تین برس میں تیل اور گھی کی قیمت میں 130 فیصداضافہ

وزیراعظم عمران خان کے تین سالہ دور اقتدار کے دوران جہاں مہنگائی نے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں وہیں خوردنی تیل اور گھی کی قیمت میں 130 فیصد کا ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور 160 روپے فی کلو ملنے والا خوردنی تیل آج 370 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے جس سے عام آدمی کے کچن کا بجٹ بھی کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ یاد رہے کہ خوردنی تیل کی قیمتوں میں آخری اضافہ وزیراعظم عمران خان کی تین نومبر کی تقریر کے فوری بعد کیا گیا جس میں انہوں نے عوام کے لئے ایک نام نہاد ریلیف پیکج کا اعلان کیا تھا۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے تین برسوں میں خوردنی تیل کی قیمت 160 روپے سے 370 روپے پر لے جا کر مینوفیکچررز، ہول سیلرز اور مڈل مین نے 170 سے 190 ارب روپے اضافی منافع کمایا ہے، انکا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں 300 بااثر افراد 15 سو ارب روپے کی مجموعی خوردنی تیل کی مارکیٹ پر قابض ہیں جن کے خلاف موجودہ حکومت کوئی بھی کاروائی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے مارچ 2020 میں ایک انکوائری کا حکم دیا تھا لیکن اس معاملے پر ب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی، جب کہ ریگولیٹرز بھی خوردنی تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مینو فیکچررز، ہول سیلرز اور مڈل مین تین برس میں 170 سے 190 ارب روپے اضافی منافع کما چکے ہیں لیکن انہیں روکنے والا کوئی نہیں چونکہ موجودہ حکومت اس حوالے سے کوئی سسٹم بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ چنانچہ تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے اب تک ملک میں خوردنی تیل کی قیمت میں 130 فیصد تک اضافہ ہوا ہے اور یوں اسکی فی کلو قیمت 160 روپے کلو سے 370 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے جس میں مذید اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، خوردنی تیل کی قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے سے مینوفیکچررز، ہول سیلرز اور مڈل مین کو مجموعی طور پر اگست 2018 سے ستمبر، 2021 تک 170 ارب روپے سے 190 ارب روپے تک اضافی منافع حاصل ہوا ہے۔ خوردنی تیل کے درآمدی اخراجات، ٹیکسز/ڈیوٹیز، ریکوری، ٹرانسپورٹ، پیکجنگ، منافع کا فرق اور خوردنی تیل یا گھی کی کوالٹی سے متعلق سرکاری اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً تین سو کے قریب بااثر افراد نے مارکیٹ کے مجموعی 1500 ارب روپے کے منافع کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، نومبر 2019 سے جولائی 2020 اور پھر اکتوبر / دسمبر 2020 سے جون/جولائی، 2021 میں سب سے زیادہ منافع حاصل کیا گیا جب خوردنی تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر بڑی کمی واقع ہوئی تھی۔ لیکن خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ بدستور جاری رہا حالاں کہ پام آئل کی درآمدات پر ڈیوٹی میں بھی جنوری، 2020 سے اپریل 2020 تک کمی کردی گئی تھی۔ نومبر، 2019 سے مارچ 2020 تک خوردنی تیل کی قیمتیں 213 روپے فی لیٹر سے 261 روپے فی لیٹر ہوئی، حالاں کہ عالمی مارکیٹ میں پام آئل کی قیمتیں 750 ڈالرز فی ٹن سے کم ہوکر 518 ڈالرز فی ٹن ہوگئی تھی۔ اس مدت میں مینوفیکچررز نے صارفین کو ریلیف فراہم نہیں کیا حالاں کہ ان کی اوسط پیداواری لاگت 123.5 روپے فی لیٹر سے 166.3 روپے فی لیٹر تک رہی تھی۔ اس طرح انہوں نے ان چھ ماہ میں 98 روپے فی لیٹر سے 116 روپے فی لیٹر منافع کمایا۔ یہ وہ وقت تھا جب وزیراعظم عمران خان نے وزارت صنعت و پیداوار اور مسابقتی کمیشن پاکستان کو ہدایت کی تھی کہ وہ ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی کرے تاکہ کم قیمتوں کا فائدہ صارفین تک منتقل کیا جاسکے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ خوردنی تیل کی صنعت میں ایک گروہ نے 25 ارب روپے سے 30 ارب روپے منافع 2020 کی پہلی سہ ماہی میں حاصل کیا ہے۔ جب کہ وزارت صنعت و پیداوار کے ضمنی ادارے کے داخلی آڈٹ سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ گھی/تیل کو دی گئی سبسڈی سے 69 کروڑ 91 لاکھ 17 ہزار روپے کا خسارہ ہوا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے بھی متعدد اجلاسوں میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں 80 روپے فی کلو تک کمی کی درخواست کی تھی۔ لیکن حکومت نے اس پر کوئی عمل نہیں کیا۔ ایف بی آر ، پرال اور دیگر ریگولیٹرز کے اعدادوشمار سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جنوری، 2019 سے ستمبر، 2021 تک خوردنی تیل سے حاصل مجموعی محصولات 17.3 روپے سے 39.7 روپے فی کلو تک محدود رہے۔ یو اب حکومتی ناکامیوں کا خمیازہ پاکستانی عوام بھگت رہے ہیں
