ننکانہ صاحب میں احتجاج کرنے والے عمران چشتی نے معافی مانگ لی

ننکانہ صاحب واقعہ میں احتجاج کی قیادت کرنے والے عمران چشتی نے سکھ برادری سے اپنے رویے پر معافی مانگ لی۔
عمران علی چشتی جس نے ننکانہ صاحب واقعے پر احتجاج کی قیادت کی تھی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ میں اپنے رویے پر تمام سکھ برادری سے معافی مانگتا ہوں، میں نے تمام بیان جذبات میں آ کر دیا۔ عمران چشتی کا کہنا ہے کہ ہم جس طرح پہلے سکھ بھائیوں کی عزت کرتے ہیں اسی طرح سے کرتے رہیں گے، سکھ بھائیوں کی دل آزاری پر ان سے معافی مانگتا ہوں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز عمران علی چشتی کی جانب سے ننکانہ صاحب میں ایک احتجاج کی قیادت کی گئی۔ احتجاج کرتے ہوئے عمران علی چشتی کا کہنا تھا کہ ایک بھی سکھ کو ننکانہ صاحب میں نہیں رہنے دیں گے۔ عمران کی جانب سے سکیورٹی نافذ کرنے والے ادارون کو دھمکیاں بھی دی گئیں تھیں۔ کچھ شر پسند عناصر نے ننکانہ صاحب گوردوارہ جا کر سکھوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔
پاکستانی شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی تھی اور کہا جا رہا تھا کہ ننکانہ صاحب میں اس سے قبل تو ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اب جب کرتارپور راہداری کے افتتاح کے بعد سے دونوں ممالک کے پنجاب کے عوام کے درمیان قربتیں بڑھ رہی ہیں تو بھارت نے پھر سے لوگوں کے دلوں میں نفرتیں بھرنے کی کوشش کی تھی۔ جب کہ اس تمام واقعے پر وزیر مذہبی امور نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ چند مقامی افراد نے گرفتار افراد کی رہائی کیلئے پولیس کے خلاف احتجاج کیا۔
ننکانہ صاحب میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ حکومت پنجاب اور متروکہ وقف املاک انتظامیہ عمائدین علاقہ سے رابطے میں ہیں۔ بھارت کا معمولی تنازع کو مذہبی تصادم کا رنگ دینا غلط ہے۔ بھارت کا واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا افسوسناک ہے۔ بھارت اقلیتوں کے احتجاج سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ ننکانہ صاحب میں گرو گوبن سنگھ کےجنم دن کی تقریبات معمول کے مطابق جاری ہیں اور شہر میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔ تاہم آج عمران علی چشتی کا ویڈیا پیغام آیا ہےجس میں سکھ یاتریوں سے معافی مانگی گئی ہے۔
