امریکاایرانی تیل پر عائد پابندیاں بھی نرم کرنے کو تیار

امریکا نے ایران کے ساتھ امن معاہدے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کی پیشکش کر دی۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا کی یہ تجویز دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جاری بالواسطہ مذاکرات کے دوران سامنے آئی ہے۔

رپورٹ میں مذاکرات سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پابندیوں میں یہ نرمی فوری طور پر نافذ نہیں ہوگی بلکہ حتمی معاہدہ طے پانے کے بعد اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

تاہم اس پیشکش کی باضابطہ تصدیق اب تک نہ تو امریکا اور نہ ہی ایران نے کی ہے جب کہ اس حوالے سے پوچھے گئے تحریری سوال کا فوری جواب بھی تاحال نہیں دیا گیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل مارچ میں بھی امریکی انتظامیہ نے سمندر کے راستے ایرانی تیل کی خریداری پر عائد پابندیوں میں 30 روزہ نرمی کر دی تھی۔

یہ اُس وقت کیا گیا تھا جب ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کو مؤثر طور پر محدود کر دیا جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا تھا۔

صدر ٹرمپ کی پالیسی میں اس تبدیلی کو غیرمعمولی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ امریکا طویل عرصے سے ایران کے تیل کی برآمدات محدود کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

 

Back to top button