بزنس مینوں کے ہاتھوں بھارتی میڈیا کا جنازہ اٹھنے لگا

پاکستان کے بعد بھارتی مین اسٹریم میڈیا بھی کارپوریٹ یلغار کے آگے بے بس ہونے لگا ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ ایشیا کے امیر ترین اور دنیا کے تیسرے رئیس شخص گوتم اڈانی نے نیو دہلی ٹی وی لمیٹڈ یعنی این ڈی ٹی وی کے 29 فیصد شئیرز خرید لیے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ پچاس فیصد سے زائد شیئرز کا مالک بن جائے گا جسکے بعد پروفیشنل صحافت کا جنازہ اٹھ جائے گا۔ این ڈی ٹی وی مین سٹریم میڈیا میں وہ چینل سمجھا جاتا تھا جو صحافتی اقدار کا خیال رکھتا تھا لیکن اس کے مالکانہ حقوق مودی کے حمایتی دوست گوتم اڈانی کے پاس جانے سے آزادی اظہار رائے کے متوالے فکر مند ہو چکے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایم ڈی ٹی وی سے وابستہ سینئر ترین اینکرز کو استعفے دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ این ڈی ٹی وی کے سب سے مشہور اینکر روش کمار نے بھی بی جے پی کے دباؤپر مزید کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

 

انڈیا میں مین سٹریم میڈیا بالخصوص ہندی میڈیا اس وقت پورے کارپوریٹس کے قبضے میں ہے، حکومت سے سوال کرنے کے بجائے یا حکومت پر تنقید کے بجائے ٹی وی چینلوں پر مذہبی تفرقہ بازی اور پاکستان مخالف پروگرامز چلائے جاتے ہیں، جہاں حکومت سے سوال ہونے چاہئیں وہاں اپوزیشن رہنماؤں پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔ یہ ویسی ہی صورتحال ہے جیسی عمران خان کی حکومت برخاست ہونے سے پہلے پاکستان میں تھی۔ جن جمہوری ممالک میں قانون کی حکمرانی زیادہ مضبوط نہیں ہوتی وہاں ایک طاقتور طبقہ ہوتا ہے جو ریاست کے تمام اداروں پر اپنا مضبوط اثر رسوخ رکھتا ہے۔ دیگر اداروں پر رسوخ کے علاوہ یہ طبقہ میڈیا کو کنٹرول کرتا ہے تاکہ عوام میں اس کے من پسند کا مواد بیچا جائے۔ عدلیہ، سیاستدان، میڈیا اور بیوروکریسی کے بعض لوگ اس مضبوط گروپ کی ایما پر چلتے ہیں۔ اس اچار کو اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے۔

کچھ ممالک میں فوج سب سے زیادہ مضبوط طبقہ ہوتا ہے جو اپنے اثرو رسوخ اور ماضی میں براہ راست سیاست میں شمولیت کی وجہ سے جمہوری اداروں پر اپنی گہری چھاپ رکھتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں اس کی مثال پاکستان ہے جس کی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان پر ہر طرح کے تجربات کرنے کے بعد  حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اب وہ سیاسی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرے گی۔ انڈیا میں کارپوریٹ سیکٹر میں اڈانی اور امبانی سر فہرست ہیں، اور وہاں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ امبانی اور اڈانی ریاست گجرات سے تعلق رکھتے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کا تعلق بھی گجرات سے ہے۔ امبانی اور اڈانی دراصل نریندر مودی اور ان کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کے کافی قریب سمجھے جاتے ہیں۔ 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کے زیادہ تر وسائل پر کارپوریٹ کا قبضہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

 

ساری دنیا میں میڈیا وہ ادارہ ہے جس سے  توقع کی جاتی ہے کہ وہ سرکار اور کاروبار کی ملی بھگت کو عوام میں بے نقاب کرے، لیکن پاکستان کے بعد اب انڈیا میں بھی میڈیا انڈسٹری کارپوریٹس کے رحم و کرم پر ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت پاکستان میں بھی زیادہ تر ٹی وی چینلز اور اخبارات کے مالک یا تو بیکری فروش ہیں یا سگریٹ فروش، کچھ گھی بیچتے ہیں تو کچھ تعلیم فروشی کے دھندے سے وابستہ ہیں چنانچہ میڈیا انڈسٹری میں آنے کا بنیادی مقصد اپنے کاروبار کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اب یہی صورت حال بھارت میں بھی فروغ پا رہی ہے۔

 

2014 کے بعد سے جب مین سٹریم میڈیا پر عوام سے حقائق چھپائے جانے لگے تو این ڈی ٹی بالخصوص روش کمار اس خلا کو پر کرتے نظر آتے تھے۔ پچھلے آٹھ سالوں سے بے باک صحافت اور عوامی مؤقف رکھنے والے روش کمار کو ہی این ڈی ٹی وی کی آواز سمجھا جاتا تھا۔

روش کمار مین سٹریم میڈیا کے وہ واحد صحافی ہیں جنہوں نے پرائم ٹائم میں ہمیشہ اہم معاملوں کو بحث کا موضوع بنایا جن میں مہنگائی، بےروزگاری اور مختلف ضروری موضوعات پر ارباب اقتدار سے سخت سوالات کیے۔ سخت سوالات کی پاداش میں انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سوشل میڈیا ٹرولرز جنہیں اندھ بھکت بھی کہا جاتا ہے کی طرف سے خوب ٹرول کیا گیا۔ ان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں تک ملیں۔ ان میں بعض وہ لوگ بھی شامل تھے جنہیں نریندر مودی نے ٹوئٹر پر فالو کر رکھا ہے۔ این ڈی ٹی وی سے مستعفی ہو جانے والے روش کمار کہتے ہیں کہ ’ساری جنگیں جیتنے کے لیے نہیں لڑی جاتیں میں اس لیے ڈٹ کے کھڑا ہوں تاکہ جب مورخ تاریخ لکھے تو وہ یہ نہ لکھے کہ سارا میڈیا ہی مودی کے سامنے سر نگوں تھا۔‘

 

یاد رہے کہ این ڈی ٹی وی واحد وہ چینل تھا جہاں صحافتی اقدار کا کچھ خیال تھا۔ آٹھ سالوں میں مین سٹریم میڈیا نے صحافتی اقدار کے بجائے حکومت کی دلالی کا کام کیا ہے۔ روش کمار نے اس میڈیا کے لیے گودی میڈیا کی اصطلاح دی جو انڈیا میں کافی مقبول ہے۔ گودی کا مطلب ہے کہ سرکار کی جھولی میں بیٹھ کر صحافت کرنا یعنی ان موضوعات پر بات کرنا جو حکومت کے مفاد میں ہوں۔ اور ’سب اچھا ہے‘ کے مصداق حکومتی ناقص کارکردگی پر پردہ ڈالنا اور ایشوز سے شاطری کے ساتھ دوسری طرف توجہ موڑ دینا انڈین ہندی میڈیا کا شیوہ بن چکا ہے۔

 

انڈیا میں میڈیا اس قدر بے حس ہو چکا ہے کہ ٹی وی چینلوں پر  بےروزگاری، مہنگائی، غربت جیسے اہم موضوعات کو جگہ دینے کے بجائے مذہبی منافرت اور پاکستان مخالف پروگراموں کو جگہ دی جاتی ہے تاکہ عوام حقیقی مسائل سے ناآشنا رہیں۔ ان پر پورے کا پورا پرائم ٹائم صرف کیا جاتا ہے اور عوام میں نفرت بیچی جاتی ہے۔ مین سٹریم میڈیا کے حکومتی گود میں بیٹھنے کے بعد کارپوریٹ سے آزاد ڈیجیٹل میڈیا کے کچھ فلیٹ فارمز نے لوگوں تک حقائق پہنچانے کی ذمہ داری لی ہے۔ لیکن انڈیا میں عوام کی اکثریت پرنٹ و ڈیجیٹل میڈیا کے مقابلے میں ٹی وی چینلوں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اور ان ٹی وی چینلوں پر کاروبار قابض ہے اور اسی کی ایما پر کام کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ انڈیا کا میڈیا کی آزادی کے حوالے سے عالمی رینک 180 ممالک میں 150 نمبر پر ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔

Back to top button