ہماری کوتاہی سے چینی اور آٹے کا بحران پیدا ہوا

وزیراعظم عمران خان نے چینی اور آٹے کے حالیہ بحران کی ذمہ داری قبول کرلی۔ بالآخرچینی اورآٹا مہنگا ہونے پر وزیراعظم نے اپنی حکومت کی کوتاہی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ چینی اور آٹا جو مہنگا ہوا ہے اس میں ہماری کوتاہی ہے۔ جانتے ہیں کس نے مہنگائی کر کے فائدہ اٹھایا ہے۔ سب پتہ چل گیا ہے۔ مہینوں اور سالوں میں پاکستان تبدیل ہو گا۔ سسٹم بھی تبدیل ہو گا۔ عدل اور انصاف ملے گا۔ قانون کی حکمرانی ہو گی۔
لاہور کے ایک روزہ دورے میں صحت سہولت کارڈ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘میں چینی اور آٹے کے حالیہ بحران میں حکومت کی کوتاہی کو قبول کرتا ہوں اور بحران پیدا کرنے والے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ ‘تحقیقات کا عمل جاری ہے جس کی گرفت سے کوئی نہیں بچ پائے گا’۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کئی نیوز چینلز پلان کر کے نئے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا میں عوام کو بھی شامل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیوز چینلز کا رپورٹر مہنگائی کے بعد اگلا سوال کرتا ہے کہ بتائیں نیا پاکستان کدھر ہے اور وہ معصوم شہری نئے پاکستان سے متعلق منفی باتیں کرکے چلا جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں کہا تھا کہ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنا دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میرے نزدیگ مدینہ کے ریاستی اصول سامنے تھے جس کی بنیاد پر ملکی نظام تشکیل دینا ہے۔
وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے حکومت کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مدینے کی ریاست کا قیام محض چند دنوں میں نہیں ہوا تھا لیکن ریاست مدینہ کے اصولوں کے تحت پاکستان کو عظیم فلاحی ریاست بنائیں گے۔ علاوہ ازیں عمران خان نے برطانیہ کی ریاست کو فلاحی ریاست قرار دیا جہاں تدریسی اور طبی سمیت متعدد شعبوں میں شہریوں کو ریاست کی طرف سے سہولیات حاصل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پہلی مرتبہ صحت انشورنس کا نظام لائے اور اسی نظام کی بدولت انہوں نے دوسری مرتبہ انتخابی سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف صحت کارڈ کے ذریعے کسی بھی ہسپتال سے علاج کراسکیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں کی نجکاری نہیں کررہے بلکہ انہیں خود مختار بنا رہے ہیں اور مجوزہ اصلاحات کے ذریعے سرکاری انتظامی امور تشکیل پائیں گے جن کا معیار بھی پرائیوٹ ہسپتالوں کی طرح ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل آلات کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کردی ہے تاکہ لوگ ملک میں ہسپتال بنائیں اور معیاری اور سستا علاج فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں شعبہ صحت میں انقلابی تبدیلیاں لارہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 60 ارب کی چیزیں خرید رہے تھے اور 20 ارب روپے کی چیزیں بیچ رہے تھے جس کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھا۔ انہوں نے کہا کہ کہ ہم فلاحی ریاست کے ماڈل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہدایت کی کہ اشیائے خورونوش کا مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے۔ وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر لاہور پہنچے جہاں ان سے وزیراعلی پنجاب نے ملاقات کی جس میں صوبے کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ وزیراعلی نے عمران خان کو مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے اٹھانے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے پنجاب حکومت کو ذخیرہ اندوزوں اور ملاوٹ مافیا کے خلاف آپریشن تیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کی اولین ترجیح عام آدمی کو ارزاں نرخوں پر اشیاء خورونوش کی فراہمی ہے۔عمران خان نے کہا کہ عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے یوٹیلیٹی اسٹورز پر 15 ارب کا پیکج دیا ہے، آٹا اور چینی کی سرکاری قیمتوں پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے، اشیاء خورونوش کا مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے۔
دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے سول سرونٹس سسٹم میں اہم تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے. ترجمان وزیراعظم کے مطابق 20 سال ملازمت مکمل کرنے والے سرکاری ملازمین کے لیے کارکردگی کا جائزہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اصلاحات کے حوالے سے دستاویزات کے مطابق سول سرونٹس کی ترقی اب بہترین کارکردگی کی بنیاد پر ہوگی اور سول سرونٹس کا 20 سال بعد لازمی سروس ریویو ہوگا۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ سینیئر سیکرٹریز اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین پر مشتمل پرفارمنس ایویلیویشن بورڈ بنایا جائے گا جو فیصلہ کرے گا کہ سول سرونٹس کی ملازمت برقرار رہ سکے گی یا نہیں۔دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ بورڈ کے عدم اطمینان کی صورت میں افسر کو ریٹائرڈ کیا جا سکے گا، اے سی آر میں بہتر رینکنگ بھی کارکردگی سے مشروط کر دی گئی ہے۔دستاویز کے مطابق گریڈ 20 اور 21 میں ترقی کے لیے 20 فیصد افسران اہل ہوں گے جبکہ گریڈ 21 میں ترقی کے لیے صوبے سے باہر سروس کرنا ضروری ہوگا، مردوں کو پہلے 5 سال اور خواتین کو 3 سال دوسرے صوبوں میں سروس کرنا ہو گی۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جو سول سرونٹ ایک صوبے میں 10 برس سے زیادہ قیام کرے گا اسے ترقی نہیں ملے گی، گریڈ 19 سے 20 میں ترقی کے لیے افسران کو ہارڈ ایریاز میں سروس لازمی کرنا ہو گی۔
