این اے 75 میں ڈی آر او ، آر او دھاندلی کے ذمہ دار قرار
این اے 75 ڈسکہ میں ضمنی انتخاب کے دوران پولنگ عملے کے غائب ہونے کے معاملے پر انکوائری کمیٹی نے دھاندلی کا ذمہ دار ڈی آر او اور آر او کو قرار دے دیا۔رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اور ریٹرننگ آفیسر کی نااہلی کے باعث ڈسکہ الیکشن سبوتاز ہوا ، نا اہل ڈی آر او اور آر او کو آئندہ کوئی انتظامی پوسٹ نہ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
کمیٹی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریٹرننگ افسران میں بروقت فیصلہ کرنے کا فقدان نظر آیا ، پولنگ کے روز ہونے والے واقعات سے پولیس اور انتظامیہ آگاہ تھی ۔ واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نطر نہیں آئے۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا کرنے میں کوتاہی کی ، الیکشن ڈیوٹی پر مامور محکمہ تعلیم کے ملازمین بھی واقعات میں ملوث نکلے ہیں ، سی ای او ایجوکیشن سیالکوٹ مقبول احمد شاکر بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے۔
مقبول احمد شاکر نے نااہلی اور جانبداری کا مظاہرہ کیا، اس کے خلاف کاروائی کی سفارش کی جاتی ہے ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فرخندہ یاسمین پر اپنے گھر پر غیر قانونی میٹنگ منعقد کرنے کا الزام ثابت ہوا ہے جس کے خلاف فوجداری اور محکمانہ سخت کاروائی کی سفارش کی جاتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پولیس افسران اور اہلکار غیر قانونی سرگرمیوں میں پوری طرح ملوث تھے۔پولیس افسران نے الیکشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔پولیس اور الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے۔
پولیس افسر 20 پریذائیڈنگ افسران کو آر او آفس کے بجائے دوسری جگہ منتقل کر کے دباو کے تحت نتائج تبدیل کرانے میں ملوث پائے گئے ہیں ، پولنگ عملے کے مخلتف مفادات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انکوائری کمیٹی نے تمام ملوث افراد کے خلاف انضباطی کارروائی کی سفارش کی ہے ، پریذائیڈنگ آفیسرز کی جانب سے نامزد پولیس افسران کیخلاف فوجداری کارروائی کی سفارش کی گئی ہے ، 20 متنازعہ پولنگ سٹیشنز پر تعینات پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی محکمانہ کاروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
پریذائیڈنگ افسران سرکاری گاڑی کی بجائے پرائیویٹ کار میں آر آفس کے لیے روانہ ہوئے ، پریذائیڈنگ افسران دوران ڈیوٹی مختلف افراد سے کال پر بات چیت کرتے رہے ، دوران انکوائری بعض افراد نے انکوائری میں تعاون نہیں کیا۔
پریذائیڈنگ افسران انکوائری کے دوران جھوٹ سے کام لیتے رہے ، سی ڈی آر رپورٹ کے حوالہ کے بعد پریذائیڈنگ افسران نے آر او آفس کے بجائے دوسری جگہ جانے کو تسلیم کیا۔
