہے جبکہ وزن 30 سے 40 کلو بھی ہوسکتا ہے، یہ پورا سال ہی پکڑی جاتی ہے لیکن نومبر سے مارچ تک اس کی دستیابی آسان ہوجاتی ہے کیونکہ یہ بریڈنگ سیزن ہے۔ اس کے مہنگے ہونے کی ایک اور وجہ اس میں موجود ایئر بلیڈر ہے جسے مقامی زبان میں پوٹا کہتے ہیں۔ اس کے ذریعے یہ پانی میں اوپر آتی ہے اور نیچے جاتی ہے، یہ بلیڈر تمام ہی مچھلیوں میں ہوتے ہیں لیکن کروکر میں تھوڑے موٹے اور تندرست ہوتے ہیں۔
پاکستان میں سوّا سندھ اور بلوچستان کی سمندری حدود میں پائی جاتی ہے۔ ساحلی علاقے، کھاڑیاں اور کھلا سمندر اس کی آماجگاہ ہے۔ اس مچھلی کی تلاش میں کئی بار کاجھر کریک سے پاکستانی ماہی گیر انڈین نیوی کے ہاتھوں گرفتار ہوچکے ہیں۔
سوّا مچجلی کی خوراک میں جانور اور چھوٹی مچھلیاں شامل ہیں۔ یہ غول کے ساتھ رہتی ہے اور کبھی کبھار تو ان کا پورا غول ہی جال میں آجاتا ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کو خدشہ ہے کہ کروکر نسل کی یہ مچھلی پاکستان کے پانیوں سے بھی معدوم ہو رہی ہے۔ پہلے یہ مچھلی کنارے سے لے کر سو میٹر تک پکڑی جاتی تھی مگر اس کے ریشوں اور بلیڈر کی منہ مانگی قیمت کی وجہ سے اب اس کی آبادی تیزی کے ساتھ ختم ہو رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button