اسکولز کو سینی ٹائز کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے

صوبائی وزیر تعلیم پنجاب ڈاکٹر مراد راس نے کہا ہے کہ کورونا ایس او پیز کےلیے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں، ہر چیز کی ذمہ داری حکومت نہیں اٹھا سکتی۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں ڈاکٹر مراد راس نے بتایا کہ 15ستمبر سے اسکول کھلنے کے بعد کوئی ڈبل کلاسز شروع نہیں کی جائیں گی بلکہ متبادل دنوں پر کلاسز ہوں گی اس سلسلے میں اگر کسی کلاس میں 40 بچے ہیں تو ان میں سے 20 ایک دن جائیں گے جب کہ باقی 20 اگلے دن اسکول جائیں گے جب کہ پیر تک نصاب تمام اساتذہ کو پہنچ جائے گا۔
صوبائی وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ اساتذہ اور والدین دونوں اپنا اپنا کردار ادا کریں، ماسک کپڑے کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جسے روز دھوکر دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے، وہ والدین بنائیں کیوں کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے جب کہ اسکولز کو سینی ٹائز کرنا اور باقی معاملات کو دیکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے وہ ہم کریں گے لیکن ماسک کے بغیر بچے کو اسکول میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا کیوں کہ ہمارے لیے بچوں، ان کے والدین اور اساتذہ کی زندگیاں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔
قبل ازیں اپنے ایک بیان میں وزیر تعلیم پنجاب ڈاکٹر مراد راس نے کہا تھا کہ جن اسکولوں میں احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا جائے گا انہیں بند کر دیا جائے گا، پہلے صرف تجویز تھی کہ تمام اساتذہ کے کورونا ٹیسٹ کروائے جائیں گے لیکن اب جہاں کیسز بڑھنے کی اطلاع ہوگی صرف وہاں کورونا ٹیسٹ کروائے جائیں گے۔ مراد راس نے کہا کہ اسکولوں کو متبادل دنوں میں اور 50 فیصد بچوں کے ساتھ کھولا جائے گا، 50 فیصد تعداد سے غیر معمولی رش سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ وفاق اور تمام صوبائی حکومتوں کی طرف سے اتفاق رائے سے پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث کئی ماہ سے بند تعلیمی اداروں کو 15ستمبر سے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
