جسٹس شوکت صدیقی کا بری ہو کر وکالت شروع کرنے کا فیصلہ


آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر عدالتی معاملات میں مداخلت کا الزام لگانے کی پاداش میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے فارغ کیے جانے والے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ سے اپنی برطرفی کے خلاف دائر اپیل کا فیصلہ کروا کر باعزت طور پر بری ہونا چاہتے ہیں تاکہ بطور وکیل وہ اپنا کیریئر دوبارہ سے شروع کر سکیں۔
یاد رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے راولپنڈی بار سے ایک خطاب کی پاداش میں بطور جج فارغ کر دیا تھا۔ انہوں نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن تین برس گزرنے کے باوجود اس کیس کو لٹکایا جا رہا تھا۔ اب آئی ایس آئی سے فیض حمید کی رخصتی کے بعد سپریم کورٹ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف پٹیشن کو چھ دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ شوکت عزیز صدیقی نے کیس کی جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کی تھی۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ وہ پرامید ہیں کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے انہیں انصاف ملے گا اور وہ باعزت ریٹائرمنٹ حاصل کر پائیں گے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کاز لسٹ کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپیشل بینچ 6 دسمبر کو جسٹس شوکت عزیز کی سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے برطرفی کے خلاف اپیل کی سماعت کرے گا۔ بینچ کے دیگر ممبران میں جسٹس سردار طارق، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس مظہر عالم مندوخیل اور جسٹس اعجاز الحسن شامل ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان بار کونسل نے شوکت عزیز صدیقی کا وکالت کا لائسنس بحال کر دیا تھا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پاکستان بار کونسل کی تین رکنی انرولمنٹ کمیٹی نے شوکت عزیز صدیقی کی وکالت کے لائسنس کو بحال کیا تھا۔
شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ لائسنس بحالی کے بعد انہیں بطور سپریم کورٹ وکیل کام کرنے میں اب کوئی قانونی رکاوٹ نہیں تاہم اخلاقی طور پر وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ اسی عدالت کے جج صاحبان کے سامنے ان کا کیس لگا ہے اس لیے ان کے فوری طور پر پریکٹس کرنے سے موکلین کو نقصان نہ ہو۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ کیس میں سرخرو ہونے کے بعد وہ پریکٹس کریں گے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ان کے حق میں فیصلہ آنے کی صورت میں بھی شوکت صدیقی دوبارہ ہائی کورٹ میں جج کے طور پر بحال نہیں ہو سکیں گے کیونکہ اس سال 30 جون کو وہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ تاہم فیصلہ ان کے حق میں ہونے کی صورت میں انہیں ریگولر ریٹائرمنٹ پنشن اور دیگر مراعات ملیں گی اور اخلاقی فتح بھی حاصل ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی برطرفی کے فیصلے کی پیروی اس لیے کر رہے ہیں تاکہ انھیں باعزت مراعات کے ساتھ اس مقدمے میں انصاف مل سکے۔
یاد رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو 2018 میں شوکت صدیقی کو بطور جج اسلام آباد کورٹ برطرف کر دیا تھا۔ اس سے قبل ان کو کونسل نے راولپنڈی بار سے خطاب کے دوران فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس اور فیض حمید پر عدالتی معاملات میں مداخلت کے الزام لگانے پر نوٹس دیا تھا۔ تاہم ان کی وکالت کا لائسنس بحال کرنے والی کمیٹی نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ شوکت عزیز صدیقی کو بدعنوانی یا اخلاقی گراوٹ جیسے الزامات کی بنیاد پر چونکہ سپریم جوڈیشل کونسل نے برطرف نہیں کیا تو اس وجہ سے یہ کمیٹی فوری طور پر ان کے لائسنس کو بحال کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گورنمنٹ کالج کو دینی مدرسہ بنانے پر اولڈ راوینز نالاں
شوکت عزیز صدیقی کو کریمینل کیسز کا ماہر سمجھا جاتا ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعیناتی سے قبل وہ فوجداری مقدمات کے چوٹی کے وکیلوں میں گردانے جاتے تھے۔ تاہم اب وہ صرف سپریم کورٹ میں ہی مقدمات کی پیروی کر سکیں گے کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج ہونے کے باعث وہ اسی عدالت میں بطور وکیل پیش نہیں ہو سکیں گے۔

Back to top button