امریکی تربیت یافتہ افغان فوجی طالبان مجاہد بن گئے


امریکی اتحادیوں کی جانب سے افغانستان کی طالبان مخالف سرکاری فوج کی تربیت پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اسکے چند ہفتوں میں ہی ڈھیر ہو جانے سے پینٹاگون کو پوری دنیا میں شرمندگی کا سامنے ہے اور اسکی ناکامی کو وجوہات زیر بحث ہیں۔ امریکہ کے لئے سب سے بڑا دھچکہ یہ ہے کہ اب اسکی تربیت یافتہ افغان فوج طالبان کی فوج بن جائے گی جس سے اس کی فوجی طاقت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی افغانستان میں پہلی غلطی یہ تھی کہ اس نے 83 ارب ڈالرز خرچ کر کے افغان فوج کی تربیت اپنی فوج کے ماڈل پر کی جو کہ طالبان کی طرح گوریلا جنگ لڑنے کی اہل نہیں تھی۔ امریکہ فوج جنگ میں اپنی فضائیہ اور جدید ترین مواصلاتی نظام کے نیٹ ورک پر بےتحاشا انحصار کرتی ہے۔لیکن اس حکمتِ عملی کا ایک ایسے ملک میں چلنا ممکن نہیں تھا جہاں صرف 30 فیصد آبادی کو بجلی کی مستقل سہولت میسر ہے۔
طیارے، ہیلی کاپٹر، ڈرون، بکتر بند طیارے، رات کو دیکھنے والے چشمے وغیرہ کے ذریعے امریکہ نے افغان فوج کو کیل کانٹے سے لیس کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔ امریکہ کے افغانستان فوج کو حال ہی میں جدید ترین بلیک ہاک جنگی ہیلی کاپٹر بھی مہیا کیے۔ لیکن مسئلہ یہ رھا کہ افغان فوجیوں کی بڑی اکثریت ان پڑھ ہے، اور افغانستان ایسا ملک ہے جہاں اس جدید ترین فوجی ساز و سامان کو چلانے کے لیے انفراسٹرکچر ہی موجود نہیں، اس لیے وہ سادہ ہتھیاروں سے لیس اور اپنے سے کم تعداد والے طالبان کے سامنے مزاحمت کرنے سے قاصر رہے۔امریکہ کے افغانستان کی تعمیرِ نو کے خصوصی انسپیکٹر جنرل جان سوپکو کے مطابق امریکہ نے افغان فوجیوں کی صلاحیتوں کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ افغان فوج کی صلاحیتوں کا اندازہ لگانے کے لیے کوئی ٹیسٹ لینے کی کوشش کرتے، ’امریکی فوج ’گول پوسٹ‘ ہی بدل دیتی یعنی ٹیسٹ میں کامیاب ہونے کا طریقۂ کار ہی بدل دیتی تاکہ وہ آسانی سے پاس ہو سکیں۔ اور جب یہ بھی ممکن نہ رہا تو انہوں نے امتحانی نتائج کو خفیہ کر دیا۔ اس لیے انہیں پتہ تھا کہ افغان فوج کتنی ناقابل بھروسہ اور نا اہل ہے۔‘ سوپکو نے امریکی کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جدید ترین ہتھیاروں کا نظام، گاڑیاں اور نقل و حرکت کی سہولیات، جو مغربی ملکوں کی فوجیں استعمال کرتی ہیں، وہ افغان فوج کی صلاحیت سے باہر تھیں کیوں کہ ان کی بڑی تعداد ان پڑھ ہے۔‘
دفاعی تجزیہنکاروں کے مطابق پینٹاگون کی دوسری غلطی امریکہ کی جانب سے فوجیوں کی تعداد بارے مبالغ آرائی ہے۔ یاد رہے کہ کئی ماہ تک پینٹاگون کے حکام اصرار کرتے رہے ہیں کہ افغان فوج کو طالبان پر عددی برتری حاصل ہے۔ ان کے مطابق افغان فوجیوں کی تعداد تین لاکھ ہے جب کہ طالبان 70 ہزار ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب جو بائیڈن سے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے بھی یہی دعوی کیا تھا کہ افغان فوجیوں کی تعداد طالبان سے چار گنا زیادہ ہے لہذا وہ کسی بھی صورت کابل پر قبضہ نہیں کر پائیں گے۔ تاہم انکا دعوی غلط ثابت ہوا۔
