آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ، جس کو شوق ہے پورا کر لے

مولانافضل الرحمان بھی ڈٹ گئے. وزیراعظم عمران خان کی طرف سے آرٹیکل 6 کےتحت مقدمہ دائر کرنے کے بعد رد عمل دیتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ جس کو میرے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ دائر کرنے کا شوق ہے، خوشی سے پورا کرلے۔ یہ بغاوت ہےتوکرتارہوں گا. قانون اورآئین کےتحت جدوجہد جاری رہے گی۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ نہ بنانے کے لئے کسی کی منت نہیں کرونگا، جس کو دائر کرنے کا شوق ہے، پورا کرلے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف غداری کا مقدمہ بنائیں پھر میں بتائونگا کون آرٹیکل 6 کا مرتکب ہے؟ ملکی اداروں کا احترام کرتے ہیں، مگر رائے سے اختلاف رکھتے ہیں، ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے پر کبھی خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ کنونشن سے خطاب میں ان کا مزید کہنا تھا کہ آزادی مارچ کے مقاصد حاصل کر لیے، کچھ دوستوں کی وجہ سے حکومت کو گرا نہیں سکے لیکن رٹ ضرور ختم کردی۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومت نہ گرانے کی وجہ نادان دوستوں کو قرار دے دیا اور حکومت کی رٹ ختم کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔انہوں نے مہنگائی کرنے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، بزنس مین، وکلا، اساتذہ سمیت تمام طبقہ فکر کے افراد پریشان ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست اورریاستی اداروں سے بھی ہمدردی ہے. تاہم ہم جبر اور طاقت کے زور پر فیصلے نہیں مانتے. انھوں نے کہا کہ حکومت جمہوریت کی بنیادپرہوتی ہے،موجودہ حکومت ناجائزہے، ملک سیاسی جغرافیائی اور مالی طور پر تباہ کر دیاگیا ہے.ان کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے پر کبھی خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ قبائل کی نمائندگی جمیعت کے پاس ہے اور وہ قبائل کے مسائل سے آگاہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آزاد ریاست میں ہرگز نہیں رہ رہے ہیں۔ دھاندلی کی بنیاد پر الیکشن کے نتائج حاصل کئے گئے۔ موجودہ حکومت ناجائز ہے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پوری قوم کو غلام بنایا جا رہا ہے۔ معیشیت کی بدحالی پر عوام خودکشی کرنے پر مجبور ہے۔ ملک میں بچے برائے فروخت کے اشتہار لگائے جا رہے ہیں۔ قبائل اپنے حقوق کے حصول کے لئے لڑ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 14 فروری کے روز وزیر اعظم عمران کان نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button