اسٹیبلشمنٹ کا بھونپو جنرل امجد جھوٹا کیسے ثابت ہوا؟

ٹی وی پروگرامز میں ڈھٹائی سے جھوٹ بولنے والے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بھونپو لیفٹننٹ جنرل (ر) امجد شعیب ایک مرتبہ پھر ایک پروگرام میں سفید جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے۔ امجد شعیب نے نیوز ون کے میزبان وحید حسین کے پروگرام میں یہ سفید جھوٹ بولا کہ جنرل پرویز مشرف نے لاہور، کراچی اسلام آباد، راولپنڈی، دبئی لندن اور امریکہ میں جو جائیدادیں بنائی ہیں انکے لیے انہوں نے رقم لیکچرز دے کر کمائی تھی۔ اس پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشاہد اللہ خان مرحوم کے صاحبزادے سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ لطیفے مت سنائیں، دنیا میں کبھی کوئی چار لیکچرز دے کر ارب پتی نہیں بنا۔ ان جائیدادوں کے علاوہ جنرل مشرف کے سوئس اکاؤنٹس میں بھی اربوں موجود ہیں جن کا اور کوئی مقصد نہیں ہوتا سوائے کرپشن کی رقم چھپانے کے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے جنرل امجد شعیب نے حسب سابق سیاست دانوں کی کرپشن کے حوالے سے ایک لمبی تقریر کی تھی جو وہ ہر چینل پر جا کر کیا کرتے ہیں۔ اپنے بھاشن میں جنرل امجد شعیب نے پاکستانی آئین توڑکر منتخب حکومتیں ختم کرنے والے جرنیلوں کی مذمت کرنے کی بجائے تمام مارشل لاؤں کا ذمہ دار سیاستدانوں کو قرار دیا۔ ظاہر ہے انہیں ان ٹی وی پروگراموں میں کوئی غیر جانبدارانہ تجزیہ کرنے تو بھیجا نہیں جاتا۔ ان کا بنیادی مقصد فکری بددیانتی کرتے ہوئے سیاستدانوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنا ہوتا ہے جس کے لیے انہیں ماہانہ مشاہرہ بھی ملتا ہے۔ اسی لیے وہ کل بوشن یادیو جیسے بھارتی جاسوس کو رعایت دیے جانے کا دفاع کرتے ہوئے پاکستانی سیاستدانوں کو غدار قرار دیتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا یے کہ امجد شعیب جیسے نام نہاد دفاعی تجزیہ کاروں کو اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں ٹی وی چینلز پر بلوایا جاتا ہے جو نہایت بے شرمی اور ڈھٹائی سے دبا کر جھوٹ بولتے ہیں لیکن جب ان کا جھوٹ پکڑا جائے تو شرمندہ بھی نہیں ہوتے۔ ظاہر ہے شرم ان کو آتی ہے جن کا کوئی بھرم ہوتا ہے۔ 9 دسمبر کو نیوز ون چینل کے پروگرام میں بھی جھوٹے جرنیل نے یہ دعویٰ کیا کہ پرویز مشرف کرپٹ نہیں تھا۔ اس دعوے کا جواب دیتے ہوئے افنان اللہ نے کہا کہ میں اس دعوے کو 100 فیصد مسترد کرتا ہوں کہ پرویز مشرف کرپٹ نہیں تھا۔ یہ ایک سفید جھوٹ ہے۔ ایک بندے کے پاس فارم ہاؤس ہے اسلام آباد میں، کراچی میں مرکزی علاقے میں گھر ہے، دبئی میں گھر ہے، لندن میں گھر ہے، امریکہ میں جائیداد ہے، اربوں روپے اس کے اکاؤنٹس میں پڑے ہوئے ہیں، انصار عباسی جیسا صحافی رپورٹ کر چکا ہے کہ جنرل مشرف اور جنرل کیانی کے پیسے سوئس اکاؤنٹس میں موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر مشرف نے دو نمبر پیسی نہیں کمایا رھق تو پھر اسے سوئس اکاؤنٹس میں کیوں رکھا آپ نے؟ یہ فکری بددیانتی ہے۔ آک ایک ایسے آدمی کو دیانتدار کہہ رہے ہیں جس نے ہزاروں پاکستانیوں کو امریکہ کے ہاتھ پیسوں کے لیے بیچا، جس نے اپنے اقتدار کی خاطر CIA کی ایجنٹی کی، آپ کہتے ہیں وہ بڑا بہادر تھا۔ کیا اس نے دلی فتح کیا تھا جو آپ اسے بہادر کہہ رہے ہیں حالانکہ اس سے بڑا تو کوئی بھگوڑا کوئی نہیں جو عدالت سے ڈر کر ملک چھوڑ کر بھاگ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف میں صرف بدزبان ہی ترقی کیوں پاتے ہیں؟
امجد شعیب نے جوابی کارروائی کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا کہ آپ دراصل اپنے کرپٹ لیڈر کی حمایت میں مشرف کو بددیانت کہہ رہے ہیں۔ ویسے بھی میں نے یہ کہا تھا کہ میرا پرانا تجربہ یہ ہے کہ مشرف کرپٹ نہیں تھا۔ اس پر افنان اللہ خان نے کہا کہ پھر آپ کا تجزبہ غلط ہے۔ آپ کو معلوم ہی نہیں ہے وہ کون تھا۔ کیا میں نے جو باتیں کی ہیں وہ سچ نہیں ہیں؟ مشرف کے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے؟ اس پر امجد شعیب نے یہ تاریخی بونگی ماری کہ مشرف نے یہ اربوں روپیہ اور جائیدادیں بیرون ملک لیکچرز دے کر بنائی ہیں۔ اس پر افنان اللہ خان نے کہا کہ جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، مجھے مجھے بتایا جائے کہ کوئی شخص بیرون ملک چار لیکچرز دے کر کس طرح اربوں روپے کما سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرف خود بھی یہ نہیں بتا سکتا کہ اس کے پاس کہاں سے آئے سوئس بینکوں میں اربوں روپے؟ افنان نے کہا کہ سرکاری ملازم چند ہزار روپوں کی تنخواہ لیتا ہے، مشرف کے پاس باہر اربوں روپوں کی جائیدادیں کہاں سے آ گئیں؟ تام امجد شعیب کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
