جیکب آباد میں پسند کی شادی جرم بن گیا،سزاپورےگاؤں کو مل گئی

سندھ کے شہر جیکب آباد میں پسند کی شادی کرنا جرم بن گیا۔گھرجلاکرسزا پورے گاؤں کو دےدی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 4 مئی کو لڑکا لڑکی نے حیدرآباد کی عدالت میں اپنی مرضی سے شادی کی تھی۔دونوں کا کہنا ہے کہ وہ گھر سے کچھ لے کر نہیں نکلے، ان پر سونا چوری کرنے کا جھوٹا الزام لگایا گیا۔
مسلح افراد نے درجنوں گھروں اور املاک کو جلا دیا، فائرنگ کرتے رہے، کسی نے نہیں روکا، ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
5مئی کو پیش آنے والے واقعے کا مقدمہ 32 ملزمان کے خلاف درج کرلیا گیا، 5 ملزمان گرفتار کرلیے گئے، 10 روز قبل پسند کی شادی پر چنہ برادری نے برڑو برادری کے متعدد گھر جلا دیے تھے۔
واضح رہے کہ پسند کی شادی کرنے پر جلائے گئے گھروں میں ایک ایسا گھر بھی جل گیا، جہاں ایک ہفتے بعد بیٹی کی شادی ہونا تھی، گھر اور سامان جل کر راکھ ہونے کے بعد متاثرہ خاندان شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جیکب آباد میں پسند کی شادی پر گاؤں کے گھروں کو جلانے کا نوٹس لے لیا۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ جیکب آباد کا افسوس ناک واقعہ ایک ہفتہ پرانا ہے، پسند کی شادی کرنے کے بعد یہ واقعہ پیش آیا تھا، لڑکی کے خاندان والوں نے اغوا کی ایف آئی آر کٹوائی، لڑکی نے ہائی کورٹ میں پسند کی شادی کی۔
شادی شدہ جوڑے نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اغوا نہیں پسند کی شادی کی ہے، لڑکی کے خاندان کے کچھ افراد نے پیغام دیکھ کر انتشار پھیلایا۔
پولیس نے موقع پر پہنچ کر ملزمان کو گرفتار کیا، ابھی تک انسداد دہشت گری کی دفعات کے تحت 5 افراد گرفتار ہیں، 20 افراد موقع سے فرار ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔

Back to top button