بشریٰ بی بی نے عمران خان کو کس بلا سے بچایا؟

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہےکہ میری اہلیہ بشریٰ بی بی میری دوست اور ہمسفر ہیں۔ اگر وہ میرے ساتھ نہ ہوتیں تو میرا بچاؤ نہیں ہو سکتا تھا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جرمن جریدے دیر اسپیگل کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا اور کہا کہ صرف ایک احمق اپنی بیوی کے ساتھ ہر معاملے پر بات نہیں کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ہر معاملے پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور حکومت اور سیاسی معاملات میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ان پر بھی اہلیہ سےمشورہ کرتے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ ان کی دوست اور ساتھی ہیں اور وہ نہ ہوتیں تو انکا بچنا ممکن نہیں تھا۔
خیال رہے کہ 2018 میں عمران خان نے اپنی روحانی مرشد بشریٰ بی بی المعروف پنکی کے ساتھ انتہائی خاموشی سے شادی کرلی تھی۔ یہ عمران خان کی تیسری جبکہ بشریٰ بی بی کی دوسری شادی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو بتایا تھا کہ ان کے روحانی علم کے مطابق اگر دونوں کی شادی ہو جائے تو نہ صرف کپتان اپنے سیاسی حریفوں کو پچھاڑ دیں گے بلکہ 2018 کا الیکشن جیت کر وزیراعظم بھی بن سکتے ہیں اور پھر ایسا ہی ہوا۔ اس معاملے سے آگاہ ذرائع کا دعویٰ تھا کہ دوسری جانب یہ راستہ ہموار کرنے کیلئے پنکی پیرنی نے اپنے پہلے شوہر کو کہا تھا کہ انہیں روحانی طور پر مرشد کی جانب سے حکم ہوا ہے کہ وہ ان سے الگ ہوجائیں۔اسی تناظر میں بشریٰ بی بی نے اپنے پہلے شوہر سے خلع لی۔ عمران خان کے قریبی رفقا کے مطابق کپتان کو بشریٰ بی بی کے روحانی مشوروں پر اتنا یقین ہے کہ کہ شادی سے پہلے بھی وہ جب بھی کسی مصیبت میں پھنسے تو فوری پاکپتن کا رخ کیا۔کپتان نے اپنے دائیں ہاتھ کی چھنگلی میں عقیق احمر جڑی چاندی کی انگوٹھی بھی بشریٰ بی بی کی ہدایت پر پہن رکھی ہے۔ اس انگوٹھی پر کچھ وظائف بھی کندہ ہیں جو نحواست دور کرنے کیلئے بشریٰ بی بی نے تجویز کئے تھے اور ان کا دعویٰ تھا کہ اس انگوٹھی کی موجودگی میں عمران خان پر ہر قسم کا جادو ٹونا بے اثر رہے گا۔ کپتان نے یہ انگوٹھی اس وقت پہنی تھی جب پیرنی نے انہیں بتایا تھا کہ ان پر جادو ٹونا کیا گیا ہے۔ خاص طور پر بنی گالہ میں واقع عمران خان کے گھر کے کچن اور فارم میں آسیبی سایوں اور جادوئی اثرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس جادو کے توڑ کیلئے بشریٰ بی بی نے کپتان کی رہائش گاہ پر قیام بھی کیا تھا، وہ روز عمران خان پر دم بھی کرتی تھیں۔ دو سال قبل شادی کے بعد سے بشریٰ بی بی زیادہ تر بنی گالہ میں عمران خان کے ساتھ قیام کرتی ہیں اس لئے کپتان کا کہنا درست معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر معاملے میں نہ صرف اپنی اہلیہ کے ساتھ مشورہ کرتے ہیں بلکہ ان پر عمل بھی کرتے ہیں۔
تحریک انصاف کے حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ عمران خان کے بہت سارے قریبی ساتھیوں کی شادی کے بعد سے ان سے دور ہونے کی وجہ بشریٰ بی بی کے مشورے ہی ہیں۔ بشریٰ بی بی کے ایسے متاثرین میں سے ایک بڑا نام عمران خان کے سابقہ دست راست اور انکی اے ٹی ایم کہلائے جانے والے جہانگیر ترین کا بھی ہے۔
