ویڈیوز کے باوجود زبیر بطور لیگی ترجمان برقرار رہیں گے

https://youtu.be/oYHYzQr4JHQ
نواز شریف کے ترجمان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے حوالے سے مریم نواز شریف نے کہا ہے یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے جس کا نواز لیگ سے کوئی لینا دینا نہیں اور وہ بطور ترجمان اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔
ماڈل ٹاؤن لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ اس ویڈیو کے وائرل ہونے سے پہلے محمد زبیر کی بیوی اور بچوں کو دھمکیاں ملتی رہیں جس کے انکے پاس ثبوت بھی موجود ہیں۔ انہوں نے مجھے بھی اس بارے میں بتایا تھا جس کا مطلب ہے کہ انہیں منصوبہ بندی کے تحت ٹارگٹ کیا گیا۔ مریم کا کہنا تھا کہ کسی کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنا ایک نامناسب عمل ہے لیکن جو لوگ سمجھ رہے تھے کہ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد زبیر کو ترجمان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا، انہیں مایوسی ہو گی کیونکہ وہ اس سب کے باوجود بھی میرے اور نواز شریف کے ترجمان برقرار رہیں گے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں ایسا نظام لانا چاہتے ہیں جہاں سب کو انصاف ملے لیکن اس ملک میں تین بار کے وزیر اعظم نواز شریف کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا، ان کو فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد اٹک قلعے میں ڈال دیا تھا لیکن اس کے باوجود مخالفین نواز شریف کی سیاست ختم نہیں کر پائے اور پاکستانی عوام آج بھی ان کے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ ہماری تو خواہش ہے کہ نواز شریف اس سال دسمبر سے پہلے وطن واپس آجائیں مگر ان کی صحت کی وجہ سے ابھی ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جنید صفدر ابھی قانون کی تعلیم حاصل کررہے ہیں جس کے بعد وہ کاروبار کریں گے کیونکہ اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنید صفدر ابھی سیاست میں نہیں آئیں گے، سیاست کے لیے میں اور نواز شریف ہی کافی ہیں۔ مریم نے کہا کہ چیئرمین نیب کا معاملہ آئین کے مطابق طے ہونا چاہیے اور اگر ایسا نہ ہوا اور اسے توسیع دلوانے کو کوشش گئی تو مسلم لیگ (ن) اس کی مزاحمت کرے گی کیونکہ آئین کے مطابق تو اس عہدے میں توسیع ممکن نہیں ہے۔
اس سے پہلے پارٹی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے مریم کا کہنا تھا نواز شریف کی سیاست ختم کرنے کے دعویدار مجھے جواب دیں کہ حکومت کے چوتھے سال بھی جعلی وزیراعظم کی ہر تقریر نوازشریف سے شروع ہو کر نوازشریف پر کیوں ختم ہوتی ہے؟ کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے اپنی حکومت گنوا کر، وزارت عظمیٰ گنوا کر، پارٹی صدارت گنوا کر، خاندان کے پر تکالیف برداشت کر کے، صرف ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ آگے بڑھایا۔ مریم کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک ذہنی مریض کی کیفیت اختیار کرچکا ہے جس نے ایف آئی اے اور نیب کو صرف اپنے سیاسی مخالفین کے جھوٹے احتساب کے لیے مختص کر رکھا ہے، لیکن چونکہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے لہذا اب تک کوئی ایک بھی کرپشن کیس ثابت نہیں ہو پایا۔ مریم نے کہا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے نے تو تسلیم کیا ہے کہ وزیر اعظم مجھے اپنے آفس میں بلا کر کہتا تھا کہ شہباز شریف کو گرفتار کرو، حمزہ کو گرفتار کرو، مریم نواز کو گرفتار کرو۔ مریم نے کہا لیکن ان تمام گرفتاریوں کے باوجود حکومت کی جانب سے دائر کردہ کرپشن کے تمام مقدمات جھوٹے ثابت ہوئے ہیں اور اب تو شریف خاندان کی بے گناہ کی ایک بڑی گواہی لندن کی غیر جانبدار عدالت سے بھی آ گئی ہے جس نے شہباز شریف اور انکے خاندان کو تمام تر الزامات سے بری قرار دے دیا ہے۔
