افغان سفیر کی بیٹی اغوا ہوئی، افغان حکام کا اصرار


پاکستان کی جانب سے اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کے شواہد نہ ملنے کے دعوے کے بعد واقعے کی تحقیقات کیلئے ایک خصوصی افغان ٹیم اسلام آباد پہنچ گئی ہے اور اب اس معاملے کی خود تحقیقات کر رہی ہے۔ افغان افسران اس مبینہ اغوا کی تحققیات کرنے والی پاکستانی ٹیم کے ارکان سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور ان جگہوں کا معائنہ کر رہے ہیں جن کی نشاندہی افغان سفیر کی بیٹی نے کی ہے۔ افغان تحقیقاتی ٹیم نے پاکستانی حکام سے ان جگہوں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کرلی ہیں جہاں سے افغان سفیر کی بیٹی نے ٹیکسیاں لیں۔ افغان حکام کا اصرار ہے کہ لڑکی کو واقعی اغوا کیا گیا تھا اور ایک دھمکی بھرے پیغام کے ساتھ واپس گھر بھیجا گیا تھا۔
یاد رہے کہ پاکستانی تحقیقاتی اداروں نے اپنی رپورٹ میں افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کے شواہد نہ ملنے کا دعوی کیا تھا۔ تاہم افغان حکومت پاکستانی تحقیقات سے مطمئن نہیں تھی چنانچہ اس نے اپنی تحقیقاتی ٹیم پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے اس ضمن میں افغان ٹیم کو مکمل سپورٹ فراہم کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اگر افغان ٹیم میں شامل افراد چاہیں تو وہ ان چار ٹیکسی ڈرائیوروں سے بات چیت بھی کر سکتے ہیں جن کی گاڑیوں میں افغان سفیر کی بیٹی نے سفر کیا تھا۔ افغان تحقیقاتی ٹیم کے پاکستان آنے سے پہلے پاکستان اور افغانستان کی وزارت خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا تھا اور پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس معاملے کی تحققیات کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا تھا۔ واضح رہے کہ افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے واقعہ کے بعد افغانستان نے بطور احتجاج پاکستان سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا اور اس اقدام پر پاکستان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ افغان سفیر 19 جولائی کو اپنی فیملی کے ہمراہ استنبول کے راستے افغانستان روانہ ہو گئے تھے جبکہ سفارتخانے کے دوسرے افراد کو خصوصی پرواز کے ذریعے افغانستان لے جایا گیا تھا۔ پاکستان میں افغانستان کے سفیر نجیب اللہ علی خیل کے مطابق ان کی بیٹی جن کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اب وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک جا چکی ہیں۔
پاکستان کے دورے پر آئی اس افغان ٹیم میں پولیس کے علاوہ دیگر تحقیقاتی اداروں کے ارکان بھی شامل ہیں اور یہ تحقیقاتی ٹیم چار روز تک پاکستان میں قیام کرے گی جس میں وہ اسلام آباد پولیس کے سربراہ کے علاوہ اس واقعے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے ارکان سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ اسلام آباد پولیس کے ذرائع کے مطابق اس واقعے کی تحققیات کرنے والی ٹیم اس واقعے سے متعلق دستیاب شواہد کو افغان ٹیم کے سامنے رکھے گی۔ افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے معاملے کی تحققیاتی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزار ملک کو بتایا کہ اس حوالے سے چار ٹیکسی ڈرائیوروں کو حراست میں لیا گیا تھا اور ان سے اس واقعہ کے متعلق چھان بین بھی کی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ افغان سفیر کی بیٹی اور ان ڈرائیوروں کے بیانات میں تضاد ہے۔ اہلکار کے بقول اب تک کی تحقیقات کے مطابق ان چاروں ٹیکسی ڈرائیوروں کے بیانات ان سی سی ٹی وی فوٹیجز سے مطابقت رکھتے ہیں جو پولیس نے اس واقعہ سے متعلق حاصل کی ہیں۔
اہلکار کے بقول حاصل کردہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں اب تک ایسا کوئی بھی شخص نظر نہیں آیا، جس کے بارے میں افغان سفیر کی بیٹی نے مبینہ اغوا کے بعد اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایک شخص جس نے سر پر بڑی سی پگڑی پہنی ہوئی تھی، جو بظاہر حلیے سے طالبان نظر آ رہا تھا، زبردستی اس ٹیکسی میں سوار ہوا جس میں وہ سوار تھیں اور انھیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ لڑکی کا دعوی تھا کہ اغواء کار نے ان کے دوپٹے کے پلو کے ساتھ ایک پچاس روپے کے نوٹ پر ان کے والد کے نام دھمکی آمیز پیغام میں لکھا تھا کہ اگلی باری تمہاری ہے۔
دوسری جانب سی سی ٹی وی فوٹئج کی مدد سے حراست میں لیے جانے والے ٹیکسی ڈرائیوروں کا سابقہ ریکارڈ بھی چیک کیا گیا ہے۔ ان ڈرائیوروں کی عمریں 40 سے 45 سال کے درمیان ہیں اور وہ گزشتہ 15 سال سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں ٹیکسی چلا کر اپنا روزگار کما رہے ہیں۔ ان کو مقامی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر کے ان کے بیانات ریکارڈ کروانے کے بعد رہا کیا جا چکا یے۔ واقعے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کے مطابق اگر افغان ٹیم ان ٹیکسی ڈرائیوروں سے ملاقات اور اس واقعہ سے متعلق پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے تو ان افراد کو کسی بھی وقت اس حوالے سے طلب کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے واقعے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس کے پاس اس واقعے سے متعلق تمام شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہیں تاہم ان کے بقول ایک سی سی ٹی وی فوٹیج موجود نہیں، جس میں وہ راولپنڈی سے دامن کوہ گئی تھیں۔ اہلکار کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ مسلح افراد ان کا موبائل فون بھی لے گئے اور پھر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ موبائل فون واپس بھی کر گئے ہیں۔ اہلکار کے مطابق پولیس نے اس موبائل کا فرانزک کروانے کے لیے یہ موبائل فون مانگا تھا لیکن پولیس کی یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔ تاہم افغان حکام کا اصرار ہے کہ اغوا کا واقعہ ہوا تھا اور اس کا مقصد افغان سفیر کو خوفزدہ کرنا تھا۔

Back to top button