ملک میں چینی سکینڈل کے ذمہ دار وزیر اعظم ہیں، تحقیق کی جائے

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) میں فیصلہ وزیراعظم کا ہوتا ہے اوروہی ذمہ دارہیں، وزیراعظم عمران خان کو کمیشن میں بلا کر پوچھا جائے کہ ملک میں چینی کی قیمتیں کیوں بڑھیں؟
ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر نائب شاہد خاقان عباسی نے شوگر سکینڈل میں انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے 20ارب سے زیادہ سبسڈی دی، ہمارے دورمیں 64 روپے جب حکومت چھوڑی تو54روپے کلوتھی، ہماری سبسڈی اوران کی سبسڈی میں فرق ہے۔ ہماری حکومت کے دوران چینی کی قیمت نہیں بڑھی تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) میں فیصلہ وزیراعظم کا ہوتا ہے اوروہی ذمہ دارہیں۔ یہ حکومت چلائیں استعفی کا مطالبہ نہیں کرونگا۔ یہ تو استعفے دیکر بیٹھے ہوئے ہیں۔ استعفے کا مطالبہ اس سے ہوتا ہے جو حکومت چلا رہا ہے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں ساڑھے تین ملین ٹن چینی برآمد ہوئی لیکن ہمارے دور میں روپیہ بھی قیمت نہ بڑھی بلکہ کم ہوئی۔ کرپشن کا ریکارڈ ایس سی سی اور کابینہ کے میٹنگ منٹس ہیں، یہ کیس ہے یا فیس ہے، چیئرمین نیب بتادیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں چینی نہیں تھی برآمدات کی اجازت کیوں دی گئی، قوم سے ڈاکہ کابینہ کے فیصلے کی وجہ سے پڑا۔ تحریک انصاف کے اعلیٰ عہدیدار ای سی سی کے فیصلوں سے اربوں روپے سے مستفید ہورہے تھے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو بلا کر پوچھا جائے یہ چینی کی قیمتیں کیوں بڑھیں۔ ہم نے کمشن کو بتایا ہے چینی کی قیمت بڑھنے کی وجہ تب تک سمجھ نہیں آئے گی جب تک کابینہ ارکان کو طلب نہیں کرتے۔ حالات ثابت کرتے ہیں کابینہ کا سربراہ وزراعظم کرپٹ اور نالائق ہے۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ای سی سی کا سربراہ اور حکومت یا تو کرپٹ ہے یا نالائق ہے۔ قیمت بڑھتی رہی برآمد ہوتی رہی لیکن حکومت نے کوئی نوٹس نہ لیا۔ برآمدات کی اجازت کی گئی اور قیمتیں بڑھ گئیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ 46 روپے کی چینی 80 روپے میں بک رہی ہے، ڈاکہ ابھی بھی ڈالا جا رہا ہے۔ پاکستان کے عوام پر 100ارب روپے کا ڈاکہ ڈالا گیا۔ ہم نے کسی پر الزام لگایا نہ کوئی سیاسی بات کی۔ پارٹی کی ہدایت پر شوگر کمشن کے سامنے پیش ہوئے۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ 1976میں اراضی کے معاملے میں نوٹسزجاری کیے گئے۔ کوئی بات نہ ملی تو 1976کا معاملہ نیب نے اٹھا لیا ، نیب ملتان نے 1976کے معاملے پر طلب کر لیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کے خلاف کچھ نہ ملنے پرنیا کھاتہ کھول دیا گیا۔ نیب کو حکومت کی چوری نظرنہیں آتی، نیب سے ڈرنے اورجھکنے والے نہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے روح رواں کرپشن میں ملوث رہے ہیں اور شوگر کمیشن جب تک وزیراعظم عمران خان کو نہیں بلاتا تب تک اس کی رپورٹ تسلی بخش نہیں۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج ہم اپنی پارٹی کی ہدایات پر کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور ہم نے کوئی سیاسی بات نہیں کی، ہم نے کہا کہ کمیشن بنا ہے تو 100 ارب روپے کا ڈاکہ بے نقاب ہو سکے، ہم شواہد دیں گے تا کہ حقائق سامنے آئیں۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اور کابینہ کی وجہ سے چینی کی قیمیں بڑھیں، قیمتیں بڑھنے کی ذمہ دار حکومت ہے اور یہ ثابت ہوتا ہے، وزیراعظم نالائق بھی ہیں اور کرپٹ بھی۔ان کاکہنا ہے کہ آج کمیشن کو زبانی بتایا گیا لیکن ضرورت پڑی تو لکھ کر بھی دے سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ای سی سی کا چیئرمین کرپٹ اور نالائق ہے، کمیشن کے سامنے تمام حقائق رکھ دیے ہیں، چینی سرپلس نہ ہونے کے باوجود برآمد کی اجازت دی گئی اور درآمد پر ایسا ٹیکس لگایا گیا کہ چینی کی درآمد ممکن نہیں رہی۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جب تب وزیراعظم کو نہیں بلایاجاتا چینی کی قیمت بڑھنے کی وجہ سامنے نہیں آئے گی، چینی کی درآمد کو بھی روکا گیا، مفادات کا ٹکراؤ بھی سامنے آیا، عوام پر تو ڈاکہ پڑ چکا ہے لہٰذا وزیراعظم اور چیئرمین ای سی سی کو انکوائری کمیشن میں بلایا جائے۔سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کرپشن کا ریکارڈ کابینہ کے فیصلے اور ای سی سی کے میٹنگ منٹس ہیں، انکوائری کمیشن سے کہا ہے جب بلائیں گے آجائیں گے، ہم نے 20 ارب روپے سے زیادہ کی سبسڈی دی لیکن جب ہم نے سبسڈی دی تو چینی کی قمیت ایک پیسہ نہیں بڑھی۔
واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں پیدا ہونے والے چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھاکہ ملک میں چینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔چینی بحران کی ایف آئی اے رپورٹ کا اب فرانزک کیا جا رہا ہے جس کی رپورٹ 25 اپریل کو وزیراعظم عمران خان کو جمع کرائی جانی تھی لیکن کمیشن کی جانب سے مزید مہلت مانگی گئی جس پر تین ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔وزیراعظم نے فرانزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد مزید ایکشن لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ چینی بحران رپورٹ سامنے آنے کے بعد جہانگیر ترین نے اپنے اوپر لگے الزامات کو مسترد کیا ہے اور وفاقی وزیر خسرو بختیار کی وزارت بھی تبدیل کر دی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button