ایک سے دو دن میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی ہو جائے گی

وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل مکمل ہوچکا اور فیصلہ پیپر پر آنا باقی ہے اور ایک سے دو دن میں فیصلہ ہوجائے گا۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے عمل سے متعلق سوال پر کہا کہ اتنے حساس اور اہمیت کے حامل فیصلے پیپر پر لانے سے پہلے ایک اتفاق رائے ہوتا ہے، اس فیصلے میں مرکزی اختیار آئینی اور قانونی طور پر وزیراعظم کا ہے اور میرا تجزیہ ہے کہ اس پر اتفاق رائے کہہ لیں، وہ حاصل ہوچکا ہے اور یہ چیزیں پیپر پر آنا اور اس پر عمل ہونا ایک رسمی کارروائی رہ جاتی ہے۔
انہوں نے اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے سوال پر کہا کہ مشاورت سے مراد کسی کا اختیار نہیں ہوجاتا ہے، وہ کسی سے بھی پوچھ سکتے ہیں اور جو مختلف چوائسز ہیں، ان کے متعلق وہ معلومات لے سکتے ہیں لیکن بالآخر فیصلہ تو انہوں نے ہی کرنا ہے،اس بارے میں جو بھی حتمی فیصلہ ہوگا وہ وزیراعظم کریں گے جو ان کا آئینی اختیار ہے لیکن کسی مشورہ لینا اور بات کرنا یقیناً آرمی کی قیادت اور سیاسی طور پر اپنے اتحادیوں اور دوسرے لوگوں سے بھی بات کی ہوگی۔
انکا کہناتھایہ کسی کو سرپرائز دینے والی بات تو نہیں ہے لیکن ایسے فیصلے جو بہت ہی اہمیت کے حامل ہوں وہ پیپر پر لانے سے پہلے اتفاق رائے ضروری ہوتی ہے،سیاسی طور پر اور حکومت میں ہوتے ہوئے میرا ذاتی خیال ہے کہ وزیراعظم یہ عمل کرچکے ہیں، آن پیپر آج آجائے، کل آجائے یا آنے والے دو دنوں میں آجائے، اس میں کوئی دیر نہیں ہے۔
وزیر داخلہ نے ایک اورسوال پر کہا کہ میری معلومات کے مطابق وزیراعظم نے خود مشاورت کی ہے اور اسحٰق ڈار سے جہاں کہیں ضرورت تھی وہ ان سے حاصل کی ہے،وزیراعظم صاحب فراش ہیں لیکن اس کے باوجود فاصلے سے اور ٹیلی فون سے ہر کسی سے بات کرسکتے ہیں۔
انہوں نےاتحادیوں کے اتفاق سے متعلق سوال پر کہا کہ میں ایسی کوئی بات نہیں کرنا چاہتا کہ وزیراعظم کے فیصلے کا اعلان ہونے سے پہلے اس پر کسی قسم کا اندازہ یا تجزیہ کیا جاسکے اور ایک ادھ دن کی بات ہے اس لیے ایسے سوالات نہ کریں کہ جس سے خوامخواہ بات چلے کے فلاں ہوسکتا ہے، بہت اہمیت کا معاملہ ہے اور میرا نہیں خیال کہ کوئی زیادہ وقت رہ گیا ہے بلکہ وقت آن پہنچا ہے،میرا خیال اور میری رائے ہے کہ اس معاملے میں ایک ادھ دن سے زیادہ تاخیر مناسب نہیں ہوگی باقی وزیراعظم کی رائے حتمی ہوگی لیکن میرا خیال ہے کہ ایک دو دنوں میں یہ فیصلہ آپ کے سامنے آجائے گا۔
رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے الزامات کے حوالے سے سوال پر کہا کہ ان کو کسی عزت کا خیال اور احساس نہیں ہے، نواز شریف نے کسی کو آرمی چیف تعینات کیا ہے تو بعد میں ہمارا دعویٰ ہے کہ نواز شریف نے کسی آرمی چیف سے یہ باتیں نہیں کیں جو یہ منسوب کر رہے ہیں،جب تمہیں اس بات کی تسلی ہے تو پھر خواہ مخوا ایک عمل کو سبوتاژ کرنے اور ایک آنے والے آدمی کو مشکلات کھڑی کرنے اور دوسروں کے لیے بے عزتی پیدا کرنے کے لیے ایسی بات کیے جارہے ہو۔
دریں اثنا تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لانگ مارچ سے اپنی تقریر میں نواز شریف پر الزام عائد کیا تھا کہ کیا اس کو یہ حق ہونا چاہیے کہ آرمی چیف کس کو بننا چاہیے، مجھے کرپشن کے کیسز سے کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اس (نواز شریف) کو ہے، اس نے اربوں روپے کی چوری کی ہوئی ہے، اس کو ڈر ہے کہ اگر عمران خان آ گیا تو اس کا (نوازشریف) احتساب شروع ہو جائے گا۔
عمران خان کا کہنا تھا میں نہیں کہتا کہ نواز شریف جو بھی آرمی چیف بنائے گا وہ یہ کرے گا یہ نہیں، کیونکہ یہ آرمی چیف بناتا ہے، اسی سے اس کی لڑائی ہو جاتی ہے، آرمی چیف پروفیشنل آرمی کا سربراہ ہے، وہ پنجاب کے آئی جی طرح بن نہیں سکتا، یہ آرمی چیف سے کہے گا کہ پہلے تو کسی نہ کسی طرح عمران خان کو فارغ کرو تاکہ وہ الیکشن نہ لڑے، اس کے بعد اس (نواز شریف) نے کہنا ہے کہ میرے سارے کرپشن کے کیسز ختم کرو۔
