سری لنکن مینجر کو جان سے مارنے کی اصل وجہ کیا تھی؟

سیالکوٹ بربریت کے واقعے کی تحقیقات میں انکشافات ہوا ہے کہ سری لنکن فیکٹری مینجر پریانتھا کمار نے کچھ مشینوں پر لگے ہوئے تحریک لبیک کے اسٹیکرز اتارنے کا حکم دیا تھا کیونکہ چند روز میں ایک غیر ملکی ٹیم نے فیکٹری کا دورہ کرنا تھا۔ تاہم تحریک لبیک سے وابستہ فیکٹری ملازمین نے اس معاملے کو ایشو بنا لیا اور مینجر پر توہین مذہب کا الزام عائد کر دیا۔ تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ فیکٹری منیجر اور چند انتہا پسند ورکرز کے مابین پچھلے کچھ عرصے سے نماز جمعہ کے اوقات پر بھی کشیدگی چل رہی تھی۔ فیکٹری ملازمین 11:00 بجے صبح ہی نماز جمعہ کے لیے غائب ہو جایا کرتے تھے اور پھر تین بجے واپس آتے تھے۔ چنانچہ فیکٹری منیجر نے مالکان کے کہنے پر یہ حکم جاری کیا تھا کہ نماز جمعہ کا وقفہ ایک بجے ہوا کرے گا اور اس سے پہلے ملازمین فیکٹری سے باہر نہیں جائیں گے۔
باخبر حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک غیر ملکی وفد نے فیکٹری کا دورہ کرنا تھا، چنانچہ مینجر کمار نے وہاں موجود مشینوں پر لگے ہوئے تحریک لبیک کے اسٹیکرز ہٹانے کا کہا جسے ایشو بنا لیا گیا اور کہا گیا کہ اسٹیکر پر مقدس نام لکھے ہیں اسلیے ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہاں سے بات بڑھ گئی جس کے بعد چند انتہا پسند باریش ملازمین نے کمار کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی اور باقی ورکرز کو اکسا کر فیکٹری سے باہر لے گے جہاں انہوں نے سڑک بلال کر کے احتجاج شروع کر دیا۔ اس دوران وہ فیکٹری ورکرز بھی احتجاج میں شامل ہوگئے جنہیں کچھ عرصہ پہلے کام چوری اور نااہلی پر نوکری سے فارغ کیا گیا۔ بعد ازاں تحریک لبیک کے کچھ مقامی عہدیدار بھی مظاہرین کے ساتھ شامل ہو گے اور فیکٹری منیجر پریانتھا کمار کو گستاخ قرار دے کر اس کے خلاف تقاریر شروع کر دیں۔ اسی دوران یہ فتویٰ بھی جاری ہو گیا کہ مینجر واجب القتل ہے اور اسے جہنم واصل کیا جانا چاہیے۔ اس کے بعد مشتعل مظاہرین نے دوبارہ فیکٹری کا رخ کیا اور مینجر پر حملے کی کوشش کی۔
پولیس تحقیقات کے مطابق مینجر نے اپنی جان بچانے کے لئے دوڑ کر چھت پر پناہ لی لیکن مشتعل مظاہرین اس کے پیچھے اوپر آ گئے اور اسے ڈنڈوں سے مارنا شروع کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسی دوران چند بارہش نوجوانوں نے کمار کو دھکا دے کر چھت سے نیچے گرا دیا ہے۔ لیکن ہجوم کا غصہ تب بھی ختم نہ ہوا۔ انہوں نے چھت سے گرائے جانے والے نیم مردہ کمار کو ڈنڈوں اور ٹھڈوں سے پیٹنے کا عمل جاری رکھا۔ اس دوران پولیس کو واقعے کی اطلاع ہو چکی تھی لیکن مظاہرین نے چونکہ فیکٹری کے باہر مرکزی سڑک کو بند کر رکھا تھا اور ٹریفک بلاک تھی اس لیے پولیس کو پہنچنے میں دیر ہوگئی۔ رپورٹ کے مطابق جب پولیس موقع پر پہنچی تو فیکٹری منیجر کی لاش کو مین روڈ پر پھینکا جا چکا تھا۔ تاہم پولیس نفری اتنی کم تھی کہ ہزاروں کے مجمعے کو روکنا ممکن نہیں تھا۔ اسی دوران لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگانے والے بارش نوجوانوں نے ٹائر لاکر کر مینجر کمار کی لاش پر پھینک دیے اور پھر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔
تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ اس افسوسناک واقعے میں تحریک لبیک کے ہمدردوں کا مرکزی کردار ہونے کے باوجود اس معاملے پر پردہ ڈالا جارہا ہے۔ تحریک لبیک نے بھی ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ اس واقعے سے ان کی تنظیم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے اپریل 2021 میں تحریک لبیک کو شدت ہسند تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ لیکن پھر ملک گیر مظاہروں کے بعد وفاقی حکومت کو پچھلے ماہ یہ پابندی ختم کرنا پڑی جس سے ریاست کی رٹ کا جنازہ نکل گیا اور لبیک کی اسٹریٹ پاور میں اضافہ ہو گیا۔ اب حالات یہ ہیں کہ لبیک والوں کو روکنے والا کوئی نہیں۔
دوسری جانب پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق آر پی او گوجرانولہ کی سربراہی میں پولیس ٹیمیں ملزمان کی گرفتاری کے لیے پوری رات چھاپے مارتی رہیں اور آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان رات بھر آپریشن کی خود نگرانی کرتے رہے۔
نہوں نے کہا کہ ڈی پی او سیالکوٹ چھاپہ مار ٹیموں اور نفری کے ساتھ فیلڈ میں موجود رہے، رات سے 50 سے زائد مقامات پر پولیس نے چھاپے مارے۔ اس دوران پولیس نے تحریک لبیک سے تعلق رکھنے والے طلحہ اور فرحان نامی ان فیکٹری ورکرز کو بھی گرفتار کر لیا ہے جنہوں نے مینجر کمار کو قتل کرنے کا آن کیمرہ اعتراف کیا تھا۔ یاد رہے کہ ان سفاک قاتلوں نے میڈیا کے سامنے دھڑلے سے ناصرف اپنے جرم کا اعتراف کیا بلکہ یہ اعلان کیا کہ آئندہ بھی گستاخی کرنے والے کا سر تن سے جدا کر دیا جائے گا کیونکہ ایسے تمام لوگ واجب القتل ہیں۔
طلحہ اور فرحان نامی دونوں ملزموں کا اپنے اعترافی بیان میں کہنا تھا کہ فیکٹری کی دیوار پر ”لبیک یا حسین” اور ”درود شریف” لکھا ہوا تھا۔ ہم صبح جب کام پر آئے تو انہیں پھاڑ کر پھینکا جا چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی آفیشل بے عزتی کا واقعہ کیسے پیش آیا؟
ملزمان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس بارے میں فوری طور پر فیکٹری فورمین کو آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پرانتھا کمار اس حرکت پر معافی مانگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پرانتھا کمار کے پاس احتجاج کرتے ہوئے پہنچے تو وہ اپنا دفتر چھوڑ کر بھاگ گیا۔ ہم نے مینجمنٹ سے بات کی لیکن جب مینجر کیخلاف کوئی ایکشن نہ لیا گیا تو ہم نے اکھٹا ہو کر فیکٹری کے باہر احتجاج شروع کر دیا۔ دونوں ملزموں نے میڈیا کے سامنے اعتراف کیا کہ اس کے بعد اس گستاخ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا چنانچہ ہم نے اسے ذلیل وخوار کرکے واصل جہنم کر دیا۔
ملزم طلحہ نے کہا کہ ہمارے نبی پاک کا فرمان ہے کہ ‘جو شخص بھی نبیوں کی شان میں گستاخی کرے، اس کا سر تن سے جدا کر دیا جائے’۔ طلحہ نامی شدت پسند کی یہ بات سنتے ہی وہاں موجود لوگ لبیک لبیک یا رسول اللہ کے فلک شگاف نعرے لگانے لگے۔ تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے میں تحریک لبیک والوں کے ملوث ہونے کے پہلو کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
