’’اداکار عثمان مختار نے شوبز میں لابی سسٹم کا راج قرار دیدیا‘‘

معروف اداکار عثمان مختار نے انکشاف کیا ہے کہ شوبز انڈسٹر میں کوئی اقرباپروری نہیں ہے بلکہ لابی سسٹم نے جڑیں پکی کر رکھی ہیں، لیکن وہ ذاتی طور پر گروپ بندی کو غلط نہیں سمجھتے ہیں۔عثمان مختار حال ہی میں کامیڈی شو ’’مذاق رات‘‘ میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے شوبز سمیت دیگر معاملات پر کھل کر بات کی، پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ ماہرہ خان اور کبریٰ خان کے ساتھ کیے گئے ڈرامے ’ہم کہاں کے سچے تھے‘ کا سکرپٹ پڑھا تھا اور انہیں اندازہ تھا کہ ان پر تنقید ہوگی لیکن ان پر حد سے زیادہ تنقید کی گئی، انہیں اسکرپٹ پڑھتے ہوئے احساس ہوگیا تھا کہ ان پر تنقید ہوگی لیکن ڈراما نشر ہونے کے بعد ان کے اندازوں سے زیادہ تنقید کی گئی۔ڈرامے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک اور سوال پر عثمان مختار کا کہنا تھا کہ ڈراما دو خواتین کے کرداروں کی کہانی پر مبنی تھا اور انہیں بطور اداکار برا نہیں لگا کہ اس میں مرد کا کردار کوئی خاص نہیں، ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں کئی سال سے ڈراموں اور فلموں کے کردار صرف مرد حضرات کے لیے لکھے جاتے رہے ہیں، لیکن اب کچھ کردار خواتین کے لیے بھی لکھے جانے لگے ہیں اور انہیں ’ہم کہاں کے سچے تھے‘ میں خواتین کرداروں کے مقابلے میں اپنا کردار غیر اہم نہیں لگا۔پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ زندگی کے بہت سارے معاملات کے لیے والدہ اور اہلیہ سے مشورے لیتے ہیں، اداکاری میں کس طرح قدم رکھا کہ سوال پر انہوں نے انکشاف کیا کہ 2006 میں انہوں نے ایک تھیٹر اسٹیج کے لیے آڈیشن دیا، جس میں وہ کامیاب گئے، جس کے بعد انہوں نے پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، ساتھ ہی عثمان مختار نے کہا کہ انہیں اداکاری کا شوق نہیں تھا بلکہ انہیں فلمیں بنانے کا شوق تھا لیکن اتفاق سے وہ اداکار بھی بن گئے۔پاکستانی شوبز انڈسٹری میں اقربا پروری سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کا ذاتی خیال ہے کہ ملکی انڈسٹری میں بیرون ممالک اور خصوصی طور پر بھارتی شوبز انڈسٹری کے مقابلےبہت کم اقربا پروری ہے، ان کے خیال میں پاکستانی شوبز انڈسٹری میں 10 فیصد تک اقربا پروری ہوگی۔عثمان مختار نے اس پر مزید کہا کہ ان کا ذاتی خیال ہے کہ لابی سسٹم غلط نہیں ہے، بعض اداکاروں اور ہدایت کاروں کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ مزہ آتا ہے، اس لیے ان کا گروپ بن جاتا ہے اور اس میں کوئی غلط بات نہیں، مثال دی کہ گروپ بندی ہالی وڈ سے لے کر بالی وڈ تک ہوتی ہے، متعدد ہالی وڈ اداکار ایسے ہیں جنہوں نے کئی سال تک ایک ہی ہدایت کار کے ساتھ کام کیا۔
