ادارے آئین سے بڑے نہیں ہوتے، آئین انہیں جنم دیتا ہے

پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت قرار دیے جانے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ میں اگر بطور جج آزاد فیصلے نہ لکھوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں اپنے آئینی حلف کی پاس داری نہیں کر رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے آئین سے بڑے نہیں ہوتے کیونکہ آئین ہی انکو جنم دیتا ہے، لہازا وہ اسی کے ماتحت ہوتے ہیں۔ قاضی عیسی نے کہا کہ عموما کہا جاتا ہے جج صاحبان کو اپنے فیصلوں کے ذریعے بات کرنی چاہیے۔ لیکن سچ یہ یے کہ وہ بحثیت وکیل ایک ذیادہ آزاد انسان تھے کیوں کہ جج بن جانے کی بعد اب وہ کسی معاملے پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔
19 جون کو اپنے والد اور قائد اعظم کے ساتھی قاضی محمد عیسیٰ کی برسی کے موقع پر سینئیر صحافی عبدالقیوم صدیقی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ وہ بطور ایک جج انٹرویو نہیں دے رہے بلکہ قاضی محمد عیسیٰ کے فرزند کی حیثیت سے بول رہے ہیں۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ادارے آئین کے ماتحت ہوتے ہیں، ادارے بنتے ہی آئین سے ہیں۔ اگرآئین اداروں کو نہ بنائے تو ادارے نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پر ہی سب حلف اٹھاتے ہیں جیسے سپریم کورٹ آئین کے ماتحت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اداروں کی اپنی کوئی اہمیت نہیں لیکن آئین اداروں سے بالاتر ہے اور اسکا آرٹیکل پانچ کہتا ہے کہ ہر پاکستانی ملکی آئین کا پابند ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بقول: عوام کو ان لوگوں کے بارے میں بھی پتہ ہونا چاہیے جنہوں نے پاکستان بنایا۔ اپنے والد کی قیام پاکستان میں خدمات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کے والد نے پاکستان سے کچھ نہیں لیا، کوئی پینشن لی نہ پلاٹ بلکہ اپنی جائیداد پاکستان پر لٹا دی۔انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے بتایا کہ ان کے دادا قاضی جلال الدین قندھار سے تعلق رکھتے تھے اور وہاں قاضی تھے۔ ان کا تعلق شاہ مقصود کے خاندان سے تھا۔انہوں نے بتایا کہ شاہ مقصود ولی اللہ تھے اور قندھار کے قریب ان کا مزار بھی موجود ہے۔‘ قاضی عیسی نے بتایا کہ انکے دادا اقلیتوں کے حقوق کی ایک توانا آواز تھے لیکن اس وقت کے افغانستان کے حکمرانوں کو ان کی یہ روش پسند نہیں آئی۔ لہازا وہ ہجرت کر کے بلوچستان کے علاقے پشین میں آبسے۔ اس وقت افغانستان تھا اور برٹش انڈیا تھا۔ قاضی جلال الدین نے پشین میں سکونت اختیار کی اور شادی بھی وہیں پر کی۔ ان کے تین بیٹے پیدا ہوئے۔
قاضی فائز عیسی کے والد ان کی منجھلی اولاد تھے۔ قاضی محمد عیسیٰ نے لندن سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور کوئٹہ کے پہلے بیرسٹر بنے۔ کوئٹہ میں مئی 1935 میں آنے والے زلزلے میں ان کا گھر تباہ ہو گیا تھا۔
قاضی فائز عیسیٰ نے قیام پاکستان سے قبل اپنے والد قاضی محمد عیسیٰ کی قیام پاکستان بارے کوششوں کے حوالے سے بتایا کہ قائداعظم محمد علی جناح سے قاضی محمد عیسیٰ کی ملاقات 1932 میں لندن میں ہوئی تھی۔ ان سے دوسری ملاقات میں دوستی کی ابتدا ہوئی۔ وہی ملاقات بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ کی بنیاد کا سبب بنی۔ انہوں نے 1940 میں لیاقت علی خان کو مسلم لیگ بلوچستان کی سالانہ تقریب میں شرکت کی دعوت دی۔ 1943 میں جب قائداعظم نے بلوچستان کا دورہ کیا تو جناح کیپ، جو قائداعظم کے پہننے کے بعد سے مشہور ہوئی اور جناح کیپ کہلائی، وہ اس وقت قائداعظم نے پہلی بار بلوچستان سے خریدی تھیں۔ قائداعظم کو بلوچستان سے خاص محبت تھی اس لیے 14 نکات میں بلوچستان کو صوبہ بنانے کا کہا گیا تھا۔
قاضی فائز عیسیٰ نے بلوچستان کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کی نشاندہی اچھی بات ہوتی ہے لیکن صرف تنقید نہ کی جائے بلکہ پہلے مسئلے کی نشاندہی کی جائے۔
انہوں نے اپنے انٹرویو کا اختتام اس شعر پر کیا:
نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھیے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
