آٹو سیکٹر تباہ، گاڑیوں کی پیداوار میں 60 فیصد کمی

روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور معاشی زبوں حالی کی وجہ سے پاکستانی آٹو سیکٹر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے رواں مالی سال کے اختتام پر گاڑیوں کی مجموعی سالانہ پیداوار میں 60 فیصد کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے.
ذرائع کے مطابق مالی سال 2019-20 پاکستان کے آٹو سیکٹر کےلیے خاصا مایوس کن رہا جس کے دوران سالانہ بنیاد پر گاڑیوں کی پیداوار اور فروخت میں تاریخی کمی دیکھی گئی. رواں مالی سال کے دوران روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ڈالر کی قیمت 155 روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ 16-2015 میں کارلیزنگ ریٹ 6 فیصد تھا جو اب 22 فیصد تک پہنچ گیا ہے. جبکہ سٹیٹ بنک حکام کی جانب سے کراچی انٹر بینک ریٹ بھی مسلسل کئی مہینوں سے 13.4 فیصد پر برقرار ہے. روپے کی قدر میً کمی اور شرح سود میں اضافے کی وجہ سے دوبڑی جاپانی کاروں کے اسمبلرز نے دو پیداواری شفٹس میں کام بند کر دیا ہے. جس سے 5 ہزار سے زائد ورکرز بے روزگار ہو گئے ہیں جبکہ ایک شفٹ میں گاڑیاں بنانے کے باعث جہاں گاڑیوں کی سالانہ پیدوار میں 60 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔ اسکے علاوہ کاروں کی قیمت میں 40 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے جو ان کی فروخت میں کمی کی ایک بڑی وجہ بھی بن چکا ہے۔
2017-18 میں سوزوکی 660 سی سی کی قیمت 8 لاکھ روپے تھی جو اب 6 لاکھ کے اضافے کے بعد بڑھا کر 14 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ ہونڈا سٹی کی قیمت 15 لاکھ سے بڑھ کر 24 لاکھ روپے ہوگئی ہے۔ ٹویوٹا کرولا کی قیمت 16 لاکھ سے بڑھ کر 27 لاکھ ہوچکی ہے۔ معاشی سست روی اور روز بروز بڑھتی مہنگائی سے آٹو سیکٹر میں خرید و فروخت میں نمایاں طور پر کمی ہوئی ہے ۔ جس کے بعد رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں گاڑیوں کی فروخت میں 44 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
پاکستان آٹو موٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال2019-20 کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران ٹرکوں کی فروخت میں 44.8 فیصد، بسوں کی فروخت میں 30.6 فیصد، جیپوں کی 49.7 فیصد، پک اپس کی 47.3 فیصد، فارم ٹریکٹرز کی 37.6 فیصد جب کہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت میں 11 فیصد کمی آئی۔ چنانچہ مقامی آٹو انڈسٹری شدید مشکلات کا شکار ہے اور آٹو سیکٹر میں آنے والی نئی سرمایہ کاری بھی منجمد ہو گئی ہے اسکے علاوہ ملک میں آنے والے کئی بڑے برانڈز نے اپنے منصوبے التواء میں ڈال دیئےجس سے مزید ہزاروں افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
