بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ کیوں؟

یوں تو بلوچستان میں شورش تین دہائیوں سے جاری ہے۔ لیکن بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کی طرف سے فورسز پر حملوں میں اُتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ تاہم ہر گزرتے دن کے ساتھ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں 2023 کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مجموعی طور پر ایک ماہ کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ، حملوں، دھماکوں اور سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے دوران 9 سیکیورٹی اہلکاروں نے وطن عزیز پر جان نچھاور کر دی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان میں یک دم سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں خود کو منظم کرنے کا سلسلہ پھر سے شروع کر دیا ہے۔ ٹی ٹی پی کی اس تنظیم سازی کی دوران بلوچستان مکران ڈویژن سے گزشتہ برس بلوچ علیحدگی پسند نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے کالعدم ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی کے جاری کردہ بیان کے مطابق بلوچستان کے مکران ڈویژن سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے مزار بلوچ کی سربراہی میں ٹی ٹی پی کے امیر ابو منصور عاصم مفتی نور ولی کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی بی ایل اے نے بھی 2018 کے بعد خود کو جدید طرز پر تیار کیا ہے۔ 2 سال کے دوران 2 خاتون خود کش حملہ آوروں نے فدائی حملے کیے جبکہ بی ایل اے کے ایک بیان کے مطابق 100 سے زائد نئے فدائیوں نے بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی ہے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔
دفاعی ماہرین کا موقف ہے کہ بلوچ کالعدم تنظیموں اور تحریک طالبان نے ماضی کی نسبت اپنی کارروائیوں میں شدت لاتے ہوئے سیکیورٹی کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ جس سے دہشت گرد یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ سیکیورٹی فورسز عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوتے جا رہی ہیں۔ دوسری جانب سیکیورٹی پر حملوں سے یہ تاثر بھی عام ہو رہا ہے کہ صوبہ بین الااقوامی سرمایہ کاری کے لیے سازگار نہیں اور سی پیک جیسے منصوبے سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے پائے تکمیل تک نہیں پہنچ سکیں گے۔
تجزیہ کار اور سینئر صحافی فخر کاکا خیل کہتے ہیں کہ بلوچستان میں کچھ عرصے کے دوران دو خواتین کی جانب سے خودکش حملوں کے باعث بظاہر صورتِ حال خراب نظر آتی ہے۔ان کے بقول "اس سے زیادہ نقصانات کا امکان تو فی الوقت نظر نہیں آتا لیکن اس کی علامتی اہمیت زیادہ ہے اور اس سے مزید بھرتیوں میں تیزی آ سکتی ہے۔”
بلوچستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کہتے ہیں کہ کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) کے مجید بریگیڈ نے خواتین خود کش حملہ آوروں کا ایک اسکواڈ بنا رکھا ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ کراچی یونیورسٹی میں چینی اساتذہ پر حملے کے بعد گمان یہی تھا کہ اب کوئی اور خاتون خود کش حملہ آور سامنے نہیں آئے گی۔ لیکن تربت میں پولیس وین کے قریب خود کش حملہ کرنے والی سمیعہ بلوچ کے واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزید خواتین بھی اس اسکواڈ میں شامل ہو رہی ہیں۔
کیا بلوچستان میں کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کا الحاق بڑا خطرہ ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فخر کاکا خیل کہتے ہیں جنگجوؤں نے جب افغانستان میں پناہ لی تو اس وقت وہاں پہلے سے موجود بلوچ مزاحمت کاروں سے ان کے رابطے بحال ہوئے۔اُن کے بقول بلوچ مزاحمت کاروں کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف کاروائیوں کے لیے اسلحہ، تربیت اور افرادی قوت کی ضرورت تھی جب کہ تحریک طالبان کو بلوچستان میں سہولت کاروں کی اس لیے دونوں کا ملاپ یقینی ہوا۔
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی شورش کا حل کیا ہے؟شہزادہ ذوالفقار کے مطابق جب تک بلوچستان میں پائیدار امن کی کوششیں نہ کی جائیں اسی طرح دونوں طرف سے لوگ مارے جاتے رہیں گے۔ان کے مطابق اس کے زیادہ ذمے دار وہ لوگ ہیں جو پارلیمان میں بیٹھے ہیں اور مراعات لے رہے ہیں، لیکن صوبے کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کرتے۔
فخر کاکا خیل کے بقول بلوچستان میں دہشت گردی کےخدشات پہلے سے موجود تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پہلے سے احساس تھا، اس لیے وقتاً فوقتاً بلوچستان میں عسکریت پسندی کے خلاف کامیاب آپریشن کیے گئے۔اُن کے بقول افغانستان سے امریکی انخلا اور طالبان کے کنٹرول کے بعد حالات نے جس تیزی سے پلٹا کھایا، بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔
خیال رہے کہ رواں برس پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 79 فی صد اضافہ ہوا ہے۔’پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹیڈیز کی رپورٹ کے مطابق سال 2023 کے پہلے چھ ماہ کے دوران دہشت گردی کے 271 واقعات میں 389 افراد جان کی بازی ہار گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 151 حملوں میں 293 افراد ہلاک ہوئے تھے۔چھ ماہ کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں میں 236 دہشت گردوں کو ہلاک جب کہ 295 کو حراست میں لیا۔سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ خیبرپختونخوا رہا، جہاں دہشت گردی کے 174 واقعات ہوئے جن میں 266 ہلاکتیں ہوئیں۔بلوچستان میں 2023 کی پہلی ششماہی میں دہشت گردی کے 75 واقعات رپورٹ ہوئے جن کے نتیجے میں 100 افراد مارے گئے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران دہشت گردی کے حملوں میں پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 103 فی صد اضافہ ہوا۔بلوچستان میں رواں برس کی پہلی ششماہی میں گزشتہ سال کی پہلی اور دوسری ششماہی کے مقابلے میں جانی نقصان میں بالترتیب 61 فی صد اور 64 فی صد اضافہ ہوا ہے۔
