بشریٰ طلاق کے بعد بھی "بشریٰ انصاری” کیوں ہے؟

بالآخر پہلی شادی کے 40 سال بعد بشریٰ انصاری کو طلاق اور اقبال حسین کے ساتھ دوسری شادی راس آگئی۔ کہا جاتا ہے کہ اقبال حسین نے بشریٰ کو کنوینس کرنے کے لئے ایک لمبا عرصہ پاپڑ بیلے ہیں، تب کہیں جا کر بشریٰ نے حامی بھری ہے۔ تاہم ان کی شادی شدہ زندگی کے اڑھائی تین سال گواہ ہیں کہ بشریٰ نے گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔ اقبال حسین اپنی نئی بیگم کی پرسنل ہی نہیں، پروفیشنل زندگی کے لئے بھی "لکی” ثابت ہوئے ہیں۔ پاک بھارت تعلقات پر نیلم احمد بشیر کے بشریٰ اور اسماء عباس کے لئے لکھے گئے بلاک بسٹر گانے "گوانڈنے گوانڈنے” سے لے کر بشریٰ انصاری کی تحریر کردہ سیریل "زیبائش” تک، سبھی میں اقبال حسین ہی کے تخلیقی ذہن نے رنگ بھرے ہیں۔ اگرچہ اقبال حسین بشریٰ ہی کے فلیٹ میں رہتے ہیں لیکن اقبال انصاری کی طرح دن رات بشریٰ کی حیثیت سے وجود سے انکاری نہیں۔ وہ جیسا کہتے تھے، بشریٰ کو اس سے کہیں بڑھ کرعزت دیتے ہیں۔
اب انھوں نے اس بات کی پرواہ کرنا بھی چھوڑ دیا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ دراصل جن لوگوں نے بشریٰ جیسی حساس اور لیجنڈ فنکارہ کو ہمیشہ قہقہے بکھیرتے ہی دیکھا ہے، وہ نہیں جانتے کہ بشریٰ نے اپنی زندگی کے کئی خوبصورت اور قیمتی سال اپنی ذات کی نفی میں گزارے ہیں۔ ان کے قریبی دوست بہروز سبزواری، روبینہ اشرف، بدر خلیل اور جاوید شیخ یہ گواہی دیں گے کہ شوہر اور بچوں کی خاطر انھوں نے اپنی ہر خوشی تج دی تھی۔ ذرا سوچیئے! جس شخص نے شادی کے چند سال بعد ہی لالچ اور خود غرضی کا لبادہ اوڑھ لیا ہو، جو بیوی کو جیتی جاگتی انسان کی بجائے پیسے بنانے والی مشین سمجھ بیٹھا ہو، بیوی کی ہر بات میں کیڑے نکالتا ہو اور جو صرف خود کوعقلِ کل سمجھتا ہو۔۔۔ ایسے شخص کے ساتھ کوئی 40 لمحے نہیں گزار سکتا، بشریٰ نے تو 40 سال گزار دیئے۔ ان 40 سالوں میں بشریٰ کی فیملی اور دوستوں نے انھیں بارہا ٹوٹتے دیکھا، بظاہر وہ شادی شدہ تھیں لیکن کسی کو یہ علم نہیں تھا کہ اقبال انصاری صرف نام کے شوہر ہیں، گھر کے اخراجات سے لے کر بشریٰ کی ضرورتوں تک، انھوں نے کبھی بشریٰ کو ایک پیسہ نہیں دیا۔ البتہ وہ یہ حساب ضرور رکھتے تھے کہ کہیں بشریٰ فضول خرچی تو نہیں کر رہی؟ دونوں کے بیچ جذباتی اور مالی رشتہ تو جنموں سے ختم ہو چکا تھا۔۔۔
بشریٰ اور اقبال انصاری میں فاصلے جب حد سے بڑھنے لگے تو بشریٰ نے اپنے والد سے شکایت کی، یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کے والد معروف صحافی اور لکھاری احمد بشیر ابھی زندہ تھے۔ بشریٰ اکثر کہتیں کہ اس رشتے کا طوق اگر یونہی ان کے گلے میں لٹکتا رہا تو ان کا دم گھٹ جائے گا لیکن پھر اپنے والد کے سمجھانے بجھانے پر راضی ہو جاتیں۔ اقبال انصاری بھی ان کے والد کے قدموں میں بیٹھ جاتے اور قسمیں کھا کر اپنی وفاداری کا یقین دلاتے۔ خیر بشریٰ خود بھی کوئی انتہائی قدم اٹھانے سے گریز کر رہی تھیں، وہ چاہتی تھیں کہ کچھ ضروری فرض ادا ہو جائیں، ان کی بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو جائیں۔ فنکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہرحال وہ ایک ماں بھی تھیں۔ جیسے ہی نریمان اور میرا کی گریجوایشن مکمل ہوئی، بشریٰ نے فوراً ان کی شادیاں کر دیں۔ اب وہ اپنی گھٹن زدہ زندگی سے پیچھا چُھڑا سکتی تھیں۔ بشریٰ جو سوچ رہی تھیں، وہ نہ تو غیر سماجی اور نہ ہی غیر شرعی عمل تھا۔ پھر وہ مرحلہ بھی آیا جب ان کے سامنے دو راستے تھے کہ یا تو زندگی کو جیسے تیسے گزار لیں اور یا اس طوق کو گلے سے اُتار کر اپنی من چاہی دنیا میں لوٹ جائیں۔ اسے قسمت کہیں یا کچھ اور کہ انہی دنوں اقبال حسین کی انٹری ہوئی۔۔۔ بشریٰ کے ایک دو پراجیکٹ تھے، جنھیں وہ ڈائریکٹ کر رہے تھے۔ عمروں کے واضح فرق کے باوجود دونوں کی کیمسٹری میچ کرنے لگی۔ بشریٰ نے ویسے بھی شوہر سے علیحدگی اختیار کی ہوئی تھی، اور اقبال حسین اسی دوران ان کے کافی قریب آ چکے تھے۔ وہ نہ صرف بشریٰ کا احترام کرتے بلکہ ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا خیال بھی رکھتے۔ بشریٰ کو کبھی کبھی تو ایسا لگتا جیسے ان کی زندگی میں اسی ایک شخص کی کمی تھی۔ بشریٰ جیسی سمجھدار اور "سینس ایبل” خاتون کے لئے اقبال حسین سے شادی کا فیصلہ آسان نہیں تھا، تاہم فیملی، بیٹیوں اور دوستوں کے اعتماد نے اسے آسان بنا دیا۔ بشریٰ مصلحتاً اپنی شادی کو پبلک نہیں کر رہیں یا اسے وہ اپنا نجی معاملہ سمجھتی ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اقبال حسین کے ساتھ وہ بہت خوش ہیں۔۔۔ سوشل میڈیا پر، مختلف تقریبات میں، ٹی وی ٹاک شوز کے دوران، آپ نے یقیناً نوٹ کیا ہو گا کہ بشریٰ کتنی مطمعن اور کِھلی کِھلی نطر آتی ہیں۔ یہ سب ان کی زندگی میں آنے والے نئے اقبال ہی کا تو کرشمہ ہے، جو احتراماً اپنی بیوی کو "مادام” کہہ کر بُلاتے ہیں۔ یہاں تک تو کہانی میں کوئی ٹوئسٹ نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اقبال انصاری اگر بشریٰ کی زندگی سے نکل چکے ہیں تو وہ اب تک "بشریٰ انصاری” کیوں کہلاتی ہیں؟ دراصل بشریٰ کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جو اندرون ملک ہی نہیں، بیرون ملک بھی ایک نمایاں شناخت رکھتے ہیں۔۔۔ نہ صرف فن کی دنیا میں بلکہ اپنے تمام ڈاکیومنٹس میں بھی وہ بشریٰ انصاری کے ٹائٹل سے جانی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فی الحال انھوں نے اپنا نام چینج کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔ ویسے بشریٰ کا تعلق بھی اسی سکول آف تھاٹ سے ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ لڑکیوں کو شادی کے بعد والد کے نام کی جگہ شوہر کا نام استعمال نہیں کرنا چاہیئے!!
حال ہی میں جب ان کے والد احمد بشیر کو ٹریبیوٹ پیش کیا گیا تو بھائی ہمایوں، سنبل اور نیلم بشیر کے علاوہ بشریٰ اور ان کی بیٹی نریمان بھی موجود تھیں۔ بشریٰ نے گفتگو کے دوران اپنے مؤقف کو ایک بار پھر دُہرایا اور کہا کہ “آج کل کی لڑکیاں سمجھدار ہیں جو اپنے والد کے نام کو ہمیشہ ساتھ رکھتی ہیں جیسے نریمان اور میرا کی شادی ہو چکی ہے لیکن ان کے ناموں کے ساتھ انصاری ہی جُڑا ہے۔ ہم بہنوں کی بھی اچھی خاصی پہچان تھی، نیلم بشیر، سنبل بشیر، بشریٰ بشیر اور قُلزم بشیر ( اسماء کا اصل نام ) یہ تو ہم لڑکیوں کا پتا نہیں کیا رومانس ہوتا کہ شادی کے بعد مسز رشید اور مسز حمید ہی کہلانا ہے؟ بہرحال مجھے فخر ہے کہ میرے آئی ڈی کارڈ پر میرا نام بشریٰ بشیر ہی درج ہے” اب دیکھنا یہ ہے کہ دیگر ڈاکیومنٹس پر بشریٰ بشیر کب بشریٰ انصاری کی جگہ لیں گی؟؟
