امریکا مخالف ریلی، کراچی کی متعدد شاہراہیں بند

کراچی میں امریکہ کی طرف سے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کیخلاف امریکا مخالف ریلی کے انعقاد کی وجہ سے شہر قائد میں متعدد شاہراہیں بند کردی گئیں۔
کراچی ٹریفک پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق کراچی میں ریلی کی وجہ سے ایم ٹی خان روڈ، مائی کولاچی روڈ، ایوان صدر روڈ اور ڈاکٹر ضیا الدین احمد روڈ (کھجور چور سے ڈاکٹر ضیاالدین احمد ٹریفک سگنل تک) مکمل طور پر بند رہے گی۔
پولیس کی جانب سے متبادل راستے بھی بتائے گئے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
جناح برج(ٹاور): وہ حضرات جو براستہ آئی سی آئی چوک، جناح برج سے ایم ٹی خان روڈ پر جانا چاہتے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ وہ ٹاور – آئی آئی چندریگر روڈ کا راستہ اختیار کرکے اپنی منزل کی جانب جا سکتے ہیں۔
بوٹ بیسن: وہ حضرات جو براستہ مائی کولاچی سے ایم ٹی خان روڈ آنا چاہتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ وہ بوٹ بیسن سے KPT انڈرپاس، تین تلوار کا راستہ اختیار کرکے اپنی منزل کی جانب جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ضیا الدین احمد روڈ: وہ حضرات جو براستہ کلفٹن ، لیلی برج، PIDC کا راستہ اختیار کرکےشاہین کمپلیکس کی جانب جانا چاہتے ہیں، ا ن سے گذارش ہے کہ وہ ضیا الدین ٹریفک سگنل سے دائیں جانب ہوشنگ چوک – عبداللہ ہارون روڈ – فوارہ چوک – ایم آر کیانی روڈ کا راستہ اختیار کرکے اپنی منزل کی جانب جا سکتے ہیں۔
ایوان صدر روڈ: وہ حضرات جو براستہ میٹروپول، فوارہ چوک سے ایوان صدر روڈ کا راستہ اختیار کرکے شاہین کمپلیکس کی جانب جانا چاہتے ہیں، ا ن سے گزارش ہے کہ وہ فوارہ چوک سے بائیں جانب ایم آر کیانی روڈ سے شاہین کمپلیکس کا راستہ اختیار کرکے اپنی منزل کی جانب جا سکتے ہیں۔
کلب روڈ جانب PIDC: وہ حضرات جو براستہ شاہراہ فیصل ، میٹروپول کا راستہ اختیار کرکےPIDC کی جانب جانا چاہتے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ وہ دائیں جانب فوارہ چوک – ایم آر کیانی روڈ یا بائیں جانب عبداللہ ہارون روڈ – ہوشنگ چوک کا راستہ اختیار کرکے اپنی منزل کی جانب جا سکتے ہیں۔
شاہین کمپلیکس: وہ حضرات جو براستہ ٹاور – آئی آئی چندریگر روڈ کا راستہ اختیار کرکےPIDC یا ایوان صدر روڈ کی جانب جانا چاہتے ہیں، ا ن سے گزارش ہے کہ ایم آر کیانی – فوارہ چوک – آواری ٹریفک سگنل کا راستہ اختیار کرکے اپنی منزل کی جانب جا سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ دو روز قبل عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایئرپورٹ کے نزدیک امریکی فضائی حملے میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے۔بعدازاں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ان کے نائب اسمٰعیل قاآنی کو پاسداران انقلاب کی قدس فورس کا سربراہ مقرر کردیا تھا۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے قاسم سلیمانی کو مزاحمت کا عالمی چہرہ قرار دیا تھا اور ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کو بہت پہلے ہی قتل کر دینا چاہیے تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ٹوئٹ میں کہا تھا کہ قاسم سلیمانی سے ‘بہت سال پہلے ہی نمٹ لینا چاہیے تھا کیونکہ وہ بہت سے لوگوں کو مارنے کی سازش کر رہے تھے لیکن وہ پکڑے گئے’۔
علاوہ ازیں امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ بغداد میں امریکی فضائی حملے میں ایرانی کمانڈر کی ہلاکت کا مقصد ایک ‘انتہائی حملے’ کو روکنا تھا جس سے مشرق وسطیٰ میں امریکیوں کو خطرہ لاحق تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مائیک پومپیو نے ‘فاکس نیوز’ اور ‘سی این این’ کو انٹرویو دیتے ہوئے ‘مبینہ خطرے’ کی تفصیلات پر بات کرنے سے گریز کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button