امریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان

امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر کل ہونے والا مجوزہ امریکی فوجی حملہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ایک بڑے سفارتی معاہدے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ انہیں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی جانب سے درخواست کی گئی تھی کہ ایران کے خلاف طے شدہ فوجی کارروائی کو روک دیا جائے کیونکہ اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔ امریکی صدر کے مطابق خلیجی رہنماؤں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو نہ صرف امریکہ بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ممالک کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ مجوزہ معاہدے کی سب سے اہم شرط یہ ہوگی کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ خلیجی اتحادی رہنماؤں کے احترام میں انہوں نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈینیئل کین، اور امریکی فوج کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ ایران پر کل کا مجوزہ حملہ نہیں کیا جائے گا۔تاہم امریکی صدر نے ساتھ ہی سخت انتباہ بھی دیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور امریکہ کو قابلِ قبول معاہدہ نہ ملا تو امریکی فوج کو کسی بھی لمحے ایران کے خلاف “وسیع اور مکمل فوجی کارروائی” کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی اور عالمی برادری ممکنہ جنگ کے خدشات کا اظہار کر رہی تھی۔ خلیجی ممالک کی سفارتی مداخلت کو خطے میں بڑے تصادم کو روکنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
تاحال ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم عالمی سفارتی حلقے آئندہ چند روز میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔
