الیکشن کمیشن نے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کنفرم کر دی


الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے دئیے گئے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے نے برطانوی صحافی سائمن کلارک کی فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں لگے غیر ملکی ممنوعہ فنڈنگ کے الزامات کی تصدیق کر دی ہے۔ تحریک انصاف کو ابراج گروپ کی جانب سے کرکٹ میچوں کی آڑ میں کروڑوں روپے کی فنڈنگ کا سکینڈل بریک کرنے والے برٹش صحافی سائمن کلارک نے کہا ہے کہ میں نے چیرٹی کرکٹ میچوں میں شرکت کرنے والے مہمانوں سے گفتگو کی تو انہوں نے واضح طور پر بتایا کہ انہیں قطعی علم نہیں تھا کہ چندے میں دی جانے والی رقم تحریک انصاف کو دی جائے گی۔

جیو نیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سائمن کلارک نے کہا کہ میچ دیکھنے والے شائقین نے بتایا کہ ہمیں یہ تو پتا تھا کہ پیسہ فلاحی اور خیراتی کاموں میں جائے گا لیکن اس بات کا علم نہیں تھا کہ کون سی خیراتی یا فلاحی تنظیموں کو یہ رقم دی جائے گی۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کا یہ خیال تھا کہ یہ پیسہ شوکت خانم ہسپتال کے اکاؤنٹ میں جائے گا۔ سائمن کلارک نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ عارف نقوی کی کمپنی ووٹن کرکٹ نے انکی جماعت کو 21 لاکھ ڈالرز بھیجے تھے۔ اس میں سے 13 لاکھ ڈالرز عارف نقوی کے ابراج گروپ کی جانب سے آئے تھے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں نے نہیں دیئے تھے بلکہ غیر ملکیون نے دیے تھے۔ اس کے علاوہ ووٹن کرکٹ لمیٹیڈ کو 20 لاکھ ڈالر متحدہ عرب امارات کے شیخ النہیان نے دیئے تھے جو ابوظہبی کے شاہی خاندان کے رکن ہیں۔ سائمن کا کہنا تھا کہ ابراج کی ای میلز میں عارف نقوی اور شیخ النہیان کے 20 لاکھ ڈالرز میں سے 12 لاکھ ڈالرز تحریک انصاف کو بھیجنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہ تمام تر پیسہ پاکستان بھیجا گیا اور طارق شفیع اور انصاف ٹرسٹ کے اکائونٹ سے آیا۔ ابراج گروپ کی ای میلز میں کہا گیا ہے کہ یہ فنڈ پی ٹی آئی کیلئے تھا مگر تحریک انصاف کا موقف ہے کہ یہ بات ان کے علم میں بالکل بھی نہیں ہے کہ شیخ النہیان نے تحریک انصاف کو فنڈنگ فراہم کی تھی۔

سائمن کلارک نے کہا کہ سال 2010 سے 2012 تک کے 3 سالوں میں سینکڑوں لوگوں نے عارف نقوی کی جانب سے منعقدہ کرکٹ میچوں میں حصہ لیا۔ ان میچوں میں بطور شائقین شرکت کرنے والی جن شخصیات سے سائمن کلارک نے بات کی ان کا کہنا تھا کہ ہمارے علم میں بالکل نہیں تھا کہ ان کا دیا گیا پیسہ کہاں استعمال ہوگا، بقول سائمن، وہ لوگ حیران رہ گئے جب میں نے انکو بتایا کہ یہ پیسہ تحریک انصاف کو دیا گیا ہے۔

برطانوی صحافی کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ ووٹن کے منعقدہ کرکٹ میچوں سے اکٹھا کیا گیا کچھ پیسہ دوسرے مقاصد کیلئے بھی استعمال کیا گیا ہو، مگر یقینی طور پر میں نے جن لوگوں سے بات کی ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ ان عطیات کا پیسہ تحریک انصاف کو جائے گا۔ انہون نے کہا کہ یہی میری سٹوری کا اہم پوائنٹ ہے کہ عارف نقوی کی کمپنی ووٹن کرکٹ لیمیٹڈ میں ان چیرٹی کیلئے منعقد کی گئی تقاریب سے بھی پیسے آ رہے تھے اور دیگر ذرائع سے بھی ان کو رقوم آ رہی تھیں اور اس میں سے پیسے پاکستان تحریک انصاف کو جا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ووٹن کرکٹ لمیٹیڈ نے جو 21 لاکھ ڈالرز تحریک انصاف کو بھیجے اس میں 13 لاکھ ڈالرز ابراج سے آئے تھے اور وہ انفرادی طور پر دیئے گئے عطیات نہیں تھے بلکہ ایک کمپنی کی طرف سے آئے تھے اور پاکستانی قوانین کے مطابق کسی سیاسی جماعت کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی غیر ملکی کمپنی سے فنڈنگ لے۔

سائمن کلارک کا کہنا تھا کہ میں نے 22 سالہ صحافت میں ایسی صورت حال نہیں دیکھی کہ فنڈز بطور خیرات ایک ہسپتال کے لئے جمع کئے گئے ہوں اور پھر انہیں ایک سیاسی جماعت کے حوالے کر دیا جائے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں برطانیہ میں خیرات کے لیے جمع کی جانے والی رقم پی ٹی آئی کو منتقل کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا جسکی اب الیکشن کمیشن کے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں بھی تصدیق کر دی گئی ہے۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی نے پی ٹی آئی کے لیے خیرات کے نام پر رقم اکٹھی کی، برطانیہ میں ٹی ٹوئنٹی میچ کروائے گئے، اس کے علاوہ مختلف ذرائع سے حاصل کی جانے والی رقم پی ٹی آئی کو منتقل کی گئی۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا  کہ عارف نقوی نے کیمن آئی لینڈز میں شامل کمپنی ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کو پاکستان تحریک انصاف کے بینک رول کے لیے استعمال کی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی نےکرکٹ ایونٹس کرائے، ایک کرکٹ میچ آکسفورڈ شائر میں عارف نقوی کی محل نما رہائش گاہ پرکھیلاگیا، عارف نقوی نے ویک اینڈ پرکھیلوں اور شراب نوشی کےلیے دعوت دی جس میں عمران خان سمیت سیکڑوں بینکرز، وکلا اور سرمایہ کاروں نےشرکت کی۔

Back to top button