اداکارہ ریشم کا صائمہ سے کامیاب فلم اسٹار تک کا سفر

ایسا کیوں لگتا ہے کہ لالی ووڈ کی ہر اداکارہ کے دو چہرے ہیں اور ان سے منسوب ہر بات جھوٹ اور ہر کہانی "فیک” ہے؟ دراصل ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی طرح ہماری اداکارائیں نہ تو کھلی کتاب کی طرح ہیں اور نہ ہی انھیں کسی قسم کا کمپلیکس ہے جبکہ ہماری اکثر اداکاراؤں کی زندگی جھوٹ نبھاتے گزر جاتی ہے۔ تاہم اداکارہ ریشم کا شمار ان اداکاراؤں میں ہوتا ہے جو عرصہ دراز سے ایک ہی کہانی دوہرا رہی ہیں۔
ریشم کون ہیں ، کہاں سے آئی ہیں اور باجی شمیم کون ہیں؟ ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ریشم بتاتی ہیں کہ ان کا تعلق فیصل آباد سے ہے جہاں چار بہنوں اور ایک بھائی کے ساتھ انھوں نے اپنا بچپن گزارا۔ والدین نہیں رہے تو ساری ذمہ داری بڑی بہن کے کندھوں پر آ گئی اور باجی شمیم ریشم کی بڑی بہن ہیں۔ باجی شمیم میرڈ ہونے کے باوجود چھوٹے بھائی بہنوں کا سہارا بن گئیں۔ ان کے شوہر نے جب دیکھا کہ باجی ان کی ساری کمائی اپنے بھائی بہنوں پر لُٹا رہی ہیں تو انھوں نے ہاتھ کھینچ لیا بلکہ باجی سے ہی علیحدگی اختیار کر لی۔
پھر کیا ہوا؟ ریشم کی کہانی کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ریشم کو، جن کا اصلی نام صائمہ ہے، شوبز میں باجی نے ہی متعارف کروایا جبکہ بقول ریشم، انھیں بہت مشکل سے ٹی وی پر کام کرنے کی اجازت ملی تھی۔
ریشم کا ڈیبیو سیریل "دن” تھا جبکہ پہلی فلم "جیوا” تھی جس نے ریشم کو راتوں رات سٹار بنا دیا۔ وہ ایوب خاور اور بابرا شریف کو اپنا مینٹور قرار دیتی ہیں۔ ایکٹنگ اور شاعری میں اگرچہ وہ ایوب خاور کو اپنا گرو مانتی ہیں لیکن ریشم کی سٹائلنگ اور گرومنگ میں بابرا شریف کا بہت ہاتھ ہے۔ یہی وجہ ہے اکتالیس سالہ ریشم کی اس وقت شوبز میں ہی نہیں فیشن انڈسٹری میں بھی بہت مانگ ہے۔ ریشم کو دیکھ کر آج کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ انھوں نے صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کی ہے۔ آج وہ ایک بااعتماد اداکارہ اور ماڈل نظر آتی ہیں۔ تاہم وہ اپنی زندگی میں ایک کمی کی وجہ سے خود کو ادھورا محسوس کرتی ہیں۔ 2014 سے لے کر ہر سال اعلان کے باوجود وہ دُلہن نہیں بن سکیں۔
جو لوگ ریشم کو جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ یہ بھی ضرور جانتے ہوں گے کہ ریشم نے اپنا گھر بسانے کی دل سے کوشش کی، اسی لئے دھوکے بھی بہت کھائے۔ ان کی زندگی میں جتنے بھی مرد آئے، انھیں صائمہ نہیں ریشم کی اٹریکشن کھینچ لاتی تھی۔ وہ شادی کے "لارے” بھی دیتے، محبت کے دعوے بھی کرتے لیکن یہ سب وقتی ہوتا۔ بقول ریشم، بدنصیب ہیں وہ مرد جنھوں نے انھیں ٹھکرا دیا۔ میرے اندر تو اتنی عاجزی ہے کہ جو بھی اپنائے گا، اپنی قسمت پر رشک کرے گا۔۔۔ فرانس کے پاکستانی نژاد ڈیزائنر محمود بھٹی سے قربت کے بعد جدائی نے ریشم کو سب سے زیادہ ہرٹ کیا، ایک لمبا عرصہ وہ اس "ٹروما” سے ہی باہر نہیں نکل سکیں۔۔۔ اورایک بار نہیں، محبت کرنے والے کئی بار ملے مگر شادی ابھی ان کی قسمت میں نہیں۔ اپنے ایک انٹرویو میں وہ یہاں تک کہہ چکی ہیں ہیں کہ اب میں صرف بچوں کے لئے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ کبھی کہتی ہیں جو ہوا، اچھا ہی ہوا۔ شاید اسی میں بہتری ہو۔ کھیل، سیاست، ادب، موسیقی، فیشن، آرٹ، کوئی ایسا شعبہ نہیں جس میں ریشم کی دوستیاں نہیں، کئی ایک نے تو انھیں پروپوز بھی کیا مگر ریشم کو ایسے شخص کی تلاش ہے جو ریشم کو نہیں صائمہ کو اپنائے۔ وہ صائمہ سے ریشم تو بنا دی گئیں، لیکن وہ کوشش کے باوجود صائمہ سے خود کو آزاد نہیں کروا سکیں۔ بہرحال ریشم سے شادی کے خواہشمند فینز کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ اگر تو آپ مہذب فین ہیں، ٹھرکی نہیں اور ریشم کو دل سے چاہتے ہیں تو شمیم باجی کے ذریعے ریشم سے بات کر سکتے ہیں۔ ریشم لالی ووڈ کی باقی ایکٹریسز کی طرح نہ تو اپنی عمر چھپاتی ہیں اور نہ ہی انھیں اپنے فیملی بیک گراؤنڈ پر کوئی شرمندگی ہے۔
ریشم کے حوالے سے ایک اور اہم بات، جس کا بہت کم لوگوں کو علم ہے، وہ یہ کہ ان کا ملکہ ترنم نورجہاں کی فیملی سے گہرا رشتہ تھا۔ ظلِ ہما کو تو وہ اپنی منہ بولی ماں کہتی ہیں۔ اسی طرح استاد نصرت فتح علی خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ریشم ان کی بہت بڑی مداح تھیں۔ وہ گھنٹوں ان کے پاس بیٹھی رہتیں، وہ گاتے اور یہ نہ صرف انھیں شوق سے سنتیں بلکہ خود بھی بہت اچھا گانے لگیں۔ ریشم نے انڈسٹری کو لاتعداد بلاک بسٹر فلمیں اور ڈرامے دیئے ہیں۔ فیشن شوز میں وہ "شو سٹاپر” کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ ریشم اگر اداکارہ نہ ہوتیں تو ان کا نام انسانیت کی خدمت کے لئے خود کو وقف کر دینے والوں کی فہرست میں ضرور شامل ہوتا!!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button