اسٹیٹ بینک کی قرضہ سکیم صرف بڑے سرمایہ کاروں کے لیے

کرونا لاک ڈاون کے باعث مشکلات سے دوچار کاروباری افراد کے لئے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے اپنے ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کے لیے کم شرح سود پر قرض کی فراہمی کی سکیم کا فائدہ صرف بڑے صنعت کاروں کو ہو رہا ہے حالانکہ موجودہ بحران سے سب سے زیادہ متاثر چھوٹے تاجر اور دکاندار ہوئے ہیں۔
یاد رہے کرونا وائرس کے باعث ملک میں جاری لاک ڈاون کے بعد کاروبار ٹھپ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں چھوٹے تاجر اور دکاندار ڈوب چکے ہیں اور ان سے دوگنا تعداد میں لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ کاروبار کی بندش سے چھوٹے بڑے دوکاندار اور تاجر حضرات کے لیے سٹورز اور دکانوں کے کرائے، یوٹیلیٹی بلز اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی ہر گزرتے دن کے ساتھ ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ لہذا لاک ڈاؤن سے ریٹیل سیکٹر سے وابستہ لاکھوں افراد کی نوکریاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ کاروبار بند ہونے کی وجہ سے ریٹیلرز کی طرف سے لاکھوں افراد کو ملازمت سے برخاست کرنے کا خدشہ ہے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں سے معیشت پہلے ہی زبوں حالی کا شکار تھی اور کرونا وائرس نے اب اسے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ان حالات میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے معاشی بحران کے دوران پرائیویٹ کمپنیوں کے ملازمین کا روزگار بچانے کے لیے ایک ری فنانسنگ سکیم متعارف کروائی یے جس کے مطابق کمپنیوں کے مالکان بینک سے قرضہ لے کر اپنے ملازمین کو تین ماہ یعنی اپریل تا جون اکٹھی تنخواہیں دینے کے پابند ہوں گے۔ بینکوں سے حاصل کیے جانے والے اس قرضے پرشرح سود صرف پانچ فیصد ہو گی جبکہ ٹیکس ادا کرنے والوں کے لیے یہ شرح چارفیصد ہوگی۔سٹیٹ بینک کے مطابق اس سکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے چھوٹے کاروباری حضرات کو ترجیح دی جائے گی۔ اس قرضے پر کوئی پروسیسنگ فیس نہیں لی جائے گی جب کہ قرضہ لینے والے کو دو سال میں اصل رقم بینک کو واپس کرنا ہوگی۔
لیکن سٹیٹ بنک کی طرف سے چھوٹے کاروباری حضرات کیلئے متعارف کرائی جانے والی سکیم بارے گفتگو کرتے ہوئے چین سٹورز ایسوسی ایشن آف پاکستان (کیپ) کے چیئرمین رانا طارق کا کہنا ہے کہ ‘سٹیٹ بینک نے جو سکیم متعارف کروائی ہے وہ دراصل بڑی بڑی صنعتوں کے لیے ہے، جہاں 20 اور 50 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں ادا کیے جا رہے ہیں۔ یہ وہ صنعت کار ہیں جو پہلے بھی بینک سے قرضہ لیتے رہتے ہیں۔ اب وہ کمرشل بینکوں سے تنخواہوں کی مد میں مزید قرضہ لے سکتے ہیں۔ تاہم اس سکیم سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انکا کہنا تھا کہ ریٹیل سیکٹر کو اس سکیم سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
رانا طارق نے بتایا کہ سپننگ، ویونگ، ڈائینگ، پروسیسنگ، سٹیچنگ اور اسمبلنگ جیسے کئی شعبوں کے 200 سے زائد ریٹیلرز کے ملک بھر میں 20 ہزار سے زائد آؤٹ لیٹس ہیں جبکہ چھ لاکھ سے زائد ملازمین ان کے پاس کام کرتے ہیں۔ موجودہ معاشی بحران کے پیش نظر انہیں خدشہ ہے کہ کاروبارنہ چلنے کی صورت میں ملازمین کو فارغ کرنا ناگزیر ہوجائے گا۔ ‘
صدر لبرٹی مارکیٹ تاجران سہیل سرفراز منج کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ لبرٹی مارکیٹ میں تین ہزار سے زائد دکانیں ہیں جن میں کاروبار کرنے والوں میں سے کسی نے ملازمین کو اب تک نوکری سے نہیں نکالا۔ لیکن آنے والے دنوں میں 50 فیصد ملازمین کو نوکری سے نکالنا ناگزیر ہو جائے گا جب کہ باقی 50 فیصد کی تنخواہوں میں 30 سے 50 فیصد کی کٹوتی کی جائے گی۔ سہیل کے خیال میں سٹیٹ بینک کی متعارف کروائی گئی نئی قرضہ سکیم ان کے کسی کام کی نہیں کیونکہ ایسی سکیموں میں کاغذی کارروائی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ عام شخص ویسے ہی پریشان ہوجاتا ہے۔ ‘اس سکیم کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ میں قرضہ لے کر تنخواہ تو دے دوں گا مگر میرا کاروبار تو چل نہیں رہا، میں کچھ کما نہیں رہا تو قرضہ واپس کیسے کروں گا؟ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں کاروبار کے کیا حالات ہوتے ہیں یہ کوئی نہیں جانتا۔’
کپڑوں کے معروف برانڈ زارا شاہجہان کی ڈیزائنر زارا شاہجہان کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں کے پاس اتنا بجٹ نہیں کہ ملازمین کو کاروبار کے بغیر ایک مہینے سے زیادہ اپنے پاس کام پر رکھ سکیں۔ اگر میں یہ سب ٹھیک نہ ہوا تو برانڈز بند ہونا شروع ہو جائیں گے اور ہمارے دیہاڑی دار اور سکیلڈ لیبر سڑکوں پر آجائیں گے۔ ‘
دوسری طرف پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق لاک ڈاؤن کی صورت حال میں ہول سیلرز اور ریٹیلرز 45 لاکھ کے قریب ملازمین کو فارغ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے جس سے ملک میں بے روزگاری کی شرح انتہائی خطرناک حد تک بلند ہو جائے گی۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کی طرف سے موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
