اسلام آباد میں پلاسٹک کی بنی سڑک کی تعمیر کا آغاز

دنیا کے مختلف ممالک میں کلین اور گرین منصوبے کے تحت استعمال شدہ پلاسٹک سے پائیدار سڑکوں کی تعمیر کے کامیاب تجربے کے بعد اب اسلام آباد میں بھی یہ تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مشروبات کی مشہور کمپنی کوکا کولا نے وفاقی ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی ے کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں استعمال شدہ بوتلوں سے ایک پلاسٹک روڈ بنانے کا معاہدہ کیا ہے۔
اردو نیوز کے مطابق اس پائیلٹ پراجیکٹ کے تحت کوکا کولا استعمال شدہ پلاسٹک کی بوتلوں سے ایف نائن پارک کے اندر پلاسٹک کی سڑک کا ایک ٹکڑا بنائے گا۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو پھر ایوب چوک سے مارگلہ روڑ تک ایک کلومیٹر سڑک پلاسٹک سے بنائی جائے گی۔ اس سلسلے میں کوکا کولا اور سی ڈی اے کے درمیان ایک ایم او یو پر دستخط ہو گے ہیں۔ چیئرمین سی ڈی اے کے مطابق فاطمہ جناح پارک ایف نائن میں اسی ہفتے ٹرائیل بنیادوں پر سڑک کی تعمیر کا آغاز کیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ پلاسٹک کے میٹریل سے سڑک کی تعمیر کتنی پائیدار ثابت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا تجربہ ابھی تک پاکستان میں نہیں ہوا اور گر ایف نائن پارک کا ٹرائیل کامیاب ہو گیا تو کوکا کولا کمپنی اسلام آباد میں ایک کلومیٹر سڑک کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبیلیٹی کے تحت مفت بنا کر دے گی۔ اس کے بعد سی ڈی اے خود بھی اپنے مستقبل کے منصوبہ جات میں استعمال شدہ پلاسٹ سے سڑک بنانے پر غور کرے گی کیونکہ اس سے ماحول کو دیگر میٹریل کی نسبت کم نقصان پہنچتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق کوکا کولا کمپنی ایک کلومیٹرروڈ کی تعمیر کے لیے قریبا آٹھ ٹن کے قریب پلاسٹک استعمال کرے گی۔ اس منصوبے کا مقصد کلین اور گرین پاکستان کو فروغ دینا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں پہلے ہی استعمال شدہ پلاسٹک سے سڑکوں کی تعمیر جاری ہے۔ اس سلسلے میں پہلا تجربہ سکاٹ لینڈ کی ایک کمپنی نے کیا تھا جس نے استعمال شدہ پلاسٹک بوتلوں کے ذریعے سڑکیں بنانے شروع کی تھیں۔ اس کمپنی کا دعوی ہے کہ یہ روایتی سڑکوں کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ پائیدار ہوتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، اس وقت دنیا بھر میں 9 ارب ٹن کے لگ بھگ پلاسٹک، مختلف شکلوں میں موجود ہے جس میں 7 ارب ٹن پلاسٹک استعمال شدہ ہے جو یا تو سمندروں میں پھینک دیا گیا ہے یا پھر زمین پر کچرا ٹھکانے کےلیے بنائے گئے بڑے بڑے گڑھوں میں دبایا جارہا ہے۔