نیویارک میں واقع امریکہ کی ممتاز فوجی اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ کے مرکز برائے انسدادِ دہشت گردی کے مطابق افغان فوج کی تعداد مبالغے پر مبنی تھی۔ ویسٹ پوائنٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق ان میں سے بھی صرف 60 فیصد افغان فوجی تربیت یافتہ جنگجو تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ دراصل لڑنے والے فوجیوں کی تعداد صرف 96 ہزار تھی۔ افغانستان کی تعمیرِ نو کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغان فوجی میں بھگوڑوں کا مسئلہ ہمیشہ ہی سے بڑا دردِ سر رہا ہے۔ 2020 میں اسے ادارے کو معلوم ہوا کہ افغان فوج ہر سال 25 فیصد نئے فوجی بھرتی کرتی ہے، کیوں کہ بڑی تعداد میں فوجی بھاگ جاتے ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پینٹاگون گون کی تیسری غلطی بےدلی سے کیے گئے وعدے تھے۔امریکی حکام بار بار کہتے رہے کہ وہ 31 اگست 2021 کو اپنے مکمل انخلا کے بعد بھی افغان فوج کی مدد کرتے رہیں گے لیکن انہوں نے کبھی اس کی وضاحت نہیں کی کہ عملی طور پر یہ کام ہو گا کیسے۔ کابل میں اپنے آخری دورے کے موقعے امریکی وزیرِ دفاع لوئڈ آسٹن نے کہا کہ افغان فوج کی فضائیہ کے ذریعے مدد کی جائے گی۔اس کے علاوہ اس میں زوم کے ذریعے آن لائن تربیت بھی شامل تھی۔ لیکن وہ یہ نظر انداز کر گئے کہ افغانوں کی بڑی تعداد کے پاس نہ کمپیوٹر ہیں نہ سمارٹ فون اور نہ ہی اچھی وائی فائی۔
کابل میں سابق امریکی سفیر رونلڈ نیومین سمجھتے ہیں کہ امریکی فوج کو انخلا میں مزید وقت لگانا چاہتے تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ اور طالبان کے درمیان معاہدے کے تحت امریکہ کو 11 ستمبر کو افغانستان سے نکلنا تھا۔ ٹرمپ کے جانشین جو بائیڈن نے اس تاریخ کو بدل کر 31 اگست کر دیا۔ لیکن اس کے ساتھ انہوں نے افغانستان سے امریکی شہریوں کو بھی نکالنے کا فیصلہ کیا، جن میں وہ کنٹریکٹر بھی شامل تھے جو وہاں امریکی لاجسٹکس میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔سابق صدر جارج بش کے دور میں افغانستان میں سفیر نیومین نے این پی آر ریڈیو کو بتایا، ’ہم نے ایئر فورس بنائی جس کی دیکھ بھال کا انحصار کنٹریکٹروں پر تھا۔ پھر ہم نے کنٹریکٹروں کا پتہ صاف کر دیا۔‘
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق چوتھی اور سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ افغان فوجیوں کو پینٹاگون سے سالہاسال سے تنخواہیں ہی نہیں دی گئیں تھیں۔ پھر جب امریکی فوج نے افغانستان سے نکلنے کا اعلان کیا تو تنخواہیں دینے کی ذمہ داری افغان حکومت کے کندھوں پر آ گئی۔ ہزاروں افغان فوجیوں نے سوشل میڈیا پر آ کر کہا کہ انہیں کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی، بہت سی جگہوں پر ایسا بھی ہوا کہ افغان فوج کے یونٹس کو خوراک نہیں پہنچی، بلکہ اسلحہ تک نہیں ملا۔ لیخن امریکی فوج کا وقت سے پہلے انخلا اشرف غنی کے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا کیونکہ پینٹاگون نے امریکی فوج کو جلدبازی میں افغانستان سے نکال کر اور افغان فوج کی فضائی مدد ختم کر کے اس کے مورال کو زبردست دھچکہ پہنچایا جس کے نتیجے میں وہ ہمت چھوڑ گئے اور ہتھیار ڈال دیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب افغان فوج طالبان کی فوج بن جائے گی اور ان کی فوجی طاقت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

Back to top button