’’بشریٰ انصاری طلاقوں والے ڈراموں کی بھرمار سے ناراض‘‘

معروف اداکارہ بشریٰ انصاری نے انکشاف کیا ہے کہ ٹی وی سکرین پر ہر طرف طلاقوں والے ڈراموں نے دھوم مچا رکھی ہے، جس سے نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، سینئر اداکارہ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ڈراموں کے نام رکھتے وقت بہت غور کیا جاتا تھا اور بڑی سوچ سمجھ کے بعد نام فائنل کیا جاتا تھا، اداکارہ کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں انہیں ڈراموں، ان کی کہانیوں، کرداروں اور ان کے ناموں پر بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، مختصر ویڈیو میں بشریٰ انصاری بتاتی ہیں کہ ماضی میں جب ڈراموں کا اچھا دور تھا تب کہانی اور کرداروں کی مناسبت سے بڑی سوچ کے بعد ڈراموں کا نام رکھا جاتا تھا، ماضی میں ڈرامے کے نام کا ڈرامے کی کہانی، کرداروں اور مناظر سے بڑا تعلق ہوا کرتا تھا لیکن پھر ایک دور آیا کہ ڈراموں کے نام مختلف رکھے جانے لگے، سینئر اداکارہ کا کہنا تھا کہ ڈراموں کے عجیب نام رکھنے کا دور آیا ہوا ہے اور چل رہا ہے اور کچھ ڈراموں کے نام تو اتنے عجیب ہوتے ہیں کہ خدا معاف کرے، انہوں نے نشاندہی کی کہ عام طور پر ڈراموں کے عجیب نام خواتین کے حوالے سے رکھے جاتے ہیں، جیسے کلموہی، بدنصیب، تنو اور مجھے طلاق دے دو، مجھے طلاق چاہئے، مجھے بیٹا چاہئے اور مجھے طلاق مل گئی ہے، انہوں نے عجیب عجیب ناموں والے ڈرامے دیکھے ہیں اور یہ کہ وہ اگر ڈراموں کے ناموں پر بات کر رہی ہیں تو انہیں ایسا سمجھا جائے گا کہ وہ کسی مدہ خارج مسئلے پر بات کر رہی ہیں۔واضح رہے کہ بشریٰ انصاری نے اپنے باقاعدہ کریئر کا آغاز 1978 میں پی ٹی وی کے مزاحیہ ڈرامے ففٹی ففٹی سے کیا تھا۔ اُس کے بعد اُنھوں نے کئی ڈراموں اور فلموں میں کام کیا، جس میں کبھی سنجیدہ تو کبھی مزاحیہ کردار شامل تھے۔ اس کے علاوہ وقت کے ساتھ وہ مختلف میوزک ویڈیوز میں بھی نظر آتی رہتی ہیں۔
