اسلامی جمعیت طلبہ انتہا پسندی سے باز کیوں نہیں آتی؟

ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کا ایک اور واقعہ ایبٹ آباد شہر کی کامسیٹس یونیورسٹی میں پیش آیا جب اسلامی جمعیت طلبہ سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند عناصر نے ڈنڈے کے زور پر دھمکیاں دے کر 5 دسمبر کے لیے طے شدہ ایک میوزک کنسرٹ کا انعقاد رکوا دیا۔ دوسری جانب نے میوزک کنسرٹ کرانے والے پروگریسو طلباء کا اصرار ہے کہ وہ یہ پروگرام کروا کر رہیں گے لہذا یونیورسٹی میں صورت حال کشیدہ ہے۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے دباؤ اور دھمکیوں کے بعد میوزک کنسرٹ کینسل کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے جامعہ کے طلباء و طالبات نے اس پر تشدد رویے کی مذمت کی ہے اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کا نوٹس لیا جائے۔
کامسیٹس یونیورسٹی کی سوسائٹی ’فن کدہ‘ کے زیر اہتمام ہونے والے اس کنسرٹ میں ممتاز گلوکار اور فنکار فرحان سعید نے خصوصی پرفارمنس دینا تھی۔ تاہم اسلامی جمعیت طلبا نے ایک ہفتہ پہلے ہی اس پروگرام کے خلاف ایک منظم مہم شروع کر دی تھی۔ جمیعت والوں نے حد یہ کی کہ نماز جمعہ کے خطبوں میں بھی اس میوزک کنسرٹ کے خلاف فتوے دلوا دیے۔ لہذا گذشتہ جمعے کو مختلف مساجد کے خطیبوں نے کنسرٹ کے خلاف تقاریر کیں جن میں شہری اور یونیورسٹی انتظامیہ کو خبردار کیا گیا کہ اگر ایسا پروگرام منعقد کرنے کا سوچا بھی گیا تو اس کے خلاف شدید ترین احتجاج ہوگا۔
اسلامی جمعیت طلبا ایبٹ آباد کے ناظم حنظلہ داؤد کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ تعلیمی اداروں میں موسیقی کے پروگرام ہوں۔ ’تعلیمی ادارے تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہیں، میوزک کنسرٹ کے لیے نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ کامسیٹس یونیورسٹی کی انتظامیہ یونیورسٹی میں پروگرام منعقد کر رہی ہے اور اس کے باقاعدہ ٹکٹ فروخت کررہی ہے۔ ’یونیورسٹی کوئی ہال یا سینما گھر تو نہیں ہیں جہاں پر کسی شو کے ٹکٹ فروخت ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس پروگرام کو منسوخ کیا جائے اور ہماری رائے کا احترام کیا جائے۔‘
دوسری جانب یونیورسٹی کی ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ اُس نے اور اُسکی دوستوں نے گھر والوں سے کنسرٹ میں شرکت کی اجازت حاصل کر لی تھی۔ ’ہم لوگ پُرجوش تھے مگر جب سے سوشل میڈیا پر اور مساجد سے مہم شروع ہوئی ہے، تب سے جامعہ میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں انہیں محتاط رہنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ ایک اور طالب علم کا کہنا تھا کہ ایسے پروگرام ہونے چاہییں اور ان پر پابندی افسوسناک ہے۔ انکامکہنا تھا کہ ’نوجوانوں کے ووٹ سے برسر اقتدار آنے والی حکومت کو نوجوانوں کے جذبات کا خیال کرنا چاہیے۔‘
دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق وہاں میں ہر تھوڑے عرصے بعد طلبا و طالبات کی تفریح کے لیے فن کدہ کوئی نہ کوئی ایونٹ منعقد کرواتی رہتی ہے جس میں کبھی مقامی فنکاروں اور کبھی دوسرے شہر کے فنکاروں کو دعوت دی جاتی ہے۔ اس سال بھی فن کدہ نے اپنی روایات کے مطابق ایونٹ منعقد کروانے کااعلان کیا تھا۔
پہلے اس ایونٹ کو اوپن رکھا گیا تھا مگر بعد میں اس کو ہال میں منعقد کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سوسائٹی نے بتایا کہ اس ایونٹ میں داخلے کے لیے ایک ہزار اور دو ہزار روپے کی ’مناسب‘ فیس مقرر کی گئی جس کا مقصد حاصل ہونے والی رقم کو فلاحی کاموں پر خرچ کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا سری لنکن مینجر کو تحریک لبیک والوں نے مارا؟
سوسائٹی کے ایک عہدیدار طالب علم، جو دھمکیوں کے بعد خوف کا شکار ہیں، بتاتے ہیں کہ ان کی تمام تر کوشش کے باوجود کنسرٹ کو کینسل کر دیا گیا حالانکہ اُنھوں نے اعتراضات سے بچنے کے لیے اس پروگرام کو اوپن ایئر کے بجائے ہال میں کروانے پر بھی اتفاق کر لیا تھا۔ اُنھوں نے بتایا کہ پہلے پروگرام کا دورانیہ پانچ سے چھ گھنٹے تک تھا اور اس میں کئی فنکاروں کی پرفارمنس کے علاوہ مختلف پروگرام منعقد کروانے تھے، مگر اب اس کو بہت محدود کر دیا گیا تھا، اس کے باوجود بھی دھمکیاں دے کر اسے کینسل کروا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں ایسے پروگرام منعقد ہوتے رہتے تھے، مگر اس مرتبہ انہیں انتہا پسند مذہبی عناصر کی جانب سے دھمکیاں ملنی شروع ہو گئیں۔
فن کدہ سوسائٹی کے ایک اور طالب علم عہدیدار کے مطابق میوزک کنسرٹ یونیورسٹی انتظامیہ کی مکمل مشاورت بلکہ ’ہدایات‘ کے مطابق کیا منعقد کیا جا رہا تھا جس کے لیے کافی عرصے سے تیاریاں جاری تھیں لیکن اب مذہبی انتہا پسندوں کے دباؤ میں آکر یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک مثبت سرگرمی کے بارے میں ’معذرت خواہانہ رویہ‘ اختیار کر لیا ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے۔
ایبٹ آباد پولیس کے مطابق اُنھوں نے صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے کیونکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے میوزک کنسرٹ کو کینسل کرنے کے اعلان کے باوجود طلبہ یہ پروگرام منعقد کروانا چاہتے ہیں۔ پولیس کے مطابق امن و امان کو برقرار رکھنا پولیس کی ذمہ داری ہے تاہم پولیس یونیورسٹی کے اندرونی معاملات میں تب مداخلت کرے گی جب اس بارے میں پولیس سے تحریری طور پر درخواست کی جائے گی۔
